مولانا جلال الدین رومی (وفات: 1273ء) نے اپنی مشہور ’’مثنوی‘‘ جس زمانے میں لکھی، وہ تمثیلی اسلوب کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں عام طورپر یہی اسلوب رائج تھا، یعنی اپنی بات کو فرضی مثالوں اور فرضی کہانیوں کی زبان میں بیان کرنا۔ اِسی زمانی اثر کے تحت، مولانا رومی نے اپنی مثنوی تمثیلی اسلوب کے تحت لکھی۔ تمثیلی ادب کا یہ اسلوب نیوٹن (وفات: 1727ء) کے ظہور کے بعد ختم ہوگیا۔ موجودہ زمانے میں تمثیل کا اسلوب ایک غیر علمی اسلوب سمجھا جاتا ہے، علمی اعتبار سے وہ کوئی معتبر اسلوب نہیں۔
مسلمانوں کے ساتھ یہ حادثہ ہوا کہ وہ عہد کی اِس تبدیلی سے بے بہرہ رہے اور اِس بنا پر قدیم زمانے میں مثنوی مولانا روم جس طرح اُن کے یہاں عمومی طورپر رائج تھی، اُسی طرح بعد کے زمانے میں بھی وہ ان کے درمیان رائج رہی۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں جدید علمی اسلوب فروغ نہ پاسکا۔ چناں چہ آج بھی اُن کی تقریروتحریر میں مثنوی مولانا روم کے اشعار اِس طرح نقل کئے جاتے ہیں جیسے کہ وہ ایک مستند علمی بیان کی حیثیت رکھتے ہوں۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اسلوبِ کلام کا براہِ راست تعلق متکلم کے طرزِ فکر سے ہے۔ متکلم اگر فرضی کہانیوں اور غیر واقعی مثالوں کے ذریعے اپنی بات کہنے کا عادی ہو تو اس کی سوچ بھی اِسی قسم کی غیرواقعی سوچ بن جائے گی۔ وہ مفروضات اور یقینیات میں فرق نہ کرسکے گا۔ وہ خیالی تمثیلات کی بنیاد پر ایک بات کہے گا اور یہ سمجھے گا کہ اُس نے جو بات کہی ہے، وہ حقائق کی بنیاد پر قائم ہے۔ اس کے اندر مبنی بر حقیقت تفکیر (realistic approach) کا ارتقا نہ ہوسکے گا۔ وہ شاعرانہ تخئیل اور مبنی بر حقیقت تفکیرکے فرق کو سمجھنے سے قاصر رہے گا۔
اِس طرزِ فکر کا مزید نقصان یہ ہوگا کہ ایسا آدمی زندگی کے معاملات میں حقیقت پسندانہ رائے قائم نہ کرسکے گا۔ اس کی منصوبہ بندی جذبات پر مبنی ہوگی، نہ کہ عقل و خرد کی بنیاد پر۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسے لوگوں کا کیس فکر اور عمل دونوں اعتبار سے صرف تباہی کا کیس بن کر رہ جائے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.