قرآن کی سورہ الحدیدمیں امت کے عروج وزوال کا قانون بتایا گیا ہے۔ اِس سلسلے میں دو متعلق آیتوں کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: ’’کیا ایمان والوں کے لیے وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے اور اُس حق کے آگے جھک جائیں جو نازل ہوچکا ہے۔ اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر اُن پر لمبی مدت گزر گئی تو اُن کے دل سخت ہوگئے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندگی دیتا ہے اُس کے مردہ ہونے کے بعد۔ ہم نے تمھارے لیے نشانیاں بیان کردی ہیں، تاکہ تم سمجھو‘‘۔ (57: 16-17)
اِن آیات میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے، مگر عجیب بات ہے کہ قرآن کے مفسرین میں سے غالباً کوئی بھی اس مفہوم کو واضح نہ کرسکا۔ مثال کے طورپر سید قطب (وفات:1966 ) نے اِس آیت کی تفسیر میں لکھاہے: ولا بدّ من الیقظۃ الدائمۃ کی لا یصیبہ التبلّد والقساوۃ (فی ظلال القرآن، جلد 6، صفحہ 3489) یعنی لازم ہے کہ قلب دائمی طورپر بیدار رہے، تاکہ اس کے اندر سستی اور بے حسی نہ پیدا ہو۔ یہ تفسیر بلا شبہہ خلافِ فطرت ہے۔ اِس تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ امت پر دورِ زوال نہ آنے پائے، حالاں کہ دورِ زوال کا آنا ایک فطری تقاضا ہے، کوئی بھی امت اس سے مستثنیٰ نہیں، نہ یہود اور نہ مسلمان۔اِن آیتوں میں دراصل فطرت کے اُس قانون کو بتایا گیا ہے جس کو ڈی جنریشن (degeneration) کہاجاتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کی بعد کی نسلوں میں قساوت کی وہی کمزوری پوری طرح آجائے گی جو اِس سے پہلے یہود کے اندر آچکی ہے۔ اِس کے بعد تمثیل کی زبان میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب ایسا ہو تو علمائِ امت کو کیا کرنا چاہیے۔ ان کو وہی کرنا چاہیے جو کسان اپنی بنجر زمین پر کرتا ہے۔ وہ پہلے زمین کو تیار کرتا ہے، اس کے بعد وہ اس میں بیج ڈالتا ہے۔ اِسی طرح علماء اور مصلحین کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ پہلے امت کے اندر شعوری بیداری لائیں اور اس کے بعد عملی پروگرام کا نفاذ کریں۔ زوال کے بعد یہی صحیح نقطہ آغاز (starting point) ہے۔
شعوری بیداری کے بغیر عملی پروگرام کا نفاذ کبھی نتیجہ خیز (result-oriented)نہیں ہوسکتا۔ شعوری بیداری کیا ہے۔ شعوری بیداری کا مطلب ہے — امت کے افراد کے لیے اسلام کو اُن کی ری ڈسکوری (re-discovery) بنانا، ان کے اندر فکری انقلاب لانا، ان کے سامنے اسلام کی تعلیمات کو اِس طرح پیش کرنا جو اُن کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو، جو اُن کی بے حسی (قساوت) کو دوبارہ حساسیت میں تبدیل کردے۔
مثال کے طورپر مسلمانوں کی موجودہ نسلوں میں عام طورپر زوال کی وہی حالت طاری ہوچکی ہے جس کا ذکر قرآن کی مذکورہ آیت میں کیاگیا ہے۔ اِس کا سبب کیا ہے۔ اِس کا سبب بنیادی طورپر یہ ہے کہ موجودہ زمانہ عقل (reason) کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے کا انسان کسی بات کو صرف اُس وقت سمجھ پاتاہے جب کہ وہ اس کو ریزن آؤٹ (reason out) کرسکے۔ اِس کے بغیر وہ اُس بات کا عصری ریلیونس (contemporary relevance) دریافت نہیں کر پاتا، اِس لیے وہ زندہ شعور کے ساتھ اُس کو اخذ (grasp)بھی نہیں کرپاتا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ قدیم زمانے میں جو کتابیں لکھی گئیں، وہ سب روایتی اسلوب میں تھیں، جب کہ موجودہ ذہن سائنٹفک ذہن ہے۔ اِس بنا پر قدیم روایتی لٹریچر جدید ذہن کو اپیل نہیں کرتا۔ ایسا لٹریچر جدید ذہن کو ایک غیر متعلق لٹریچر نظر آتا ہے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے فکری زوال کا اصل سبب یہی ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلم دنیا میں سیکڑوں بڑی بڑی تحریکیں اٹھیں، لیکن وہ زوال یافتہ امت کو دوبارہ زندہ امت نہ بنا سکیں۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ اِن تحریکوں نے مسلمانوں کو روایتی اسلوب میں خطاب کیا، وہ عصری اسلوب میں اُن کو خطاب نہ کرسکیں۔ انھوں نے ذہنی انقلاب کے بغیر امت کے سامنے عملی پروگرام پیش کردیا۔ اِس قسم کا طریقِ کار یقینی طور پر بے نتیجہ ہونے والا تھا، کیوں کہ یہ گھوڑے کے آگے گاڑی رکھنا (putting the cart before the horse) کا معاملہ تھا۔ فطری قانون کے مطابق، اِس طریقِ کار کے لیے یہی مقدر تھا کہ وہ عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔