Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2011
Al-Risala July 2011

متبادل نظام

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ الحج میں ارشاد ہوا ہے: الذین إن مکّنّاہم فی الأرض أقاموا الصلوٰۃ، واٰتوا الزکاۃَ، وأمروا بالمعروف، ونہوا عن المنکر، وللہ عاقبۃ الأمور(22: 41) یعنی اہلِ ایمان کو اگر ہم زمین میں غلبہ دیں تو وہ نماز قائم کریں گے، اور زکات ادا کریں گے، وہ معروف کا حکم دیں گے، اور منکر سے روکیں گے، اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت میں اہلِ اسلام کی اُس حالت کا بیان ہے جس کو سیاسی اقتدار کہاجاتا ہے۔ لیکن اِس آیت کے مطابق، یہ لوگ سیاسی اقتدار پاکر جو کام انجام دیں گے، وہ عین وہی کام ہے جس کو وہ سیاسی اقتدار سے پہلے بھی انجام دے رہے تھے، یعنی نماز کی اقامت، زکات کو ادا کرنا اور لوگوں کو برائی سے روکنا اور انھیں بھلائی کی تلقین کرنا۔ یہ سب وہی کام ہیں جو ہر مومن اقتدار کے بغیر بھی انجام دیتا ہے اور انھیں کاموں کو اُسے اقتدار پانے کے بعد بھی کرنے کے لیے بتایا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس سے معلوم ہوا کہ اسلام کے مطابق، سیاسی اقتدار کا وہ مقصد نہیں ہے جس کو کہ کچھ لوگ نہایت جوش کے ساتھ بیان کرتے ہیں، یعنی غریبی ہٹانا، اقتصادی استحصال کو ختم کرنا، سماج کے اندر مادی خوش حالی لانا، آئڈیل نظام قائم کرنا، وغیرہ۔ موجودہ زمانے کے کچھ سیاست پسند مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اسلام دنیا کو ایک متبادل نظام (alternative system) دیتا ہے۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں مضاہاۃ (9: 30) کہاگیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے میں کچھ سیکولر مفکرین نے کہا کہ اشتراکیت(Communism) سرمایہ دارانہ نظام کا بدل (alternative) ہے۔ اِسی طرح کچھ سیکولر مفکرین نے کہا کہ جمہوریت، بادشاہی نظام کا بدل ہے۔ اِسی کی نقل میں کچھ مسلم مفکرین نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اسلام سیکولر نظام کا ایک بدل ہے، وہ دنیا کو متبادل سیاسی اور معاشی نظام پیش کرتا ہے۔ مگر اِس تصور کا ماخذ قرآن نہیںہے، بلکہ اس کا ماخذصرف اہلِ زمانہ کی تقلید ہے، اِس سے زیادہ اس کی کوئی اور حقیقت نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content