Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Al-Risala july 2009
Al-Risala july 2009

تاثراتِ سفر

Urdu · 8 min read

محمد ذکوان ندوی

مارچ 2009 کے دوسرے ہفتے میں میں نے لکھنؤ کا سفر کیا۔ اِس دوران میں دار العلوم ندوۃ العلماء بھی گیا۔ یہاں میں اِس سلسلے میں ندوہ کے کچھ تجربات کا ذکر کروںگا۔ 16 مارچ کو میں نے عصر کی نماز ندوہ کی مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد میں اپنے ایک استاد سے گفتگو کررہا تھا۔اِسی دوران ندوہ کے کئی اساتذہ وہاں اکھٹا ہوگئے۔ گفتگو کے دوران یہ حضرات مجھ سے فرمانے لگے— ہمیں تم سے ایک شکایت ہے۔ تم ہمارے پاس الرسالہ کیوں نہیں بھیجتے۔ اِس کے بعد کئی اساتذہ نے مجھ کو اپنا پتہ لکھ کر دیا او رکہا کہ تم مجھے ضرور الرسالہ بھجواؤ۔ یہی تجربہ ندوہ کے طلبا سے ملاقات کے دوران پیش آیا۔

ندوہ کے ایک استاد جو کئی سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ وہ بھی وہاں موجود تھے- گفتگو کے دوران انھوںنے کہا کہ مختلف زبانوں میں اِس وقت جرائد ورسائل کی بھر مار ہے۔ مگر جدید اسلوب میں تذکیری نوعیت کا قابلِ مطالعہ مواد (readable material) صرف الرسالہ میں ملتا ہے۔ الرسالہ کے مضامین براہِ راست انسانی فطرت کو ایڈریس کرتے ہیں۔ ندوہ کے ایک دوسرے استاد سے گفتگو ہوئی تو انھوںنے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق، اُن لوگوں کوالرسالہ کا باقاعدہ مطالعہ کرنا چاہئے جو اُس کو پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اسلام کے تذکیری پہلو سے واقفیت کے لیے الرسالہ کا مطالعہ ضروری ہے- اِسی طرح الرسالہ کی وہ چیزیں بھی اہم ہیں جو زمانی بصیرت سے تعلق رکھتی ہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ندوۃ العلماء میرا محسنِ علمی ہے۔ جب میں لکھنؤجاتا ہوں تو اپنے ساتھیوںاور اپنے اساتذہ سے ملاقات کے لیے ندوہ بھی جاتا ہوں۔ یہاں میں اس سلسلے کی صرف تین ملاقاتوں کا ذکر کروں گا۔

16 مارچ 2009 کی شام کو میںنے ناظم ندوۃ العلماء مولانا محمد رابع حسنی ندوی (1929) سے ملاقات کی۔ مولانا محترم میرے استاد ہیں۔ میںنے اُن سے عربی ادب پڑھا ہے۔ ندوہ کے زمانہ قیام(1995-1998)کے دوران میں نے مولانا کے ایک سفر نامہ (سمرقند و بخارا کی بازیافت) کی کتابت بھی کی تھی۔2001 میں میرا نکاح بھی مولانا ہی نے پڑھایا تھا۔تقریباً ایک گھنٹے تک مولانا محترم سے مختلف علمی اور دینی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ الرسالہ سے وابستگی کے بارے میں گفتگو ہوئی تو میں نے کہا کہ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی (وفات: 1999 ) نے ندوۃ العلماء کے مسلک کو ایک لفظ میں ’’قدیم صالح، اور جدید نافع‘‘ کہا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ: تاسست ندوۃ العلماء علی الجمع بین القدیم الصالح والجدید النافع۔ ایسی حالت میں شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگاکہ الرسالہ سے جڑ کر میں گویا ندوۃ العلماء کے اِسی مسلک (قدیم صالح، جدید نافع) پر کھڑا ہوا ہوں۔ ندوۃ العلماء کے مسلک کے مطابق، ’’قدیم صالح‘‘ کی معرفت میں نے ندوہ سے حاصل کی تھی، اور اب ’’جدید نافع‘‘ کی معرفت میں الرسالہ سے حاصل کررہا ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میری بات سن کر مولانارابع حسنی صاحب بے ساختہ طور پر مسکرائے۔ انھوں نے کہا کہ طالب علمی کے زمانے ہی سے چوں کہ آپ سے قریبی تعلق ہے، اِس لیے مجھے خوشی ہورہی ہے کہ آپ معتدل ذہن کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سے مزید کام لے اور خصوصی توفیق عطا فرمائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گفتگو کے دوران میںنے صدر اسلامی مرکز مولانا وحیدالدین خاں کی ذاتی زندگی کے کئی واقعات مولانا محمد رابع حسنی ندوی صاحب کو بتائے۔ یہ واقعات سادگی اور روحانیت (Spirituality)سے تعلق رکھنے والے واقعات تھے۔

میں نے ایک بات یہ کہی کہ مولانا کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے۔ میںنے پایا کہ مولانا کی تحریر میں جس سادگی کا ذکر ہے، ان کی ذاتی زندگی میں بھی وہی سادگی پائی جاتی ہے، اِس اعتبار سے، دونوں ایک دوسرے سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں، دونوں کے درمیان کوئی فرق میرے علم میں نہیں۔ اِسی طرح جس جنت کی طرف وہ لوگوں کوبلاتے ہیں، اُس کے وہ خودحریص دکھائی دیتے ہیں۔ جس جہنم سے وہ لوگوں کو ڈراتے ہیں، اس سے وہ خود ڈرنے والے نظر آتے ہیں(ولا أزکّی على اللہ أحداً-وما شہدنا إلا بما علمنا، وما کنا للغیب حافظین)۔ اِس اعتبار سے ان کی بعض تحریریں خود ان کی اپنی زندگی کا عکس ہیں، وہ دُور کے کسی شخص کا تعارف نہیں۔

میںنے اِس سلسلے میں مولانا کی زندگی کے کئی چشم دید واقعات بیان کیے۔اِن واقعات کو سن کر مولانا نے کہا کہ آپ نے مولانا وحید الدین خاں کے بارے میں جو باتیں بتائیں، وہ میرے علم میں نہیں تھیں۔ اِن واقعات کو سن کر میرے دل میں مولانا کی مزید قدر پیدا ہوگئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول کرے اور اُنھیں صحت وعافیت عطا فرمائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا وحید الدین خاں کی ایک کتاب (ہند- پاک ڈائری) میں نے مولانا کی خدمت میں پیش کی۔ مولانا نے نہایت خوشی کے ساتھ اُس کو لیا اورکہا کہ میںضرور اِس کو دیکھوں گا۔ میںنے مولانا سے دریافت کیا کہ آپ کے پتے پر الرسالہ موصول ہو رہا ہے؟ مولانا نے فرمایاکہ ہاں، الرسالہ پابندی سے مل رہا ہے۔ آخر میں مولانا رابع حسنی ندوی نے سیرتِ رسول کے موضوع پر اپنی ایک تازہ تصنیف اپنے دستخط کے ساتھ مجھ کو عنایت فرمائی۔ اِس کتاب کا نام یہ ہے — رہبرِ انسانیت۔

مغرب کی نماز کے بعد مہتمم دار العلوم ندوة العلماء مولانا سعید الرحمن الاعظمی ندوی (1934) سے ملاقات کے لیے میں ندوہ سے متصل ان کی رہائش گاہ (مکارم نگر) پہنچا۔مولانا محترم میرے استاد ہیں۔ میں نے اُن سے عربی ادب اور انشاء پڑھی ہے۔ اس کے علاوہ، مولانا سے میرے خاندانی نوعیت کے قریبی تعلقات ہیں۔ ندوہ کے زمانۂ طالبِ علمی میں میںنے مولانا کے کچھ مضامین کی کتابت کی تھی۔ یہ مضامین ایک کتاب کی صورت میں شائع ہوگئے ہیں۔ اُس کتاب کا نام ہے — اُسوۂ حسنہ کے آئینے میں ۔ ملاقات کے دوران میرے ساتھ ڈاکٹر سکندر علی اصلاحی، اور مولانا محمد آفتاب عالم ندوی (القرآن انسٹی ٹیوٹ، امین آباد ،لکھنؤ) بھی موجود تھے۔

میںنے مولانا سعید الرحمن الاعظمی ندوی سے معلوم کیا کہ آپ کو الرسالہ موصول ہو رہا ہے؟ مولانا نے کہا کہ ہاں، الرسالہ پابندی سے مل رہا ہے۔ مولانا نے پوچھا کہ کیا مولانا وحید الدین خاں ہروقت غور وفکر کرتے رہتے ہیں۔ میںنے کہا کہ لکھنے پڑھنے کے اوقات کے علاوہ، اصلاً مولانا کا مشغلہ عام طور پر صرف ایک ہے، اور وہ یہی غوروفکرہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ اپنے براہِ راست ذاتی مشاہدے کی بنا پر میں کہہ سکتا ہوں کہ مولانا کا سب سے بڑا مشغلہ’’التفکر والاعتبار‘‘ہے۔ میری بات سن کر مولانا سعید الرحمن الاعظمی نے کہا کہ اِسی تدبر و تفکر کا نتیجہ ہے کہ الرسالہ میں اِس قدر متنوع فکری اور تذکیری مضامین ہوتے ہیں۔ گہرے غور وفکر کے بغیر اِس طرح کے تخلیقی مضامین نہیں لکھے جاسکتے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا سعید الرحمن الاعظمی ندوی نے کہا کہ اِس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا وحید الدین خاں المفکر الاسلامی ہیں۔ وہ بلاشبہہ المفکر الاسلامی المُنتِج المُبدِعکی حیثیت رکھتے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ اُن کی تحریروں میں دو چیزیں میں نے خاص طورپر دیکھی ہیں— ایک، یہ کہ وہ ہر چیز کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اُس سے خدا کی معرفت اخذ کرتے ہیں۔ دوسرے، یہ کہ وہ بظاہر سیکولر قسم کے واقعات میں بھی اسلام کی ابدیت اوراس کی حقانیت کا مثبت پہلو دریافت کرنے کا خصوصی ملکہ رکھتے ہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

گفتگو کے دوران مولانا سعید الرحمن الاعظمی ندوی نے ایک واقعہ بتایا- انھوں نے کہاکہ 1984 میں جامعہ اسلامیہ (مدینہ) میں اسلام اور عصری تحدیات کے موضوع پر مولانا وحیدالدین خاں کے کچھ محاضرات ہوئے تھے۔ اس موقع پر میں بھی جامعہ اسلامیہ میں موجود تھا۔ میرا اور مولانا کا قیام ایک ہی ہوٹل میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ عرب شیوخ اور علماء جو اُن کی کتاب الاسلام یتحدى سے واقف تھے، وہ مولانا وحید الدین خاں سے ملاقات کے لیے ہوٹل آرہے ہیں۔ یہ لوگ ہوٹل میں داخل ہو کر پوچھتے: فی أیّ غُرفۃ المفکر الاسلامی؟۔

other sourceWords of another person or source

عشاء سے کچھ پہلے میں مکہ گنج (سیتا پور روڈ) کے لیے روانہ ہوا۔وہاں میںنے استادِ محترم مولانا ابو سحبان روح القدس ندوی (1954) سے ان کی رہائش گاہ (مؤسسۃ القدس) پر ملاقات کی۔ مولانا میرے استادِ حدیث ہیں۔ اُن سے میںنے الترمذی ثانی کا درس لیا ہے۔ مولانا کے پتے پر الرسالہ بھجوایا گیا تھا۔ ملاقات کے دوران مولانا نے بتایا کہ الرسالہ اُن کو پابندی سے مل رہا ہے۔

مولانا ابو سحبان روح القدس ندوی نے کہا کہ بہت دنوں سے میرے ذہن میں یہ سوال تھا کہ مفکر (thinker)کس کو کہتے ہیں۔ الرسالہ پڑھنے کے بعد مجھے اس سوال کا جواب مل گیا۔ میں نے الرسالہ کے صفحات میں واضح طورپر مفکرانہ بصیرت کا مطالعہ کیا۔ بعض چیزوں میں الرسالہ سے مجھ کو فکری رہنمائی ملی۔ الرسالہ پڑھ کر بعض جدید امور کے متعلق میرا کنفیوژن دور ہوگیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا نے بتایا کہ اُن کے بچے انگلش میڈیم اسکول میں پڑھتے ہیں۔ روایتی اسلوب میں پیش کی جانے والی مذہبی تعلیم ان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتی تھی۔ اب میں اُنھیں الرسالہ کے بعض سبق آموز مضامین پڑھواتا ہوں۔ وہ اِن مضامین سے متاثر ہورہے ہیں۔ وہ الرسالہ میں شائع ہونے والی اس قسم کی باتوں کو فوراً اخذ (grasp) کرلیتے ہیں۔

مولانا ابو سحبان روح القدس ندوی نے کہا کہ اپنے مطالعے کی بنا پر اگر میں ایک لفظ میں مولانا وحید الدین خاں کے متعلق اپنا تاثر بیان کروں تو میں کہوں گا کہ اسلام کے تذکیری پہلو کے اعتبار سے، وہ گویا ’’مجدّد الفکر الاسلامی‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جو آدمی وقت کے اسلوب میں اسلام کا تذکیری مطالعہ کرنا چاہے، اُس کو چاہیے کہ وہ مولانا وحید الدین خاں کی کتابوں سے استفادہ کرے۔ آخر میں مولانا ابوسحبان ندوی نے اپنی چند کتابیں مجھے عنایت فرمائیں۔ مثلاً تخریج الحدیث اور سیرتِ نبوی کا تربیتی پہلو، وغیرہ۔ ( محمد ذکوان ندوی)

other sourceWords of another person or source
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content