Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala july 2008
Al-Risala july 2008

محبت اور نفرت

Urdu · 2 min read

ایک مغربی مصنف لینس آرم اسٹرانگ (Lance Armstrong) کی ایک کتاب چھپی ہے۔ یہ کتاب اسپورٹس اور اس کے شائقین کے بارے میں ہے۔ اِس کتاب کا فرانسیسی نام یہ ہے:

Tour de France.

کتاب کے مصنف نے بتایا ہے کہ اسپورٹس کے شائقین کی یہ نفسیات ہے کہ وہ اپنی قوم کے جیتنے والوں سے جذباتی طورپر محبت کرتے ہیں، اور اگر وہ ہار جائیں تو اسی شدت کے ساتھ وہ اُن سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ اس قسم کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے کہ — عوام یا تو آپ سے محبت کرتے ہیں یا آپ سے نفرت۔ اِس معاملے میں ان کے یہاں کوئی درمیانی حالت نہیں:

Either the public loves you or hates you. There is no such thing as a happy middle ground.

عوامی نفسیات کے بارے میں یہ بیان بالکل درست ہے۔ عام لوگ محبت اور نفرت دونوں کے معاملے میں سخت جذباتی واقع ہوئے ہیں۔ یہ بلاشبہہ ایک تباہ کن عادت ہے۔ صحیح یہ ہے کہ محبت اور نفرت کو عقل کے تابع کیاجائے، نہ کہ جذبات کے تابع۔

حدیث میںآیا ہے کہ دوستی کرو تو اعتدال کے ساتھ کرو، شاید تمھارا دوست کبھی تمھارا دشمن بن جائے۔ اور دشمنی کرو تو اعتدال کے ساتھ کرو، شاید تمھارا دشمن کبھی تمھارا دوست بن جائے (أحبب حبیبک ہونًا ما، عسیٰ أن یکون بغیضک یوماً ما۔ وأبغض بغیضک ہونا ما، عسیٰ أن یکون حبیبک یوماً ما) الترمذی، کتاب البرّ والصّلۃ والآداب۔

quoted sourceQuoted from another author or source

یہ ایک نہایت حکیمانہ ہدایت ہے۔ دنیا میں دوستی اور دشمنی دونوں عارضی چیزیں ہیں۔ اِس معاملے میں ضروری ہے کہ آدمی اعتدال پسندی کا رویہ اختیا رکرے، نہ کہ انتہا پسندی کا رویہ۔ اعتدال پسندی کا رویہ ہمیشہ مفید ثابت ہوتا ہے، اور انتہا پسندی کا رویہ ہمیشہ مہلک نتیجے کا سبب بنتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content