Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala july 2008
Al-Risala july 2008

کم پر راضی ہونا

Urdu · 2 min read

اِس دنیا میں کامیابی کا سادہ اصول صرف ایک ہے— کم پر راضی ہوجاؤ، تاکہ تم زیادہ کو پاسکو۔ اِس دنیا میں زیادہ چاہنے والے کو کم ملتا ہے، اور جو کم چاہے، وہ زیادہ پانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اِس دنیا کے لیے یہ ایک ایسا عام اصول ہے جس میں غالباً کوئی استثنا نہیں۔

عالمِ فطرت میںہر چیز کے نمونے موجود ہیں۔ اِسی طرح کامیابی کے مذکورہ اصول کا نمونہ بھی یہاںموجود ہے۔ یہ نمونہ درخت کا نمونہ ہے۔ درخت کیا ہے۔ درخت ایک بیج سے شروع ہوتا ہے اور پھر وہ اپنے تنا، اپنی شاخوں او راپنی پتیوں کے ساتھ ایک بڑا درخت بن کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ فطرت میں یہ نمونہ اِس لیے ہے، تاکہ انسان اُس سے سبق لے اور اِس فطری اصول کو اختیار کرتے ہوئے وہ اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔اِسی فطری حقیقت کو ایک شاعر نے اِن الفاظ میں نظم کیا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اگر کچھ مرتبہ چاہے تو اِس ہستی کو باطل کر

کہ دانا بارور ہوتا ہے پہلے خاک میں مل کر

ہر انسان اپنے اندر غیر معمولی امکانات (potentials) لے کر پیدا ہوتا ہے۔ یہ امکانات کسی انسان کے لیے گویا بہ منزلہ بیج ہیں۔ جو انسان اپنے اندر چھپے ہوئے اِس امکان کو جانے اور اُس کو دانش مندانہ طورپر بروئے کار لانے کی کوشش کرے، اُس کے لیے کامیابی اتنا ہی یقینی بن جاتی ہے، جتنا کہ ایک اچھے بیج کو زمین میں ڈالنے کے بعد اُس کا ہرے بھرے درخت کی صورت میں تبدیل ہونا۔

ایک بیج قانونِ فطرت کی مدد سے درخت بنتا ہے۔ اِسی طرح ایک انسان اپنے فطری امکانات کے دانش مندانہ استعمال سے اعلیٰ کامیابی حاصل کرتا ہے۔ درخت کی صور ت میں جو کام فطرت کا قانون کرتا ہے، انسان کی صورت میں وہی کام اس کی اپنی عقل انجام دیتی ہے، بشرطیکہ انسان اپنی عقل کو صبر اور حکمت کے ساتھ استعمال کرسکے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content