Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2007
Al-Risala July 2007

اَسلاف کا طریقہ

Urdu · 2 min read

روی عن خارجۃ بن زید بن ثابت قال: ’’کان زید إذا سئل عن شیئٍ، قال: ہل وقع؟ فإن قالوا لہ: لم یقع، لم یخبرہم۔ وإن قالوا: قد وقع، أخبرہم‘‘ (ابن القیم، أعلام الموقعین، جلد اوّل، صفحہ 61 )

other sourceWords of another person or source

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لڑکے خارجہ کہتے ہیں کہ جب زید سے کوئی بات پوچھی جاتی تو وہ دریافت کرتے: کیا ایسا ہوچکا ہے۔ اگر انھیں نفی میں جواب دیا جاتا تو وہ مسئلہ نہ بتاتے۔ اور اگر یہ کہا جاتا کہ ایسا واقعہ بالفعل ہوچکا ہے، تو وہ سائل کو مسئلہ بتا دیتے۔

other sourceWords of another person or source

و عن مسروقٍ قال: ’’کنت أمشی مع أبیّ بن کعب فقال لہ رجل یا عماہ کذا و کذالک۔ فقال: یا ابن أخی أکان ہذا؟ قال: لا، قال : فأعفنا حتی یکون‘‘ (حوالۂ مذکورہ)

other sourceWords of another person or source

مسروق (تابعی) سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میںابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا تو ایک آدمی نے آکر پوچھا : اے چچا، اگر ایسا اور ایسا ہو تو (یعنی کوئی فرضی مسئلہ دریافت کیا)۔ ابی بن کعب ؓ نے کہا: اے میرے بھائی کے لڑکے، کیا ایسا واقعۃً ہو چکا ہے۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ یہ سن کر انھوںنے جواب دیا: پھر ہمیں اس وقت تک معاف رکھیں جب تک ایسا عملاً واقع نہ ہوجائے۔

hadithQuotes a hadith

یہ دونوں واقعات بتاتے ہیں کہ سوال یا استفتا کے بارے میں علماء سلف کا طریقہ کیا تھا، وہ ایسا نہیں کرتے تھے کہ محض سوال یا استفتا پر شرعی مسئلہ بیان کرنے لگیں بلکہ وہ سائل یا مستفتی سے یہ پوچھتے تھے کہ جس معاملے کے بارے میں تم مسئلہ پوچھتے ہو وہ معاملہ بالفعل پیش آچکا ہے۔ اگر وہ کہتا کہ ہاں تو شرعی مسئلہ بیان کرتے، بصورتِ دیگر وہ سائل سے کہتے کہ فرضی سوالات مت کرو۔ صرف انھیں امورمیں شرعی مسئلہ دریافت کرو جو عملاً پیش آچکے ہیں۔

یہ تھا علمائے سلف کا طریقہ اور بلا شبہہ یہی صحیح اسلامی طریقہ ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content