Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2007
Al-Risala July 2007

ایک مثال

Urdu · 2 min read

سرسید احمد خاں (وفات: 1898) کا زمانہ برطانیہ کے غلبہ کا زمانہ ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ اس وقت ہمارا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ جدید تقاضوں کے مطابق، اپنی نسلوں کو تعلیم یافتہ بنائیں۔ مسلمان مستقبل کے بارے میں اپنی تمناؤں کو اسی وقت پورا کرسکتے ہیں جب کہ وہ جدید معیار پر تعلیم یافتہ بن چکے ہوں۔ اس کے بغیر وہ کسی شاندار مستقبل کے مالک نہیں بن سکتے۔

یہ زمانہ وہ تھا جب کہ بہت سے مسلم رہنما برطانیہ کے خلاف سیاسی لڑائی میں مشغول تھے۔ انھوں نے کہا کہ سرسید انگریزوں کے ایجنٹ ہیں اور انگریزوں کے اشارے پر وہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو سیاسی محاذ سے ہٹا دیں، حتی کہ کچھ لوگوں نے سرسید کے کفر کا فتویٰ بھی شائع کردیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مولانا شبلی نعمانی (وفات: 1914) سرسید کے ہم عصر تھے۔ انھوں نے سرسید کو قریب سے دیکھا تھا۔ وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ سرسید کا اصل منصوبہ مسلمانوں کو سیاسی محاذ سے ہٹانا نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کو تیار کرکے اس قابل بنا نا ہے کہ وہ زیادہ کامیابی کے ساتھ زندگی کا وہ مقابلہ کرسکیں جس کو اِس وقت وہ ناکامی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ مولانا شبلی نے اس زمانے میں سرسید کے دفاع میںایک مضمون لکھا تھا۔ اس کا ایک فقرہ یہ تھا کہ جو لوگ سرسید پر سیاسی اعتراضات کررہے ہیں انھوں نے سرسید کے سیاسی شاہ نامہ میں سے صرف ’’مُنیژہ مَنم‘‘ یاد کررکھا ہے۔ فردوسی کا شاہ نامہ ایک بہت موٹی کتاب ہے۔ اس میں 60ہزار اشعار ہیں۔ ان میں سے ایک شعر یہ ہے جو فردوسی نے افراسیاب کی لڑکی کی زبان میں کہا ہے:

منیژہ منم دختِ افراسیاب برہنہ ندیدہ تنم آفتاب

مولانا شبلی نعمانی کی یہ بات ہر اس مصلح پر چسپاں ہوتی ہے جو کوئی گہرا منصوبہ لے کر اٹھے۔ عام لوگ صرف سطحی باتوں کو جان پاتے ہیں وہ کسی گہری اسکیم کو سمجھ نہیں پاتے۔ اس لیے وہ ایسے مصلحین کے خلاف اس قسم کا الزام دینے لگتے ہیں جو سرسید کو ان کے مخالفین نے دیا۔ مگر مستقبل کی تاریخ ہمیشہ یہ بتاتی ہے کہ کون شخص حقیقۃً قوم کو آگے لے جانا چاہتا تھا اور وہ کون شخص تھا جو یہ چاہتا تھا کہ آگے بڑھانے کے نام پر وہ قوم کو کچھ اور پیچھے ڈھکیل دے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content