Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2005
Al-Risala July 2005

دو کشتی کی سواری

Urdu · 2 min read

اکثر لوگوں میں یہ کمزوری ہوتی ہے کہ وہ واضح انداز میں سوچ نہیں پاتے۔ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق نہیں کرپاتے۔ اس بنا پر اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ بیک وقت دو کشتی کی سواری کرنا چاہتے ہیں حالاں کہ دو کشتی کی سواری عملاً ممکن نہیں۔

مثلاً ایک شخص بر صغیرہند میں پیدا ہوتا ہے پھر وہ اپنے وطن کو چھوڑ کر امریکا چلا جاتا ہے۔ یہ ایک سماج سے نکل کر دوسرے سماج میں جانے کا نام ہے۔ بر صغیر ہند کے اندر پابند سماج کا ماحول ہے تو امریکا میں بے قید سماج کا ماحول ہے۔ مگر مذکورہ شخص امریکا میں قیام کرنے کے باوجود یہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے وہاں کے بے قید سماج سے متاثر نہ ہوں۔ اس کے بچے وہاں بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کا کلچر اختیار نہ کریں۔ مگر یہ دو کشتی کی سواری ہے اور دو کشتی کی سوار ی عملاً ممکن نہیں۔ چنانچہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو اپنے بچوں کے بارے میں خلاف امید تجربات پیش آتے ہیں۔ آدمی پیسہ کی فراوانی کے باوجود ذہنی اضطراب میں جینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

اس دنیا میں آدمی صرف ایک ہی کشتی میں سواری کرسکتا ہے۔ دوکشتی میں سواری کرنا عملاً کسی کے لیے ممکن نہیں۔ دو کشتی کی سواری صرف خیالی طور پر ممکن ہوسکتی ہے۔ عملی طور پر دوکشتی کی سواری کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔

اصل یہ ہے کہ آدمی بیک وقت دو قسم کے فائدے حاصل کرنا چاہتا ہے۔اسی دو طرفہ مزاج کی بنا پر وہ دو کشتی میں سواری کرنے کا خیالی منصوبہ بنا لیتا ہے۔ مگر آدمی کو جاننا چاہیے کہ دو کشتی کا سفر صرف خیالات کی دنیا میں ممکن ہے۔ ایسا سفر کبھی حقیقت کی دنیا میں ممکن نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ترجیح کا اصول اختیار کرے۔ وہ ایک چیز کو پانے کے لیے دوسری چیز کو چھوڑنے پر راضی ہوجائے۔ وہ ایک منزل تک پہنچنے کے لیے دوسری منزل کی طرف دوڑنا نہ چاہے۔اس معاملہ میں آدمی کے پاس اس کے سوا کوئی اور انتخاب نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.