Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2005
Al-Risala July 2005

مسائل اور ان کا حل

Urdu · 2 min read

انسان کے ساتھ جو مسائل پیش آتے ہیں ان کا بنیادی سبب اجتماعیت ہے۔ زمین پر اگر صرف ایک انسان موجود ہوتا تو یہاں کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا مگر انسان ایک سماجی مخلوق ہے۔ وہ اجتماعی طورپر زندگی گزارتا ہے۔ یہ اجتماع ہی تمام مسائل کی اصل جڑ ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کا حل یہ ہے کہ فرد اور اجتماع کے درمیان موافقت تلاش کی جائے۔ جب بھی کسی شخص کو کوئی مسئلہ پیش آتا ہے تو اس کا سبب ہمیشہ صرف ایک ہوتا ہے وہ یہ کہ آدمی صرف اپنی ذاتی خواہش کے مطابق مسئلہ کو حل کرنا چاہتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ بہت سے دوسرے لوگوں کے درمیان ہے۔ وہ دوسرے لوگوں کو نظر انداز کرکے یک طرفہ خواہش کی بنیاد پر اپنا مسئلہ حل نہیں کرسکتا۔ یہی انسانی مسائل کا اصل سبب ہے اور اسی سبب کی رعایت کرکے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔

مثلاً آپ سڑک پر اپنی گاڑی دوڑا رہے ہیں۔ آپ کا نظریہ یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ کی طرف چلنا زیادہ بہتر ہے۔ آپ اگر اس بے لچک نظریہ کو لے کر سڑک پر اپنی گاڑی دوڑانے لگیں تو آپ اپنی منزل کی بجائے صرف قبرستان تک پہنچیں گے۔ آپ کے عقیدہ کے مطابق، دائیں طرف چلنا سیدھی طرف چلنا ہے اور بائیں طرف چلنا الٹی طرف چلناہے۔ یہ عقیدہ آپ کے نزدیک خواہ کتناہی درست ہو مگر یہ عقیدہ کامیاب سفر کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ آپ کو اس معاملہ میں اپنے اندر لچک پیدا کرنا ہوگا۔ سڑک پر چلتے ہوئے آپ کو ٹرافک رول کے اجتماعی قواعدکی پابندی کرنی ہوگی۔ اجتماعیت کے اندر کامیاب زندگی حاصل کرنے کا یہی واحد اصول ہے۔

اجتماعی زندگی ملی جلی زندگی کانام ہے۔ کسی سماج کا ہر فرد اس اجتماعیت سے جڑا ہوا ہے۔ اسی اجتماعی تقاضہ کی رعایت کا نتیجہ کامیابی ہے اور اسی اجتماعی تقاضہ کی رعایت نہ کرنے کا نتیجہ ناکامی ۔

مسئلہ بظاہر دوسرے شخص کی طرف سے پیدا ہوتا ہے۔ مگر اس کا حل ہمیشہ اپنی ذات میں ہوتا ہے۔اپنے آپ کو حقیقت پسند بنانا ہی کسی مسئلہ کا واحد یقینی حل ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.