Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2005
Al-Risala July 2005

دو درجے

Urdu · 2 min read

زندگی میں کامیابی کے دو درجے ہیں۔ ایک ہے اوسط درجہ کی کامیابی۔ اور دوسرا ہے اعلیٰ درجہ کی کامیابی۔ اس دنیا میں دو نوں ہی ممکن ہے۔ مگر دونوں کی شرطیں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے—چھوٹی کوشش چھوٹی کامیابی، بڑی کوشش بڑی کامیابی۔

جہاں تک چھوٹی کامیابی یا اوسط درجہ کی کامیابی کا معاملہ ہے وہ ہر شخص حاصل کرلیتا ہے۔ ہر آدمی کے حالات اس کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی اور اپنے گھر والوں کی ضرورت پورا کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ کرے۔ اس طرح ضرورت کے تقاضے کے تحت ہر آدمی کوئی نہ کوئی کام کرلیتا ہے۔ خواہ وہ سروس ہو یاکوئی آزاد تجارت۔

مگر بڑی کامیابی زیادہ بڑی کوشش سے ملتی ہے۔ بڑی کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر بڑی سوچ ہو۔ وہ زیادہ معلومات رکھتا ہو۔ وہ منصوبہ بندی کے اصول کو اختیار کرے۔ اس کے اندر بلند اخلاقی صفات ہوں۔ وہ صبر و تحمل کے ساتھ کام کرنا جانتا ہو۔ اس کے معاملات معلوم اصول کی بنیاد پر قائم ہوں۔ وہ لوگوں کے اندر بے ضرر اور نفع بخش بن کررہے۔

اس دنیا میں ہر چیز کی ایک قیمت ہے۔ اسی طرح کامیابی کی بھی ایک قیمت ہے۔ جو شخص بڑی کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو جاننا چاہیے کہ بڑی کامیابی حاصل کرنے کے لیے اس کو بڑی قیمت بھی دینی پڑے گی۔ چھوٹی قیمت دے کر بڑی کامیابی حاصل کرنا اس دنیا میں ممکن نہیں۔

بڑی کامیابی کا مطلب ہے، دنیا سے زیادہ لینا۔ فطرت کا اصول ہے کہ جو شخص دنیا سے زیادہ لینا چاہتا ہو اس کو اپنی طرف سے بھی زیادہ دینا پڑے گا۔ اس دنیا میں کسی کو بھی دیے بغیر کچھ نہیں مل سکتا۔ کامیابی ایک دو طرفہ عمل ہے۔ وہ کسی کے لیے بھی یک طرفہ عمل نہیں۔

کامیابی کے دو درجے ہیں اور دونوں ہی درجے اہم ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس معاملہ میں باشعور ہو۔ اس کے بعد اس کو کسی سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.