Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2005
Al-Risala July 2005

اعترافِ خطا ایک نعمت

Urdu · 2 min read

انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل بنی آدم خطّاء و خیر الخطائین التوّابون (الترمذی، کتاب القیامۃ، ابن ماجہ، کتاب الزہد، الدارمی، کتاب الرقاق، مسند احمد، مشکوٰۃ المصابیح، رقم الحدیث ۲۳۴۱) یعنی ہر انسان غلطی کرتا ہے اور سب سے بہتر غلطی کرنے والا وہ ہے جو اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرلے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

غلطی کرنے کے بعد اُس سے لوٹنا یا غلطی کا اعتراف کرنا احتساب خویش (introspection) کا معاملہ ہے۔ غلطی کا اعتراف کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اپنی اصلاح آپ کا عمل ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ ذہنی جرأت ہو کہ وہ غلطی کرنے کے بعد فوراً اس کا اعتراف کرلے۔ اس کو دوسرے فائدوں کے ساتھ یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ اس کی فکر میں وضوح آتارہتا ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ زیادہ واضح انداز میں رائے قائم کرے اور زیادہ واضح انداز میں معاملات کا تجزیہ کرسکے۔

ایک آدمی ایک غلط بات کہتا ہے۔ بعد کو معلوم ہوتا ہے کہ اُس کی کہی ہوئی بات غلط تھی۔ اب اس آدمی کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے۔ ایک یہ کہ وہ غلطی واضح ہونے کے بعد بھی اس کا اعتراف نہ کرے۔ ایسے آدمی کے ذہن میں صحیح اور غلط دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ملے رہیںگے۔ لیکن جب آدمی یہ جرأت کرے کہ غلطی واضح ہونے کے بعد وہ کہہ دے کہ میں غلطی پر تھا تو اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں صحیح اور غلط دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں۔ وہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط صورت میں دیکھنے لگتا ہے۔فکری انتشار (confused thinking) بہت بڑی برائی ہے۔ یہ بُرائی کسی کے اندر در اصل غلطی کے عدم اعتراف سے پیداہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحیح کو غلط سے نہ چھاٹنے کی کوتاہی کا نتیجہ ہی وہ چیز ہے جس کو ذہنی انتشار کہا جاتا ہے:

Confusion is the result of our failure to sort out the right from the wrong.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content