← Al-Risala January 2022Al-Risala January 2022
ارتقا کا مفروضہ قافلہ
Urdu · 5 min read
کائنات کی معلوم شاہراہوں میں اپنا راستہ نہ پاسکا
ڈارون (1809-1882) کو یقین تھا کہ زندگی ایک ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ کیڑے مکوڑے اپنے اعضا میں ترقیاتی تبدیلیاں کرتے کرتے بکری بن گئے اور بکری نے ترقی کرکے زرافہ کی صورت اختیار کرلی۔ پچھلے سو برس کے دوران یہ ایک مسلمہ سائنسی عقیدہ بن گیا تھا۔ مگر حالیہ مطالعہ نے اس عقیدہ کو علمی حیثیت سے متزلزل کردیا ہے۔ مثال کے طورپر معلوم ہوا ہے کہ زمین کی عمر اس اندازہ سے بہت کم ہے جو ارتقائی طورپر زندگی کی انواع کو وجود میں لانے کے لیے ضروری ہے۔
اب علمائے حیاتیات کا قیاس یہ ہورہا ہے کہ زمین سے باہر کائنات کے کسی مقام پر انسان جیسی تہذیب موجود ہے اور اس نے بالقصد زندگی کا جرثومہ(bacterium) اوپر سے زمین پر بھیجا ہے۔ مگر یہاں بھی ایک رکاوٹ درپیش ہے۔ کائناتی وقت اتنا کافی نہیں کہ اس کے اندر دو تہذیبیں ایک کے بعد ایک ترقی کرسکیں۔ ایک زمین پر۔ دوسری کسی اور سیارہ میں — گویا انسانی علم وہاں پہنچ گیا ہے جہاں اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ ایک قادر مطلق کے وجود کو تسلیم کرلے۔
زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی، اس کے بارے میں حال ہی میں ایک چونکا دینے والا نظریہ سامنے آیا ہے۔ اس نظریہ کو پیش کرنے والے دو ممتاز مالے کیولر بیالوجسٹ ہیں۔ ایک، نوبل انعام یافتہ فرانسس کریک (Francis Crick) دوسرے لزلی آرگل (Leslie Orgel)۔اس نظریہ کے مطابق زمین پر زندگی کا آغاز نہ تو خود بخود ہوا اور نہ اس طرح کی کچھ ملین سال پہلے ایک ابتدائی مادہ سے ایک جسم حیوانی (organism)بنا اور اس سے تدریجی ارتقا کے ذریعے زندگی کی انواع وجود میں آئیں۔ بلکہ زندگی ایک ایسے تجربے کا نتیجہ تھی جو کچھ غیر ارضی ہستیوں (Extraterrestrial Beings)نے کروروں سال پہلے پلان کیا تھا۔
کریک اور آرگل یہ فرض کرتے ہیں کہہمارے کہکشانی نظام کے دوسرے سیاروں میں ترقی یافتہ تہذیبیں موجود ہیں۔ انقیاس کے مطابق، اسی قسم کے کسی سیارہ کے باشندوں نے کچھ ہزار ملین سال پہلے طے کیا کہ وہ اس بات کا تجربہ کریں کہ کیا ان کے پڑوسی سیاروں میں زندگی اپنے لیے نیا ماحول پیدا کرسکتی ہے۔ چنانچہ انھوں نے ہماری کہکشاں کے کچھ سیاروں پر زندگی کے جراثیم ڈالے۔ اسی قدیم تجربہ کا نتیجہ ہماری موجودہ تہذیب ہے۔
انیسویں صدی میں ڈارون کے نظریہ کے بعد اہل مذاہب کا مخصوص تخلیق کا نظریہ علمائے سائنس کے درمیان ختم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد سائنس داں اس سوال کا جواب معلوم کرنے میں سرگرداں تھے کہ زندگی شروع کس طرح ہوئی۔ اس بحث کے دوران سویڈن کے کیمسٹ ارے نیس (Arrhenius) نے انیسویں صدی کے آخر میں یہ تخیل پیش کیا کہ کچھ بیکٹیریائی اجزاء کسی ایسے سیارہ سے زمین پر آگئے، جہاں پہلے سے زندگی موجود تھی، اور پھر تدریجی ارتقا کے ذریعہ اقسام حیاتیات کو وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ارے نیس نے اس طریق عمل کو ’’پینس پرمیا‘‘ کا نام دیا۔ اس نظریہ کو اس تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ بیکٹیریا بین سیاراتی سفر میں خطرناک ریڈی ایشن (radiation)کے مقابلہ میں زندہ نہیں رہ سکتا، لارڈ کلوین (Kelvin) نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ’’ہوسکتا ہے کہ بیکٹیریا کسی شہابئے سے چپک گیا ہو اور اس پر سوار ہو کر زمین پر آیا ہو۔‘‘
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اگر چہ یہ ممکن ہے کہ بیکٹیریائی اجزاء شہابئے پر سوار ہو کرایک سیارہ سے دوسرے سیارے کا سفر کریں، تاہم پینس پرمیا کا نظریہ کبھی سائنس دانوں کے لیے قابل قبول نہ ہوسکا تھا۔ اس نظریہ کا اساسی مقدمہ یہ ہے کہ زندگی اس سے پہلے کہیں موجود تھی، جب کہ اس نظریہ میں اس کا جواب نہیں ملتا کہ دوسرے سیارہ پر زندگی کیسے وجود میں آئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
کریک اور آرگل، یہ مانتے ہوئے کہ بیکٹیریائی اجزاء کی اتفاقی ہجرت ناممکن ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت یہ قابلِ قیاس ہو جاتا ہے جب کہ یہ مانا جائے کہ بالقصد کسی نے زندگی کے جراثیم کو زمین پر بھیجا ہو۔ وہ اس عمل کو معین پنسپرمیا (Directed Panspermia)کا نام دیتے ہیں۔
اس نئے نظریہ کے ثبوت میں کریک اور آرگل دو حیاتیاتی مسئلوں کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک جینیٹک کوڈ ہے۔ ہر ایک موجودہ زمانہ میں تسلیم کرتا ہے کہ زمین پر زندگی کی تمام قسموں کے لیے صرف ایک کوڈ ہے۔کوئی حیاتیاتی عالم اس عالمگیریت کی توجیہ نہیں کرسکتا کہ سب کے لیے ایک ہی کوڈ کیوں ہے۔ آرگل اور کریک کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حیاتیات کا ایک ہی بیج تھا، جس سے زندگی شروع ہوئی، اس لیے فطری طورپر اس بیج کا جینٹک کوڈ، جو کروروں سال پہلے کسی دوسرے سیارے کے باشندوں نے زمین پر بھیجا تھا، اپنا اعادہ ایک ہی جینیٹک کوڈ کی شکل میں کرتا رہا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسری چیز مولب ڈینم (Molybdenum) نامی دھات کا وہ رول ہے جو حیاتیاتی نظام میں پایا جاتا ہے۔ اکثر انزائم سسٹم اپنی کارکردگی کے لیے اس کے اور صرف اس کے محتاج ہوتے ہیں۔مولب ڈینم اتنا غیر معمولی طور پر اہم ہونے کے باوجود زمین میں پائی جانے والی کل دھاتوں کا صرف 0.02فی صد (دس ہزار میں دو) ہے۔ دوسری طرف بعض زیادہ مقدار میں پائی جانے والی دھاتیں مثلاً کرومیم اور نکل، جو کہ اپنی خاصیت میں مولب ڈینم سے بہت مشابہ ہوتی ہے اور زمینی دھاتوں کا 0.2 فی اور 3.16 فی صد ہیں، حیاتیاتی نظام میں بالکل ہی کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ کریک ا ور آرگل کہتے ہیں کہ زمین کی جو کیمیائی ترکیب ہے وہ زمین پر وجود میں آنے والی زندگیوں کی بناوٹ میں منعکس ہونی چاہیے تھی۔ اور چونکہ ایسا نہیں ہے اس لیے ماننا پڑے گا کہ زندگی کچھ ملین سال پہلے زمین پر باہر سے بھیجی گئی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اگر معین پینس پرمیا کا نظریہ مان لیا جائے تو اس سے دو سوالات پیداہوتے ہیں۔ (1) کیا کائناتی وقت اتنا کافی ہے کہ اس کے اندر دو تہذیبیں ایک کے بعد ایک ترقی کرسکیں، ایک زمین پر اور دوسری کسی اور سیارہ میں۔ (2) کیا حیاتیاتی جرثومہ بین سیاراتی فاصلوں کو عبور کرکے ایک جگہ سے دوسری جگہ زندہ حالت میں پہنچایا جاسکتا ہے۔
کریک اور آرگل کا خیال ہے کہ ان کا نظریہ قبولیت حاصل کرلے گا، اگر یہ ثابت ہوسکے کہ وہ عناصر جو زمینی زندگی کے اجزائے ترکیبی ہیں، وہ وہی ہیں جو بعض قسم کے ستاروں میں، ان کے قیاس کے مطابق کثرت سے پائے جاتے ہیں۔
opposing viewA view stated in order to be argued against