← Al-Risala January 2022Al-Risala January 2022
ارتقا علم کی کسوٹی پر
Urdu · 3 min read
حیاتیاتی ارتقا کے متعلق چارلس ڈارون کی کتاب 1859 میں شائع ہوئی تو مغربی اقوام کے درمیان اس کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کتاب میں زندگی کی پیدائش کے بارے میں جو نظریہ پیش کیا گیا تھا وہ اس کے نام سے ظاہر ہے۔ اس کے پہلے ایڈیشن میں ٹائٹل پر حسبِ ذیل نام درج تھا
The Origin of Species of Natural Selection, or the Preservation of Favoured Species in the Struggle for Life.
other sourceWords of another person or source
ڈارون کے نظریہ کا خلاصہ یہ تھا کہ کسی جاندار سے جب چند بچے پیدا ہوتے ہیں تو ان میں تھوڑا تھوڑا فرق ہوتا ہے۔ ان میں سے کسی کا فرق اس کو دوسرے ہم جنسوں کے مقابلہ میں زیادہ بہتر پوزیشن میں کردیتاہے، اسی بنا پر وہ زندہ رہتا ہے اور دوسرے ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ فرق توالد وتناسل کے ذریعہ بڑھتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ لاکھوں سال میں یہ نوبت آتی ہے کہ ایک نوع کا جانور دوسری نوع میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ مثلاً بکری کا گھوڑا بن جانا۔ اس طرح مختلف جاندار ارتقا کی سیڑھیوں پر چڑھتے رہتے ہیں یہاں تک کہ انسان وجود میں آجاتا ہے۔
بظاہر اس خوبصورت نظریہ میں بہت سے خلا تھے۔ مثلاً یہ کہ ارتقا اگر ایک مسلسل عمل ہے تو کیوں ایسا ہے کہ زمین کے طبقات سے حاصل ہونے والے متحجرات صرف کمال کے مرحلہ کو پہنچے ہوئے انواع حیات کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔کیوں نہ ایسا ہوا کہ درمیانی مرحلہ کی قسمیں بھی کثیر تعداد میں موجود ہوتیں۔ یعنی ایسے جانور جو آدھا ایک جیسے ہوں اور آدھا دوسرے جیسے
If evolution has been a continuous process, why does the fossil record only show us apparently settled and established species. Why does it not include an abundance of intermediate forms.
opposing viewA view stated in order to be argued against
ڈارون کا جواب یہ تھا کہ فاسلز کا ذخیرہ ابھی ناتمام ہے۔ آئندہ جب زیادہ فاسلز دستیاب ہوچکے ہوں گے تو یہ کمی دور ہوجائے گی۔ ڈارون کے بعد مزید بہت زیادہ فاسلز انسان کے علم میں آئے۔ مگر مذکورہ کمی اس کے باوجود بدستور باقی رہی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس قسم کی کثیر خامیوں کے باوجود ڈارونزم کو کیوں اتنی زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ نظریہ 19ویں صدی کے مغربی انسان کی نوآبادیاتی توسیع پسندی کے عین مطابق تھا۔ برٹرینڈرسل کے الفاظ میں ’’یہ آزاد اقتصادیات کے اصول کونباتات اور حیوانات کی دنیا تک وسیع کرنا تھا
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
It was an extension to the animal and vegetable world of laissez-faire economics.
ــــــــــــــــــــــــــــ
نظریہ ارتقا کے دلائل جس معیارِ استد لال پراترتے ہیں، وہ کون سا معیار ہے۔ یعنی نظریۂ ارتقا کا براہ راست تجربہ نہ ہونا۔ البتہ ایسے مشاہدات کا حاصل ہونا، جن سے ان کی صداقت کا منطقی قرینہ معلوم ہوتا ہے۔ڈارونزم ایک ایسا نظریہ ہے، جس کا لیبارٹری میں تجربہ نہیں کیا گیا ہے، یہ صرف ’’عقیدہ‘‘ ہے۔ پھراس کو کس بنا پر علمی حقیقت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ اے ای مینڈر کے الفاظ میں یہ ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
1۔یہ نظریہ تمام معلوم حقیقتوں سے ہم آہنگ(consistent) ہے۔
2۔ اس نظریہ میں ان بہت سے واقعات کی توجیہ مل جاتی ہے جو اس کے بغیر سمجھے نہیں جا سکتے۔
3۔ دوسرا کوئی نظریہ ابھی تک ایسا سامنے نہیں آیا جو واقعات سے اس درجہ مطابقت رکھتا ہو۔
Clearer Thinking, p. 112
یہ استدلال جو نظریہ ارتقا کو حقیقت قرار دینے کے لیے معیارِ استدلال کے اعتبار سے کافی سمجھا جاتا ہے، یہی استدلال زیادہ شدت کے ساتھ مذہب کے حق میں موجود ہے، ایسی حالت میں جدید ذہن کے پاس کوئی وجہ جواز نہیں ہے کہ وہ کیوں ارتقا کو سائنسی حقیقت قرار دیتا ہے اور مذہب کو سائنسی ذہن کے لیے ناقابلِ قبول ٹھہراتا ہے۔