Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Al-Risala January 2022
Al-Risala January 2022

ارتقا کے دلائل

Urdu · 7 min read

موجودہ زمانہ کے علمائے حیاتیات عام طور پر نظریہ ارتقا کو تسلیم کرچکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ارتقا محض ایک نظریہ نہیں، وہ ایک مسلمہ سائنسی حقیقت ہے۔ مگر جہاں تک دلیل کا تعلق ہے یہ دعوی ابھی تک ثابت نہ کیا جاسکا۔ نظریہ ارتقا ء کے حق میں تین قسم کی دلیلیں دی جاتی ہیں

1۔ ماں کے پیٹ میں انسان کا جنین مچھلی، چھپکلی، سور اور بندر کے جیسی صورتوں سے گزر کر انسان کی صورت تک پہنچتا ہے۔ ارتقا پسند علما کے نزدیک یہ مشاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اپنی تاریخ کے پچھلے دور میں انھیں جانوروں جیسا تھا۔ ان کے نقطہ نظرکے مطابق ماں کا پیٹ نو مہینوں میں انسان کی اس طویل حیاتیاتی تاریخ کو دہراتا ہے جو پیٹ کے باہر اربوں سال کے اندر وقوع میں آئی تھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2۔ جانوروں اور انسان کے ڈھانچہ میں ایک ارتقائی مشابہت پائی جاتی ہے۔ مچھلی سے لے کر انسان تک جانوروں کی جو مختلف قسمیں ہیں، ان کی ہڈیوں کے ڈھانچہ کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان میں بنیادی یکسانیت کے ساتھ ایک ارتقائی نسبت ہے۔ اوپر کی سطح کے جانور نچلی سطح کے جانور کی ارتقا یافتہ صورتیں معلوم ہوتے ہیں۔ حتی کہ انسان تک پہنچ کر یہ عملِ ارتقا اپنی کامل صورت اختیار کرلیتا ہے۔

3۔ چٹانوں کی تہوں میں قدیم جانداروں کی ہڈیاں متحجر حالت (fossilised state) میں پائی گئی ہیں۔ چٹانوں کا کیمیائی مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی تہیں ایک کے بعد ایک مختلف زمانوں میں بنی ہیں۔ اس طرح یہ چٹانی تہیں گویا کتابِ فطرت کے اوراق ہیں جو ماضی بعید کی داستان ہم کو بتاتے ہیں۔ چٹانوں کی مختلف تہوں میں متحجر ہڈیوں کے مطالعہ سے دریافت ہوا ہے کہ زمین کے اوپر جانداروں کی جو قسمیں پائی جاتی ہیں، وہ سب کی سب اول روز سے موجود نہ تھیں۔ بلکہ ان کے ظہور میں ایک ارتقائی ترتیب ہے۔ قدیم ترین تہوں میں مچھلی کی قسم کے جانوروں کی متحجر ہڈیاں ملتی ہیں، پھر چھپکلی کی قسم کے جانور، پھر دودھ پلانے والے جانور، پھر بندر، اور آخر میں انسان۔

یہ مشاہدات جن کے اوپر ارتقا کی استدلالی بنیاد قائم کی گئی ہے، وہ مشاہدات بجائے خود واقعہ ہوسکتے ہیں۔ مگر خالص علمی اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کا کوئی بھی تعلق ارتقا کے مفروضہ سے نہیں ہے۔ ان کے ذریعہ اس نظریہ کے حق میں دلیل قائم نہیں ہوتی۔

1۔یہ بات بجائے خود ایک واقعہ ہے کہ انسان کے بچہ کا مشاہدہ جب ماں کے پیٹ میں کیا جاتا ہے تو ابتدائی ایام میں اس کے اور جانور کے بچہ میں بہت کم ظاہری فرق ہوتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ وہ مچھلی اور چوپائے کی شکلوں سے گزر کر انسان کی صورت اختیار کررہا ہے۔ مگر صرف اس مشاہدہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قدرت پانچ سو ملین سال کے عمل کو نو مہینوں میں دہراتی ہے۔ جس قدرت کو اس سے پہلے ایک انسان بنانے میں پانچ سو ملین سال لگ گئے، وہ اب صرف نو مہینوں میں کروروں انسان کس طرح بنا رہی ہے۔ اور اگر قدرت کے عمل کو مختصر کرنا ممکن ہے تو ایک عالم حیاتیات کے لیے یہ ممکن ہونا چاہیے کہ وہ ایک مچھلی کا انڈہ لے اور اس کو اپنی لیبوریٹری میں رکھ کر نو مہینے یا نوسال کے اندر اس کو انسان کی صورت میں تبدیل کردے۔ جب کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ بالکل ناممکن ہے۔

اس نظریہ کے بے بنیاد ہونے کی اس سے بھی زیادہ بڑی دلیل یہ ہے کہ فرد کی تمام خصوصیات اول روز ہی سے جین میں موجود ہوتی ہیں۔ بڑا ہو کر آدمی جن اوصاف کا حامل ہوتاہے، وہ سب اس کے اولین ڈھانچہ میں مکمل طورپر موجود رہتاہے۔ اس کا قد، اس کا رنگ، اس کا مزاج، اس کی ذہانت، سب کچھ اول دن ہی سے اس کے اندر پایا جاتا ہے۔بالفاظ دیگر، انسان کا بچہ پہلے دن سے انسان کا بچہ ہوتا ہے، وہ کسی لمحہ بھی مچھلی یا چھپکلی کا بچہ نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ماں کے پیٹ کے ابتدائی ہفتوں میں اور ہمارے مشاہدے کے پیمانہ میں وہ کس صورت کا دکھائی دے رہا ہے۔

2۔ ڈھانچہ میںارتقائی مشابہت سے بھی اصلاً جو بات ثابت ہوتی ہے وہ صرف یہ کہ مختلف جاندار، اپنے بنیادی ڈھانچہ کے اعتبار سے، ایک دوسرے سے بالکل الگ الگ نہیں ہیں۔ بلکہ ان میں بعض پہلوؤں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ مگر اس سے کسی بھی طرح یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ایک قسم کا جانور دوسری قسم کے جانور کے پیٹ سے نکلا ہے۔ بیل گاڑی، گھوڑا گاڑی اور کار کے ڈھانچوں میں بعض پہلوؤں سے مشابہت ہے۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کس قدر عجیب ہوگا کہ بیل گاڑی کے بطن سے گھوڑا گاڑی نکلی ہے اور گھوڑا گاڑی کے بطن سے کار نے جنم لیا ہے۔ اور کار کے بطن سے ہوائی جہاز بر آمد ہوا ہے۔

3۔ متحجرات (fossils)کے مشاہدہ میں بھی مذکورہ بالا نظریہ کے لیے کوئی لازمی دلیل نہیں  ہے۔ اس سلسلے میں طبقاتی ترتیب کو اگر بلا بحث مان لیا جائے تب بھی اس سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ کہ زمین کے اوپر حیوانات کی آباد کاری میں ایک ترتیب ہے۔ ایک قسم کے جانور ایک زمانہ میں وجود میں آئے۔ دوسری قسم کے جانور دوسرے زمانہ میں ۔ مثلاً جس زمانہ میں بندر وجود میں آئے، ٹھیک اسی زمانے میں انسانی نسل شروع نہیں ہوئی۔ اسی طرح جس زمانہ میں مچھلیاں یا چھپکلیاں بنیں، اسی وقت بندر کی نسل کا آغاز نہیں ہوا، وغیرہ۔ یہاں بھی یقیناً وہی آرگمینٹ ہے کہ اس سے تخلیق کی ترتیب ثابت ہوتی ہے، نہ کہ ارتقا کی ترتیب۔یعنی ایک کے پیٹ سے دوسرا، دوسرے کے پیٹ سے تیسرا نکلا۔ یہ ایک علیحدہ مفروضہ ہے۔ مذکورہ مشاہدات میں اس کے لیے براہ راست دلیل موجود نہیں ہے۔ متحجر ہڈیوں کے مطالعہ میں خواہ کتنی ہی احتیاط برتی جائے، ان سے جو بات ثابت ہوگی، وہ صرف یہی ہے کہ کس قسم کے جانور کی ہڈیاں کتنے ہزار سال سے زمین میں دفن ہیں، نہ یہ کہ کون سا جانور کس کے بطن سے نکلا ہے۔

موجودہ ارتقائی تحقیقات سے اگر کوئی چیز ثابت ہوتی ہے تو صرف یہ کہ زمین پر جو مختلف قسم کے جاندار پائے جاتے ہیں وہ سب بیک وقت اول روز سے زمین پر موجود نہیں ہوگئے ہیں۔ بلکہ ان کی تخلیق میں ایک زمانی ترتیب ہے۔ اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ ہر جاندر اپنے وقت میں مستقل طورپر پیدا کیا گیا یا ایسا ہوا کہ بطریق تناسل ایک جاندار کے بطن سے دوسرا جاندار نکلتا رہا۔

جہاں تک دوسرے مفروضہ کا تعلق ہے اس کے حق میں ابھی تک کوئی دلیل یا مشاہدہ سامنے نہیں آیا ۔ دوسری طرف جاندار اول کی حدتک سائنسداں یہ مانتے ہیں کہ وہ پہلی بار مستقل طورپر وجود میں آیا ہے۔ پھر جو مفروضہ پہلے جاندار کے لیے صحیح سمجھا گیا ہے وہی دوسرے جاندار کے لیے بھی کیوں صحیح نہیں ہوسکتا۔ جب کہ تحقیقات نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ پہلا جاندار امیبا (Amoeba) اپنے جسمانی نظام میں بعض اعتبار سے وہی تمام پیچیدگیاں رکھتا ہے جو آخری جاندار (انسان) میں پائی جاتی ہیں۔ اگر پہلے پیچیدہ جاندار کو پہلی بار وجود میں لانا قدرت کے لیے ممکن تھا تو دوسرے پیچیدہ جاندار کو پہلی بار وجود میں لانا اس کے لیے کیوں ناممکن ہوگیا۔

نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (8 ستمبر 2009) میں ایک خبر چھپی تھی۔ اِس خبر کاعنوان یہ تھا — خدا کا عقیدہ انسان کے دماغ میں پیوست ہے

Belief in God hardwired in our brain

خبر میں بتایا گیا تھا کہ انگلینڈ کی برسٹول یونی ورسٹی (Bristol University) میںایک رسرچ ہوئی ہے جس کا نتیجہ ٹائمس آن لائن (Times Online) میں چھپا ہے۔ اِس رسرچ میں بتایاگیاہے کہ— خدا کا عقیدہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود ہوتاہے۔ ارتقاکے دوران انسان کی اِس طرح پروگریمنگ ہوئی ہے کہ وہ خدا پر عقیدہ رکھے، کیوں کہ اِس سے اُنھیں زندہ رہنے کا زیادہ بہتر موقع ملتاہے

We are born believers. Human beings are programmed by evolution to believe in God, because it gives them a better chance to survival. (p. 17)

اِس بیان میں عقیدہ خدا کا فطری ہونا تو رسرچ کا حصہ ہے، لیکن ارتقاء (evolution) والی بات رسرچ کرنے والوں کا اپنا اضافہ ہے— حقیقی مشاہدات میںاِسی قسم کے مفروضات کے اضافے سے حیاتیاتی ارتقا کا پورا نظریہ قائم کیاگیا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content