Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala January 2019
Al-Risala January 2019

ایک سوال

Urdu · 5 min

اکثر علماء یہ سوال کرتے ہیں کہ صاحب الرسالہ کا منہج اخذ واستدلال کیا ہے؟ اس سلسلے میںجواب مطلوب ہے۔ (حافظ سید اقبال عمری، عمرآباد، تامل ناڈو)

اس معاملہ میں ہمارا منہج وہی ہے جو عملاً تمام علما کا معروف منہج ہے۔ اس منہج کی اصل صحابی رسول حضرت معاذ بن جبل کی حدیث میں موجود ہے۔ یہ حدیث سنن الترمذی، ابوداوود، اور مسند احمد وغیرہ کتب حدیث میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الیَمَنِ، فَقَالَ:کَیْفَ تَقْضِی؟، فَقَالَ:أَقْضِی بِمَا فِی کِتَابِ اللہِ، قَالَ:فَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِی کِتَابِ اللہِ؟، قَالَ:فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:فَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِی سُنَّةِ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ:أَجْتَہِدُ رَأْیِی، قَالَ: الحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّہِ(سنن الترمذی، حدیث نمبر1327)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

معاذ بن جبل کے بعض ساتھیوں سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن بھیجنے کا ارادہ کیا تو پوچھا: تم کس طرح فیصلہ کرو گے ۔ انہوں نے کہا اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے پوچھا: اگر تم اللہ کی کتاب میں وہ مسئلہ نہ پاؤ ؟ انھوں نےکہاکہ رسول اللہ کی سنت کے مطابق (فیصلہ کروں گا)۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : اگر سنتِ رسول میں بھی نہ پاؤ ؟ انھوں نے کہا کہ اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا: اللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے رسول اللہ کے رسول کو اس چیز کی توفیق دی۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس حدیث کو بعض علماء نے ضعیف بتایا ہے۔ لیکن یہ تضعیف خالص فنی بنیاد پر ہے۔ چناں چہ دوسرے علما ءنے اس کی تصحیح کی ہے، مثلاً ابن القیم الجوزیہ ۔ اس فنی بحث سے الگ ہوکر دیکھا جائے تو عملاً تمام علماء نے اس روایت کو تسلیم کیا ہے۔ کیوں کہ تمام علماء کے متفقہ مسلک کے مطابق مصادر شریعت چار ہیں، قرآن، سنت ، قیاس، اور اجماع۔ یہ مسلک عین معاذ بن جبل کی روایت کے مطابق ہے۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ باعتبار حقیقت مصادر شریعت چار نہیں ہیں، تین ہیں۔ کیوں کہ قیاس اور اجماع دونوں حقیقت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ جب قیاس کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد انفرادی قیاس ہوتا ہے اور جب اجماع کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد اجتماعی قیاس ۔ قیاس اور اجماع دونوں کی اصل اجتہاد ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہاں میں اضافہ کروں گا کہ قرآن میں اجتہاد کا لفظ نہیں آیا ہے۔ البتہ اس کے ہم معنی دوسرالفظ آیا ہے، اور وہ استنباط (النساء ، 4:83)ہے۔اجتہاد اور استنباط دونوں کا مشترک مفہوم ایک ہے، اوروہ استخراج (inference)ہے۔ جب کسی معاملہ میں حکم شرعی منصوص انداز میں موجود ہو تو وہاں کسی اجتہاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن جب کسی معاملہ کا حکم بشکل نص موجود نہ ہو تو وہاں ضرورت ہوتی ہے کہ غور و فکر کرکے متعلقہ معاملہ میں حکم کی شرعی تطبیق (application) کو دریافت کیا جائے۔ اسی عمل کو استخراج کہا جاتا ہے۔ یعنی نص شرعی کے حدود میں رہتے ہوئے، بطریق استنباط متعلقہ معاملہ کا حل تلاش کرنا۔

مومن کا مشن عالمی دعوت کا مشن ہے۔ یہ ذہن فطری طورپر مومن کے اندر آفاقیت پیدا کرتا ہے۔ اس کا نشانہ پوری انسانیت ہوتی ہے۔ وہ قومی تعصب سے یکسر خالی ہوتاہے۔ وہ سارے انسانوں کا خیر خواہ ہوتا ہے۔ وہ سارے انسانوں کو ایک فیملی کی طرح اپنا سمجھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن ’’ہم اور وہ‘‘(We and They) کے تصور سے ناآشنا ہوتا ہے۔ اِس کے بجائے مومن کا تصور ’’ہم اور ہم‘‘ (We and We) کے تصور پر مبنی ہوتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیاہےکہ اللہ تمام انسانوں کا رب ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو مومن کا ذہن بناتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content