Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala January 2016
Al-Risala January 2016

کوئی دشمن نہیں

Urdu · 2 min read

پچھلے زمانے میں کوئی کسی کا دوست ہوتا تھا ، اور کوئی کسی کا دشمن۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب کوئی نہ کسی کا دوست ہے، اور نہ کوئی کسی کا دشمن۔ اب ہر آدمی پرو سیلف (pro-self) ہے۔ ہر آدمی کا ایک ہی کنسرن (concern) ہے۔ اور وہ اس کا اپنا انٹرسٹ ہے۔ آج کا انسان اپنے انٹرسٹ میں اتنا گم ہے کہ اس کو کسی اور کے خلاف سوچنے کی فرصت نہیں۔

اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا فرق کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانے میں مواقع (opportunities)بہت محدود ہوتے تھے۔ مواقع پر ایک مراعات یافتہ طبقہ (privileged class) کا قبضہ ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں اصولی طور پر یہ صورتِ حال ختم ہوگئی ہے۔ اب تمام مواقع ہر آدمی کے لیے کھل گیے ہیں۔ اس لیے ہر آدمی اپنے انٹرسٹ کے لیے دوڑ رہا ہے۔ ذاتی انٹرسٹ کے اس دوڑ میں کسی کے پاس دوسرے کے خلاف سوچنے کا وقت نہیں۔ کسی کے پاس دوسرے کے خلاف دشمنی اور سازش کرنے کا وقت نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ دشمنی کا لفظ دور جدید کی ڈکشنری سے عملاً حذف ہوچکا ہے۔ اب اگر کوئی کسی کا دشمن بنتا ہے تو وہ اس وقت بنتا ہے جب کہ اس کو’’پتھر‘‘ مار کر اس کو مشتعل کردیا جائے۔ اگر آپ آبیل مجھے مار کی سیاست اختیار کرکے کسی کے ایگو (ego)کو چھیڑ دیں تو وہ ضرور آپ کو سینگ مارے گا۔ اگر آپ مکمل طور پر پر امن بن جائیں تو کوئی شخص نہ آپ کا دشمن ہوگا، اور نہ کوئی شخص آپ کے خلاف سازش کرے گا۔

ایک حدیث رسول موجودہ زمانے میں مزید اضافہ کے ساتھ صادق آتی ہے: الفتنۃ نائمۃ لعن اللہ من أیقظھا (کنز العمال، حدیث نمبر 30891) یعنی فتنہ سویا ہوا ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہو جو اس کو جگائے— ہوش مندی کے ساتھ زندگی گزاریے، اور پھر آپ کو کسی سے دشمنی کا تجربہ نہ ہوگا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content