Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala January 2016
Al-Risala January 2016

پست ہمتی نہیں

Urdu · 2 min read

قرآن میں اہل ایمان کی ایک صفت ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے:فَمَا وَہَنُوا لِمَا أَصَابَہُمْ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَکَانُوا وَاللَّہُ یُحِبُّ الصَّابِرِینَ۔ (3:146)یعنی اللہ کی راہ میں جو مشکلات ان پر آئیں، ان سے نہ وہ پست ہمت ہوئے، نہ انھوں نے کمزوری دکھائی۔ اور نہ وہ دبے۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ ا ٓیت میں سبیل اللہ سے مراد سبیل الجہاد نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق زندگی کے حالات سے ہے۔ یعنی ناموافق حالات میں صبر کی روش پر قائم رہنا اور کسی حال میں پست ہمت نہ ہونا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میدانِ جنگ (battlefield) کا مسئلہ تو کبھی پیش آ تا ہے ،اور کبھی پیش نہیں آتا ۔ اس آیت کا تعلق اس قسم کے اتفاقی واقعے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق روز مرہ کی زندگی سے ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو آزادی ملی ہوئی ہے۔ اس بنا پر دنیا ہمیشہ مسائل کا جنگل بنی رہتی ہے۔ ایسی دنیا میں ایک بااصول انسان کے لیے زندگی گزارنا گویا جھاڑی کے درمیان سفر کرنا ہے۔ بااصول انسان اگر حالات سے گھبراجائے تو وہ اپنے اصول پر قائم نہیں رہ سکتا۔ اس کا حل صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے، مسائل پر صبر کرنا اور اپنے ذہن کو ہمیشہ اصول پر جمائے رکھنا۔

صبر کا تعلق کسی ایک معاملے سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تمام معاملے سے ہے— درست طور پر سوچنا، درست طور پر بولنا، درست طور پر عمل کرنا، لوگوں کے ساتھ تعلقات میں درست رویہ پر قائم رہنا۔ ہر چیز کا تعلق صبر سے ہے۔ صبر کا مطلب عزم سے ہے۔ باعزم انسان وہ ہے جو صابر انسان ہو۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ایک باعزم انسان بنے ۔ وہ کسی بھی معاملے میں اپنے عزم کو نہ کھوئے۔

صبر با مقصد انسان کے لیے ایک اعلی اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔صبر کے بغیر، بامقصد زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ صبر واحد چیز ہے جوایک بامقصد انسان کو ہر حال میں اپنے مقصد پر قائم رکھتا ہے۔صبر نہیں تو بامقصد زندگی بھی نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content