قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زمین وآسمان (کائنات) کو اللہ نے بہترین تخلیق پر پیدا کیا ہے - ساری کائنات میں تم کہیں کوئی نقص یا فطور (flaw)نہیں پاؤگے( 67:3) - ایک طرف کائنات کے بارے میں قرآن کا یہ بیان ہے، اور دوسری طرف انسان کے بارے میں قرآن بتاتا ہے کہ انسان کو مشقت یا کبد ( 90:4) میں پیدا کیا گیا - پوری تاریخ کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ انسان کا کیس خسر (العصر) کا کیس ہے، یعنی گھاٹا (loss) کا کیس- انسانی دنیا اور بقیہ دنیا میں یہ فرق کیوں-
حقیقت یہ ہے کہ انسانی وجود سے لے کر عالم کائنات تک پوری تخلیق بہترین تخلیق پر پیدا کی گئی ہے- خالق کی تخلیق میں creation کے اعتبار سےپورے عالم کائنات میں کہیں کوئی ذاتی نقص (defect) موجود نہیں- نقص یا فساد (evil) صرف انسانی سماج میں پایا جاتاہے، جسے انسان خود اپنی سرگرمیوں سے وجود میں لاتاہے- اس کا سبب یہ ہے کہ انسان پیدائشی طورپر آزاد ہے- یہ انسانی آزادی کا غلط استعمال ہے، جس کی وجہ سے انسانی دنیا میں وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو فلاسفہ خرابی کا مسئلہ (problem of evil) کہتے ہیں-
انسانی دنیا کا مسائل کی دنیا (world of problems) ہونا کوئی نقص کی بات نہیں- اس معاملہ کا ایک مثبت پہلو (positive aspect) ہے- ان مسائل کی وجہ سے دنیا میں چیلنج کی صورت حال پیدا ہوتی ہےاور تمام انسانی ترقیاں ہمیشہ چیلنج کے ذریعہ ظہور میں آتی ہیں- انسان کو اس کے خالق نے لامحدود پوٹینشیل (potential) کے ساتھ پیدا کیا ہے- اس پوٹینشیل کو ایکچول(actual) بنانا صرف چیلنج کے حالات میں ممکن ہے- اگر چیلنج نہ ہو تو انسان کی شخصیت میں چھپے ہوئے امکانات ظہور میں نہیں آئیں گے، انسانی ارتقا کا عمل مکمل طورپر رک جائے گا، انسان اپنی تکمیل سے محروم رہ جائے گا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔