مرنے والے مرگئے— یہ سب کو معلوم ہے۔ مگر ایک اور خبر ایسی ہے جو کسی کو معلوم نہیں، وہ یہ کہ مجھے بھی ایک دن مرنا ہے۔ ایک دن میرا بھی وہی انجام ہونے والا ہے جو انجام دوسروں کا ہوچکا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ لوگ دوسروں کو ہر روز مرتا ہوا دیکھتے ہیں، لیکن خود اپنے آپ کو وہ اُس سے الگ (exempt) کر لیتے ہیں۔ گویا کہ ہر آدمی بلا اعلان اپنی زبانِ حال سے یہ کہہ رہا ہے کہ — دوسروں کو مرنا تھا، وہ مرگئے، لیکن میں تو مرنے والا نہیں۔
یہ بے خبری ایک ہلاکت خیز بے خبری ہے۔ یہ وہ انوکھی بے خبری ہے جس کو شتر مرغ کی عادت (ostrich habit) کہا جاتاہے۔ کوئی شخص اپنی موت کے بارے میں سوچے یا نہ سوچے، موت بہر حال اس کی طرف دوڑی چلی آرہی ہے۔
موت گویا کہ ایک انفرادی زلزلہ ہے۔ زلزلہ اعلان کے بغیر آتا ہے۔ اِسی طرح موت بھی اعلان کے بغیر آتی ہے۔ زلزلے کے مقابلے میں ہر آدمی بے بس ہے۔ اِسی طرح موت کے مقابلے میںبھی ہر آدمی بالکل بے بس ہے۔ موت آچانک آتی ہے اور وہ آدمی کے خیالی محل کو مکمل طور پر ڈھا دیتی ہے۔ انسان اگر یہ چاہے کہ وہ موت کو روک دے تو ایسا ہونے والا نہیں۔ موت کا اپنا قانون ہے، جو انسان کی مرضی کے بغیر اپنا کام کرتاہے۔
اس صورت ِ حال کا تقاضا ہے کہ ہر آدمی موت کے بارے میں بے حد حساس ہو۔ وہ ہر لمحہ موت کو یاد کرتا رہے۔ ہر روز جب شام آئے تو وہ محسوس کرے کہ اب اس کے لیے اگلی صبح مقدر نہیں۔ ہر روز جب وہ اپنے بستر پر سوئے تو اس کا احساس یہ ہو کہ اب دوبارہ اِس دنیا میں میری نیند کھلنے والی نہیں۔ یہ احساس اگر آدمی کو ہوجائے تو وہ آخری حد تک ہل جائے گا۔ اس کے لیے جینا سادہ معنوں میں صرف جینا نہ رہے گا، بلکہ وہ موت کا انتظار بن جائے گا— خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو موت کے اچانک حملے سے پہلے موت سے با خبر ہوجائیں، وہ موت کے آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری کرلیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.