Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala January 2012
Al-Risala January 2012

محبت الٰہی سے محرومی کیوں

Urdu · 2 min read

قرآن کے مطابق، خدا کی اعلیٰ معرفت صرف اُس شخص کو ملتی ہے جس کو اللہ سے اعلیٰ تعلق قائم ہوجائے۔ اللہ سے اعلیٰ تعلق کی پہچان یہ ہے کہ انسان کو اللہ سے حبّ شدید (2: 165) اور اللہ سے خوفِ شدید (9: 18) پیدا ہوجائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جب کسی انسان کو اللہ کے ساتھ اِس قسم کا گہرا تعلق پیدا ہوجائے تو اس کے اندر ذکرِ کثیر (33: 41)کی صفت پیدا ہوجاتی ہے، یعنی اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنا، اللہ کے لیے بہت زیادہ سوچنا۔ اللہ کے ساتھ تعلق میں اگر ایک فی صد بھی کمی آجائے تو ایسے انسان کو اللہ کی اعلیٰ معرفت حاصل نہیں ہوگی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہود کا حال بعد کے زمانے میں یہ ہوا کہ ان کا گہرا تعلق اللہ سے نہ رہا، بلکہ اپنے اَحبار اور رُہبان سے ہوگیا۔ اِس کے نتیجے میں وہ اللہ کی اعلیٰ معرفت سے محروم ہوگئے۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال ہے۔ مسلمانوں کے ہر گروہ کے کچھ بڑے (bigs) ہیں اور ان کا گہرا تعلق اپنے اِنھیں بڑوں سے ہے، نہ کہ خداوند ذوالجلال سے۔

اپنے اِن بڑوں کو انھوں نے مقدس نام دے رکھے ہیں۔ مثلاً اکابر، اسلاف، مشائخ، بزرگانِ دین، وغیرہ۔مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے اِنھیں مفروضہ بڑوں سے گہرا قلبی تعلق رکھتے ہیں۔ اِس گہرے قلبی تعلق کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے اِن بڑوں کے خلاف علمی تنقید کو بالکل پسند نہیں کرتے۔

یہ غیر خدا کے ساتھ حب شدید کا تعلق قائم کرنا ہے او ر جو لوگ کسی غیر خدا کے ساتھ حب شدید کی نفسیات میں مبتلا ہوں، وہ کبھی اللہ کی محبت کی توفیق نہیں پاتے۔ ایسے لوگوں کے حصے میں صرف رسمی عقیدہ آتاہے، نہ کہ اعلیٰ ایمان باللہ جو آدمی کو اعلیٰ معرفت تک پہنچانے والا ہو—محبت الٰہی کی ایک قیمت ہے، اور یہ قیمت ادا کئے بغیر کسی کو اللہ کی محبت حاصل نہیں ہوسکتی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content