محرم کی دسویں تاریخ کے روزہ کو عاشورا کا روزہ کہا جاتا ہے۔ کچھ مسلمان اِس روزے کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور اِس دن اہتمام کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں۔ روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عاشورا کے روزے کی وہ اہمیت نہیں ہے جو عام طورپر مسلمانوں کے درمیان رواجی طورپر پائی جاتی ہے۔ وہ صرف ایک مستحب روزہ ہے، جیسا کہ دوسرے بہت سے مستحبّات۔
روایات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں تھے تو وہاں اہلِ مکہ کے درمیان دورِ جاہلیت سے ایک رواج چلا آرہا تھا، اور وہ عاشورا کا روزہ تھا۔ وہ اِس کو حضرت ابراہیم سے منسوب کئے ہوئے تھے۔ مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِس رواج کے تحت عاشورا کا روزہ رکھا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ آئے تو یہاں اُس وقت یہود بڑی تعداد میں آباد تھے۔ یہود بھی عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے۔ وہ اس کو حضرت موسیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے۔ یہود کے اِس رواج کے تحت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مدینہ میں عاشورا کا روزہ رکھا۔
اِس سے معلوم ہوا کہ عاشو را کا روزہ دوسرے مذہبی گروہ کے رواج کے تحت تھا، مکہ میں مشرکین کے قدیم رواج کے تحت، اور مدینہ میں یہود کے قدیم رواج کے تحت۔ یہاں یہ سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ایک شریعت لائے تھے، پھر آپ نے دوسرے مذہبی گروہوں کے رواج کے تحت کیوں عاشورا کا روزہ رکھا۔ یہ دراصل تالیفِ قلب کی عظیم حکمت کے تحت تھا۔ چناں چہ ابن حجر العسقلانی نے اِس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے: أن یکون ذلک استئلافاً للیہود کما استألفہم باستقبال قبلتہم (فتح الباری، کتاب الصوم، با ب صیام یوم عاشوراء) حقیقت یہ ہے کہ عاشورا کے روزے کا معاملہ کسی دن کی فضیلت کی بنا پر نہیں تھا، بلکہ وہ تالیفِ قلب کے لیے تھا۔ مکہ میں قیام کے دوران آپ نے مشرکینِ مکہ کی تالیفِ قلب کے لیے اُن کے رواج کے تحت اُسی دن روزہ رکھا۔ اور مدینہ میں یہود کی تالیفِ قلب کے تحت، آپ نے اُن کے رواج کے مطابق وہاں روزہ رکھا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔