← Al-Risala January 2011Al-Risala January 2011
مسئلہ کا حل
Urdu · 5 min read
اکیسویں صدی عیسوی سنگین مسائل کی صدی ہے۔ اِن میں سے دو مسئلے بہت بنیادی ہیں— ایک ہے فطرت کے توازن میں بگاڑ(natural disorder) ، اور دوسرا ہے سوشل انارکی (social anarchy)۔ اِن دونوں مسائل کا مشترک پہلو یہ ہے کہ دونوں ہی انسانوں کے پیدا کردہ (man-made) مسائل ہیں۔ اگر اِن مسائل کو حل کرنا ہے تو ا س کی صرف ایک صورت ہے ا ور وہ یہ کہ انسان اپنی روش کو بدلے۔ بصورتِ دیگر، اِن مسائل کا مہلک انجام یقینی ہے۔
اصل یہ ہے کہ خالق نے انسان کو پیدا کیا اور پھر اس کو موجودہ زمین پر بسایا۔ خالق نے اپنے تخلیقی پلان کے مطابق، انسان کو ایک بنیادی ہدایت دی، وہ یہ کہ خالق نے انسانی عمل کے لیے کچھ حدود مقرر کردیے ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان حدود کی پابندی کرے۔ یہ بات ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: وحدَّ حُدوداً فلا تعتدوہا (جامع العلوم والحکم 2/150 ) یعنی اللہ نے کچھ حدیں مقرر کردی ہیں، تم ان سے تجاوز نہ کرو:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
O man, God has set certain limits for you. Don't cross those limits.
یہ بات انسان کو اس کی پہلی ہی نسل میں بتا دی گئی تھی۔ خالق نے جب آدم کو پہلے انسان کی حیثیت سے پیدا کیا تو ان کو اور ان کی بیوی حوا کو جنت میں بسایا۔ اُن سے کہاگیا کہ تم جنت میں ہر قسم کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے آزاد ہو، مگر اُس کے فلاں درخت تک مت جاؤ۔ قرآن کے مطابق، ایک عرصے کے بعد ایسا ہوا کہ آدم اپنی حد سے تجاوز کرتے ہوئے اُس درخت تک گئے اور اس کا پھل کھالیا۔ اس کے بعد دونوں جنت سے نکال کر موجودہ زمین پر آباد کردئے گیے۔ زمین پر آدم اور ان کی بیوی کو آزادی حاصل تھی، لیکن یہ صرف محدود آزادی تھی۔ آزادی کو لامحدود طورپر حاصل کرنے کی صورت میں دوبارہ یہ اندیشہ تھا کہ زمین اُن سے چھن جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے دوبارہ انسان کو یہ ہدایت دی کہ زمین کو تمھیں اصلاح یافتہ صورت میں دیاگیا ہے، تم اس میں فساد برپا نہ کرنا: ولا تفسدوا فی الأرض بعد اصلاحہا (7: 85)۔ اکیسویں صدی میں جو بگاڑ سامنے آیا ہے، ا س کا سبب یہی ہے کہ انسان نے اپنی حد سے تجاوز کیا اور اس کے نتیجے میں اس نے اصلاح یافتہ زمین کو فساد میں مبتلا کردیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ماحولیات کا مسئلہ
موجودہ زمانے میں ماحولیات (ecology) کا جو مسئلہ پیدا ہوا ہے، وہ براہِ راست طورپر اِسی ’’فساد‘‘ کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موجودہ زمین کو انسان کے لیے صرف عارضی قیام گاہ کے طورپر پیدا کیا ہے۔ اِس لیے یہاں جو بھی وسائل ہیں، وہ سب محدود مقدار میں ہیں۔ موجودہ زمانے میں جب جدید ٹکنالوجی آئی تو انسان نے اِن وسائل کو لامحدود طورپر استعمال کرنا شروع کردیا۔ اِس کے نتیجے میں وہ ظاہرہ پیدا ہوا جس کو زیادہ اخراجِ کاربن (excess carbon emission) کہا جاتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں مختلف سنگین مسائل پیدا ہوئے۔ مثلاً گلوبل وارمنگ، ائر پلوشن، واٹر پلوشن، وغیرہ۔اِس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ انسان اپنے لائف اسٹائل کو بدلے۔ وہ فطرت کے نقشے کے مطابق، سادہ لائف اسٹائل کو اختیار کرے۔
سوشل انارکی
سوشل انارکی کیا ہے۔ وہ انسانی آزادی کا غلط استعمال ہے۔ انسان اپنی آزادی کو اگر محدود طورپر استعمال کرے تو اس سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوتی، لیکن اگر وہ اپنی آزادی کو لامحدود طورپر استعمال کرنے لگے تو اس کے بعد لازماً وہی چیز پیدا ہوگی جس کو سوشل انارکی کہا جاتا ہے۔ امریکا سے ایک کتاب چھپی ہے۔ اس کے مصنف پروفیسر بی ایف اسکنر(B F Skinner) ہیں۔ کتاب کا ٹائٹل یہ ہے:) (Freedom and Dignity۔ اِس کتاب میں مصنف نے لامحدود آزادی کے نظریے پر تنقید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ — ہم لامحدود آزادی کا تحمل نہیں کرسکتے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
We can't afford unlimited freedom.
ایک واقعہ اِس معاملے کو بخوبی طورپر واضح کرتا ہے۔ ڈیڑھ سو سال پہلے جب امریکا کو آزادی ملی تو ایک امریکی شخص بہت خوش ہوا۔ وہ اپنے گھر سے نکل کر قریب کی ایک سڑک پر چل رہا تھا۔ خوشی میں وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو بہت زیادہ ہلا رہا تھا۔ اِس دوران وہاں سے ایک اور امریکی شخص گزرا۔ اُس وقت یہ ہوا کہ پہلے شخص کا ہاتھ دوسرے شخص کی ناک پر لگ گیا۔ دوسرے شخص نے کہا — یہ تم نے کیا کیا، تم نے کیوں میری ناک پر مارا۔ پہلے شخص نے جواب دیا کہ امریکا آج آزاد ہے، میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔ دوسرے شخص نے کہا کہ — تمھاری آزادی وہاں ختم ہوجاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے:
Your freedom ends, where my nose begins.
یہ فطرت کا ایک اصول ہے۔ یہاں انسان کو آزادی حاصل ہے، لیکن یہ آزادی ایک محدود آزادی ہے۔ انسان اگر اپنی آزادی کو لامحدو طور پر استعمال کرنے لگے تو اس کا نتیجہ لازماً اجتماعی بگاڑ کی صورت میں ظاہر ہوگا۔جدید انسان کی غلطی یہ ہے کہ اس نے آزادی کو عظیم ترین خیر (summum bonum) سمجھ لیا۔ اِس کے نتیجے میں کامل آزادی (total freedom) کا نظریہ پیداہوا۔ یہی وہ نظریہ ہے جو موجودہ سوشل انارکی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اِس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ انسان دوبارہ لامحدود آزادی سے محدود آزادی کی طرف واپس جائے۔اِس کے سوا اِس مسئلے کا دوسرا اور کوئی حل موجود نہیں۔