ایک انگریزحقیقت کی تلاش میںتھا۔ اِس سلسلے میں اُس نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ ایک کتاب میں اُس نے پڑھا کہ سب سے بڑی عبادت زندہ لوگوں کی خدمت ہے۔ پھر اس کو معلوم ہوا کہ خدمت کے سب سے زیادہ مستحق حیوانات ہیں۔
چناں چہ اس انگریز نے حیوانات کی خدمت کرنے کا فیصلہ کیا۔ آخر کار وہ ہندستان آگیا۔ اب یہ انگریز اور اس کی بیوی دونوں نئی دہلی میںرہتے ہیں۔ ان کے گھر کے وسیع احاطے میں دس گدھے پلے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں ان گدھوں کی خدمت کرتے ہیں۔
ہمارے ایک ساتھی تلاش کرتے ہوئے اس کے گھر پہنچے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ وہ بیٹھا ہوا ایک گدھے کی ڈریسنگ (dressing) کررہا ہے۔ ہمارے ساتھی جرأت کرکے اس کے پاس گئے۔ ہمارے ساتھی ان کے پاس قرآن کے انگریزی ترجمہ کی ایک کاپی تھی۔
مذکورہ آدمی سے ہمارے ساتھی نے کہا،کیا میں یہ قرآن آپ کو دے سکتاہوں۔ وہ انگریز کھڑا ہوگیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے قرآن کی کاپی اپنے ہاتھ میں لے لی اور کہا کہ — میں ہمیشہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ سچائی کا دوسرا نقطۂ نظر کیا ہے:
I always wanted to know another version of truth.
اِس قول کو جنرلائز کیا جائے تو اِس میں بیش تر انسانوں کی کہانی چھپی ہوئی ہے۔ وہ لوگ جو کسی چیز کو سچائی سمجھ کر اُسے لئے ہوئے ہیں، وہ سب غیر مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اِس احساس میں رہتے ہیں کہ سچائی شاید کچھ اور ہے، کیوں کہ موجودہ سچائی ان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کررہی ہے۔
اصل یہ ہے کہ انسان کے اندر سچائی کی طلب پیشگی طورپر موجود ہے۔ وہ اِس طلب کے تحت کسی نہ کسی چیز کو بطور سچائی لے لیتا ہے، لیکن وہ ہمیشہ بے اطمینانی کی نفسیات میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ سمجھتا رہتا ہے کہ حقیقی سچائی شاید کچھ اور ہے جس کو اُسے پانا چاہیے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔