قرآن کی سورہ البقرہ میں یہود کے حوالے سے ایک قانونِ فطرت بتایاگیا ہے۔ آیت کے الفاظ یہ ہیں: ضُربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ وباؤوا بغضب من اللّٰہ(2: 61) یعنی اُن پر ذلت اور مسکنت ڈال دی گئی اور وہ غضب الٰہی کے مستحق ہوگئے۔
قرآن کی اِس آیت میں ’’ذلت اور مسکنت‘‘ کا لفظ نفسیاتی معنی میں ہے۔ یہ وہ حالت ہے جب کہ آدمی بظاہر ذلیل نہ ہو، اس کے باوجود وہ اپنی داخلی نفسیات کی بنا پر اپنے آپ کو ذلیل محسوس کرے۔ وہ بظاہر محتاج نہ ہو، لیکن اِس کے باوجود وہ اپنی داخلی نفسیات کی بنا پر اپنے آپ کو محتاج محسوس کرے ۔قرآن کی مذکورہ آیت میں اُن کی اِسی نفسیاتی حالت کا ذکر ہے، نہ کہ اُن کی واقعی حالت کا۔
یہ نفسیاتی حالت اُس قوم کے اندر پیدا ہوجاتی ہے جو اپنے عقیدے اور اپنی تاریخ کی بنا پر اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگے، جس کے یہاں اعتقادی طورپرخیر الملل اور افضل الامم کا تصور پایا جاتا ہو۔ اِسی کے ساتھ وہ اپنی گزشتہ تاریخ کی بنا پر عظمتِ رفتہ (past glory) کی یادوں میں جینے والی ہو۔ جو قوم اِس نفسیات میں مبتلا ہو، اس کے اندر فرضی فخر (false pride) کا ذہن بن جاتاہے، اور یہی فرضی فخر ہے جس کی بنا پر نفسیاتی ذلت اور نفسیاتی مسکنت کا ذہن کسی قوم میں پیدا ہوجاتا ہے۔
فرضی فخر کی یہ نفسیات نمایاں طور پر دو مذہبی گروہوں میں پیدا ہوئی— ایک، یہود اور دوسرے، مسلمان۔ پہلے زمانے میں یہود اِس نفسیات میں مبتلا ہوئے تھے اور موجودہ زمانے میں مسلمان اِس نفسیات کا شکار ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمان ایک بلین سے زیادہ ہیں، 57 ملکوں میں ان کی حکومت ہے۔ مادی اعتبار سے، ان کو ہر چیز حاصل ہے۔ اِس کے باوجود ہر مسلمان من حیث القوم ذلت اور مسکنت کی نفسیات میں جی رہا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کو جو کچھ ملا ہوا ہے، وہ اُن کو اپنے فرضی فخر (false pride)سے کم نظر آتاہے — فرضی فخر کی یہی نفسیات موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے تمام مسائل کا اصل سبب ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔