Maulana Wahiduddin Khan
81 min left
0:00

← Al-Risala January 2009
Al-Risala January 2009

Main Content

Urdu · 81 min read

قرآن کی سورہ نمبر 43 کی ایک آیت میں ایک خدائی قانون کو بیان کیاگیا ہے۔ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے ’’کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں۔ دنیا کی زندگی میںاُن کی روزی کو تو ہم نے تقسیم کیا ہے، اور ہم نے ایک کو دوسرے پر فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لیں‘‘ (الزّخرف 32 )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دنیا میںکسی شخص کو جو کچھ ملتا ہے، وہ اس کو انعام کے طورپر نہیں ملتا، بلکہ وہ اس کو امتحان کے طورپر ملتا ہے۔ مثلاً دولت، شہرت، اقتدار، وغیرہ میںبرابری (equality) کا اصول نہیں ہے، بلکہ فرق (difference) کا اصول ہے۔ یہ فرق امتحانی مصلحت کی بنا پر ہوتا ہے۔ لوگوں کے درمیان اگر دُنیوی چیزوں میں برابری ہو، تو لوگوں کے درمیان امتحان کی حالت قائم نہ ہوسکے گی، جب کہ خداکے تخلیقی پلان کے مطابق، امتحان کی حالت لازمی طورپر ضروری ہے۔ خدا کے قائم کردہ اِس فرق کی بنا پر، نہ کہ سازش (conspiracy) یا استحصال (exploitation) کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ دنیوی معاملات میں کوئی اوپر ہوتا ہے اور کوئی نیچے۔

اِس فرق کو ماننے کا مطلب حقیقت کا اعتراف ہے۔ حقیقت کا اعتراف کرنے سے آدمی کے اندر مثبت طرزِ فکر پیدا ہوتا ہے، اس کے اندر مثبت اخلاقیات کی پرورش ہوتی ہے، اس کے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔ جولوگ حقیقت کا اعتراف نہ کریں، وہ منفی نفسیات کا شکار ہوجائیں گے۔

اِس دنیا میں تمام مثبت فوائد حقیقت کا اعتراف کرنے والے کو ملتے ہیں۔ اِس لیے آدمی مجبور ہوتا ہے کہ وہ دل سے حقیقت کو نہ مانتے ہوئے بھی عملی طورپر اُس سے ایڈ جسٹ کرلے، اِسی کا مذہبی نام منافقت ہے۔ حقیقت کا اعتراف نہ کرنا ہمیشہ نفاق کی قیمت پر ہوتا ہے، اور بلاشبہہ نفاق سے زیادہ بُری کوئی چیز اِس دنیا میں نہیں۔ہم خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ہیں، نہ کہ اپنی بنائی ہوئی دنیا میں۔ خدا کی دنیا میںاپنی مرضی کے مطابق رہنے کی کوشش کرنا ہی تمام برائیوں کی اصل جڑ ہے۔

ابلیس کا چیلنج

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آدم کے آگے جھکنے کے سوال پر ابلیس (شیطان) غصہ ہوگیا۔ اُس نے خدا سے کہا کہ مجھے موقع دیا جائے تو میں ساری نسلِ آدم کو بہکا دوں گا۔ اُس وقت اُس نے چیلنج دیتے ہوئے کہا ولا تجد أکثرہم شاکرین (الأعراف 17) یعنی تو اُن میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Most of them, You will not find grateful. (7:17)

انسان کے اوپر خدا کے ان گنت احسانات ہیں۔ اِس کے باوجود کیوںایسا ہوتاہے کہ انسان اِن نعمتوں کا اعتراف نہیں کرتا اور وہ ناشکر گزار بن جاتا ہے۔ اِس کا راز خود ابلیس کے کردار کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ ابلیس ایک جن تھا (الکہف 50)۔ جنوں کے اوپر خدا کے بے شمار احسانات تھے۔ جن غیر موجود تھے، خدا نے اُن کو وجود دیا۔ جنوں کو آزادی کی نعمت دی۔ ان کو غیر معمولی اختیار بخشا۔ ان کو طویل زندگی عطا کی۔ خدا کی دنیا میں زندہ رہنے کے لیے ان کو تمام ضروری سامان دیے۔ اِس کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ ابلیس، خدا کا ناشکر گزار بن گیا۔ اِس کا راز یہ تھا کہ ابلیس پر شکایتی احساس اتنا زیادہ غالب ہوا کہ وہ خدا کے تمام انعامات کو بھول گیا۔ شکایت کے صرف ایک واقعے کو اُس نے اِس طرح جنرلائز کیا کہ اس کو شکایت کے سوا کوئی اور بات یاد ہی نہ رہی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابلیس کا خاص طریقہ یہی ہے کہ وہ انسانوں کے اندر شکایتی مزاج اِس طرح بنائے کہ انسان شکایت کے ایک واقعے کو لے لے اور دوسری تمام اچھی باتوں کو نظر انداز کرکے اُسی ایک شکایتی بات کو اپنا مرکزی خیال بنا لے۔ وہ ایک منفی بات کو اِس طرح جنرلائز کرے کہ دوسری تمام مثبت باتیں اس کی نظروں سے اوجھل ہوجائیں، یہاں تک کہ شکر گزاری کے بے شمار پہلوؤں کے باوجود وہ ناشکر گزار بن جائے۔ جو لوگ اپنے آپ کو اِس طرح کے احساسِ ناشکری میں پائیں، اُنھیں یقین کرنا چاہیے کہ وہ شیطان کے زیر اثر آگئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو فوراً توبہ کرکے اپنی اصلاح کرنا چاہیے، ورنہ وہ خدا کی سخت پکڑ کی زد میں آجائیں گے۔

صبر، محاسبہ، توسم

ایمان کے بعد مطلوب زندگی کی تعمیر کے لیے تین بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے۔ اِن تینوں چیزوں کو اختیار کیے بغیر کوئی شخص سچا مومن نہیں بن سکتا۔ وہ تین چیزیں یہ ہیں— صبر، محاسبہ، توسم۔

ایمان لانے کے بعد ہر مومن کے لیے سب سے پہلا مرحلہ یہ پیش آتا ہے کہ اپنے ماحول کے اندر وہ کس طرح مومنانہ زندگی گزارے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، یہاں ہر لمحہ غیر موافق باتیں پیش آتی ہیں، ایسی باتیں جو آدمی کو بے برداشت کردیں۔ ایسے تمام مواقع پر آدمی کو صبر کرنا پڑتا ہے، تاکہ انحراف کے بغیر وہ مسلسل طورپر ایمان کے راستے پر قائم رہے۔

دوسری چیز محاسبہ (introspection) ہے۔ امتحان کی اِس دنیا میںآدمی بار بار غلطی کرتاہے۔ اُس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ بے لاگ محاسبہ کرکے اپنی اصلاح کی جاتی رہے۔ فوری محاسبہ کے اِس عمل کے بغیر، یہ ہوگا کہ غلطیاں آدمی کی شخصیت کا حصہ بن جائیں گی اور پھر وہ کبھی اس سے جدا نہ ہوں گی۔

اِس سلسلے میں تیسری چیز توسم ہے۔ توسم کا مطلب ہے۔ غور وفکر کی زندگی گزارنا، اپنے تجربات اور اپنے آس پاس کی دنیا سے مسلسل طور پرنصیحت اور سبق لیتے رہنا۔ یہ توسم مومن کے لیے اس کی ایمانی غذا ہے۔ مسلسل توسم کے بغیر کوئی شخص اپنے آپ کو ایمانی ترقی کے راستے کا مسافر نہیں بنا سکتا۔

اسلامی زندگی، ایمان سے شروع ہوتی ہے۔ مگر ایمان، اسلامی زندگی کا صرف آغاز ہے، وہ اس کی آخری منزل نہیں۔ اِس آغاز کے بعد آدمی کو مسلسل طورپر ایک کورس سے گزرنا پڑتا ہے۔ اِس کورس کی تکمیل کے بغیر حقیقی معنوں میں کوئی شخص مومن ومسلم کے درجے تک نہیں پہنچ سکتا۔ اِس کورس کے اجزا بنیادی طورپر یہی تین ہیں— صبر اور محاسبہ اور توسم۔ یہ کورس کسی قسم کے رسمی اعمال کے ذریعے انجام نہیں پاتا۔ یہ مکمل طورپر ایک شعوری سفر ہے۔ اپنے شعور کو متحرک کرکے ہی آدمی اس امتحان میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

فرق کو جانئے

کلام کی دو قسمیں ہیں— ایک، یہ کہ آپ کسی ایسے موضوع پر بات کریں جس سے ایک آدمی کی شخصیت مطعون ہوتی ہو۔ دوسرا کلام وہ ہے جس کے ذریعے کوئی اصول متحقَّق ہوتا ہو۔ پہلی قسم کا کلام ناجائز اور قابلِ ترک ہے۔ دوسری قسم کا کلام عین جائز ہے، وہ ایک صحت مند طریقہ ہے جس میں صاحبِ کلام کو ہمیشہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

جب بھی کوئی شخص آپ سے ایک ایسی بات کہے جس میں کسی آدمی کا ایک شخصی عیب بتایا گیا ہو، اُس میں شرکت کو اپنے لیے حرام سمجھئے۔ اِس طرح کی ہر بات کو خدا پر ڈال دیجیے۔ اِس طرح کی بات میں مشغول ہونے میں آپ کا کوئی فائدہ نہیں ہے، البتہ آپ کا نقصان یقینی ہے۔ کیوں کہ کسی شخص کے بارے میں بُری رائے قائم کرنا اسلام میں جائز نہیں۔

مگر دوسری نوعیت کے کلام کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ہر وہ گفتگو جس میں کسی اصول کو زیر بحث لایا گیا ہو، جس پر چرچا کرنے سے ایک اصولی بات متحقق ہوتی ہو، ایسی گفتگو صاحبِ کلام کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنتی ہے۔اِس سے علم میںاضافہ ہوتا ہے۔ اِس سے آدمی اِس قابل بنتا ہے کہ وہ حقیقتوں کو زیادہ درست طورپر سمجھ سکے۔

اِسی بات کو حدیث میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے إذا ظننتَ فلا تحقّق (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث 3227 ) یعنی جب تمھیں گمان ہو تو اس کی تحقیق نہ کرو۔ یہ حدیث شخصی نوعیت کی چیزوں کے بارے میں ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم کو کسی شخص کے بارے میں بُرا گمان پیدا ہو تو اس کا تتبّع (persuance) نہ کرو۔ مگر جہاں تک اصولی باتوں کا تعلق ہے، اُن کا معاملہ اِس سے الگ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اصولی باتوں کا خوب چرچا کرے، تاکہ حقیقت زیادہ منقّح ہو کر سامنے آجائے، تاکہ آدمی معرفت کے زیادہ اعلیٰ مراتب تک پہنچ سکے۔— شخصی عیب کا تتبع ذہنی پستی کا ذریعہ ہے، اور اصولی حقیقت کا تتبع ذہنی ارتقا کا ذریعہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لعنت کیا ہے

قرآن کی سورہ نمبر 5میں ایک خدائی قانون کا ذکر ہے۔ قرآن میں یہ بات یہود کے حوالے سے کہی گئی ہے، مگر اِس کا حکم عام ہے۔ اِس کا تعلق تمام اہلِ کتاب قوموں سے ہے۔ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا،اُن پر لعنت کی گئی داؤد اور عیسی بن مریم کی زبان سے، اِس لیے کہ انھو ںنے نافرمانی کی اور وہ حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے اُس برائی سے جو وہ کرتے تھے۔ نہایت برا کام تھا جو وہ کررہے تھے‘‘ (المائدۃ 78-79 )

Qur'anQuotes the Qur'an

اِس آیت سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کا یہ حال ہو کہ اُن کے معاشرے میں لوگ غلط کام کریں، لیکن وہ ان کی مذمت نہ کریں تو ایسے لوگ خدا کی لعنت کے مستحق بن جاتے ہیں۔ لعنت کا یہ قانون جو قرآن کی اِس آیت میں بیان کیا گیا ہے، وہ کثرت سے احادیث میںآیا ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو خطاب کرتے ہوئے فر مایا کہ— تم کو برائی کے وقت نہی عن المنکر کا کام کرنا ہوگا۔ اور اگر تم نے برائی کے وقت نہی عن المنکر کا فرض انجام نہیں دیا تو تم بھی اُسی طرح، خدا کی لعنت کے مستحق ہوجاؤ گے جس طرح تم سے پہلے سابق اہلِ کتاب (یہود) لعنت کے مستحق ہوگئے۔ (سنن أبی داؤد، کتاب الملاحم، باب الأمر والنہي)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لعنت کیا ہے۔لعنت کا مطلب ہے— خیر سے دور کردینا (الإبعاد عن الخیر)۔ ایسے لوگوں کے لیے خیر سے یہ دوری دنیا میں قساوتِ قلب کی شکل میں ہوتی ہے اور آخرت میں عذابِ الٰہی کی شکل میں۔ ایسے لوگ دنیا میں شدید قسم کی بے حسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ حق اور ناحق کے بارے میں اپنی حساسیت (sensitivity) کھو دیتے ہیں۔ اِس طرح وہ حیوان کی مانند ہوجاتے ہیں۔ جن لوگوں کا یہ حال ہو، اُن کے اندر عملِ خیر کا جذبہ باقی نہیں رہتا۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں ذلت ہے اور آخرت میں عذاب۔ خدا کا یہ قانون بعد کے اہلِ کتاب کے لیے بھی اُسی طرح ہے جس طرح وہ قدیم اہلِ کتاب کے لیے تھا۔ اِس معاملے میں کسی گروہ کاکوئی استثنا نہیں۔

دعوت الی اللہ،امر بالمعروف، نہی عن المنکر

قرآن میں اصلاح اور تبلیغ کی ذمے داریوں کو بتانے کے لیے دو مختلف الفاظ آئے ہیں۔ ایک، دعوت الی اللہ اور دوسرا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔ یہ دونوں ہم معنیٰ الفاظ نہیں ہیں، بلکہ وہ دو الگ الگ ذمے داریوں کو بتانے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دعوت سے مراد غیر مسلموں کے درمیان دعوت ہے۔ دعوت کا لفظ اُس عمل کے لیے بولا جاتا ہے جو غیر مسلموں تک خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے کیا جائے۔ قرآن میںاِس کام کے لیے بعض دوسرے الفاظ بھی آئے ہیں۔ مثلاً اِنذار، تبشیر اور شہادت، وغیرہ۔ دعوتی عمل کی تفصیلات اور اِس کی شرائط قرآن کے مطالعے سے معلوم کی جاسکتی ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اُس اصلاحی عمل کا نام ہے جو مسلمانوں کے درمیان کیا جائے، یعنی مسلمانو ں کے درمیان باہمی اصلاح کا عمل۔ اِس لیے اس کو تآمُر بالمعروف اور تناہی عن المنکر کے الفاظ میں بھی بیان کیا گیا ہے (أبوداؤد، کتاب الملاحم)۔ اِس کام کا کوئی تعلق حکومت اور اقتدار سے نہیں ہے۔ ہر مسلم معاشرے کی ہر حال میں یہ داخلی ذمے داری ہے کہ وہ بقدرِ وسع، مسلمانوں کے اندر امورِ خیر کی تلقین کرے اور مسلمانوں کو ہر قسم کی برائی سے بچانے کی مسلسل کوشش کرے۔ یہ پوری طرح ایک پُر امن عمل ہے، تشدد سے اِس کا کوئی تعلق نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دعوت کا کام نسل در نسل قیامت تک مطلوب ہے۔ یہ ایک خدائی کام ہے اور وہ اِس لیے ضروری ہے تاکہ انسانوں کے اوپر خدا کی حجت قائم ہوسکے۔ پیغمبر آخر الزماں ﷺکے بعد آپ کی امت کو یہ کام اُسی طرح انجام دینا ہے، جس طرح آپ نے اپنے زمانے میں اس کام کو انجام دیا تھا۔ امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کا کام اِس لیے ضروری ہے کہ وہ امت کی داخلی اصلاح کی ضمانت ہے۔ قرآن کے مطابق، اِس کام کو چھوڑنا، ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس مسلم گروہ کے اندر یہ کام نہ ہو، وہ قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق، لعنت (المائدۃ 79 ) کا مستحق ہوجائے گا۔ کوئی دوسرا عمل اِس کوتاہی کی تلافی نہیں کرسکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کامل خیر خواہی، بے آمیز پیغام

قرآن کے مطابق، داعی کے اندر دو لازمی صفات ہونا چاہیے— کامل خیر خواہی، اور بے آمیز دعوت۔ یہ بات پیغمبر کی زبان سے قرآن میں اِس طرح کہی گئی ہے أنا لکم ناصح أمین (الأعراف68 ) یعنی میںتمھارے لیے ناصح ہوں اور امین ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ناصح کا مطلب خیر خواہ (well-wisher) ہے۔ اور امین کا مطلب ہے انسانوں تک ٹھیک اُسی پیغام کو پہنچانا جو خدا کی طرف سے دیا گیاہے۔ اِس سے کم درجے کا عمل، دعوتی عمل نہیں۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ مناظرہ (debate) کوئی دعوتی عمل نہیں۔ کیوں کہ مناظرہ، فریقِ ثانی کو زیر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کا محرک فریقِ ثانی کی خیر خواہی نہیں ہوتا۔ اِسی طرح قومی کام بھی دعوت نہیں۔ کیوںکہ دعوت کا کام پوری انسانیت کی خیر خواہی کے لیے ہوتاہے، جب کہ قومی کام صرف اپنی قوم کی خیر خواہی کے جذبے کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ کامل خیر خواہی کے سوا کسی اور جذبے سے کیا ہوا کام دعوت کا کام نہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

داعی کے امین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے دعوتی کلام میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ کرے، وہ صرف خدا کی بات کو پیش کرے۔ مثلاً دعوتی کلام میں معاشی اور سیاسی شکایت جیسی باتیں شامل کرنا امانت کے خلاف ہے۔ اِس قسم کی غیر متعلق باتیں شامل کرتے ہی دعوتی کلام، غیر دعوتی کلام بن جاتا ہے۔ جو دعوتی تحریک معاشی اور سیاسی شکایت کی بنیاد پر کھڑی ہو، وہ صرف ایک قومی تحریک ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں دعوتی تحریک۔

داعی کا ناصح ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ اِس کے لیے ضروری ہے کہ وہ کامل طورپر مدعوکے خلاف نفرت اور منفی احساسات سے خالی ہو۔ اُس کے دل میںوہ مثبت نفسیات ہو جس کو حضرت مسیح نے اِس طرح بیان کیا کہ تم ہر ایک سے محبت کرو، یہاں تک کہ اپنے دشمن سے بھی۔ دعوت الی اللہ کے اِس قرآنی معیار پر وہی شخص پورا اتر سکتا ہے جو کامل معنوں میں منفی نفسیات سے پاک ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دولت پرستی کا فتنہ

ایک روایت کے مطابق، پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکلّ أمّۃ فتنۃ، وفتنۃ أمّتی المال (مسند احمد، جلد 4 ، صفحہ 160 ) یعنی ہر امت کا ایک فتنہ تھا، اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مال تو ہر زمانے میں انسان کے لیے فتنہ بنا رہا ہے، پھر اس کو خاص طورپر امتِ محمدی کا فتنہ کیوں کہاگیا۔ یہ خصوصیت شدت کی بنا پر ہے۔ مال کی حیثیت بلاشبہہ ہر زمانے میں فتنے کی رہی ہے، لیکن پیغمبر اسلام کی امت کا زمانہ صنعتی دور (industrial age) تک وسیع تھا۔ اِسی مستقبل کے اعتبار سے آپ نے یہ انتباہ (warning) فرمایا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مال کی اہمیت خرید و فروخت کے سامان کے اعتبار سے ہے۔ جدید صنعتی دور سے پہلے خرید و فروخت کے آئٹم بہت کم ہوتے تھے، اِس لیے اُس زمانے میں مال کی اہمیت بھی نسبتاً کم تھی۔ لیکن جدید صنعتی دور کے بعد خرید وفروخت کے سامانوں (consumer goods) کی تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اِسی کے ساتھ سامانوں کی چمک دمک میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔ اِس صورتِ حال نے مال کو جدید صنعتی دور میں سب سے بڑا فتنہ بنادیا ۔

قدیم زمانے میں سادہ طورپر مال کی محبت کا مسئلہ تھا، لیکن موجودہ زمانے میں مال نے پرستش کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔ اب انسان کی ساری زندگی دولت رُخی (money-oriented) بن گئی ہے۔ اب مال کی کشش نے لوگوں کا یہ حال کیا ہے کہ مال ہر ایک کے لیے اس کا سب سے بڑا کنسرن (supreme concern) بناہوا ہے۔

ہر آدمی اپنے تمام وقت اور اپنی ساری توانائی کو زیادہ سے زیادہ مال کے حصول میں لگائے ہوئے ہے۔ اب مال نے عملاً ہر ایک کے لیے معبود کا درجہ حاصل کرلیا ہے۔ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مال کی محبت کے فتنے سے بچا سکے۔ وہ مال کو ثانوی درجے میں رکھے، اور دین کے تقاضوں کو اپنی زندگی میںاوّلین حیثیت دے۔

تعمیر ِخویش، نہ کہ احتجاج

قرآن کی سورہ نمبر 3 میں ایک اصول اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے إن تصبروا وتتّقوا لایضرّکم کیدہم شیئاً (آل عمران 120 ) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو دوسروں کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی یہ آیت فطرت کے ایک قانون کو بتاتی ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس دنیا میں سازش کا ہونا، اصل مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ صبر اور تقویٰ کا نہ ہوناہے۔ جن لوگوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی صفت موجود ہو، اُن کے لیے دوسروں کی سازش اور دشمنی غیر موثر ہو کر رہ جائے گی، وہ اُن کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچاسکے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صبر کوئی انفعالی صفت نہیں۔ صبر کا مطلب وہ اعلیٰ انسانی صفت ہے جس کو سیلف کنٹرول (self control) کہاجاتا ہے، یعنی دوسروں کے پیدا کردہ مسائل سے اوپر اٹھ کر سوچنا اور خود اپنی مثبت سوچ کے تحت اپنی زندگی کا منصوبہ بنانا۔ تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی سوچ خود رُخی سوچ (self-oriented thinking) نہ ہو، بلکہ وہ خدا رُخی سوچ(God-oriented thinking) ہو۔ سماج کے اندر اُس کا سلوک خدا کی تعلیمات کے مطابق ہو، نہ کہ اپنی خواہشات اور جذبات کے مطابق۔ جو لوگ صبر اور تقویٰ کی اِس روش کو اختیار کریں، اُن کے خلاف دوسروں کی منفی کارروائیاں اپنے آپ بے اثر ہوجائیں گی۔ کیوں کہ اِس دنیا کا قانون یہ ہے کہ کوئی بھی غیر مطلوب واقعہ ہمیشہ دو طرفہ کارروائی کے نتیجے میں پیش آتا ہے، نہ کہ صرف یک طرفہ کارروائی کے نتیجے میں۔

یہ فطرت کا ایک قانون ہے کہ کوئی شخص یا گروہ معتدل ذہن کے تحت کسی کے خلاف کوئی مخالفانہ کارروائی نہیں کرتا۔ ایک شخص یا گروہ کسی دوسرے کے خلاف کوئی منفی کارروائی صرف اُس وقت کرتاہے، جب کہ اُس کو بھڑکا دیا گیا ہو۔ ہر منفی کارروائی کسی اشتعال انگیز کارروائی کے نتیجے میں جوابی طورپر پیش آتی ہے۔ صبر اور تقوی آدمی کو اِس سے روکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص یا گروہ کے خلاف اشتعال انگیز کارروائی کرے۔ یہی وجہ ہے کہ صبر اور تقویٰ کسی شخص یا گروہ کے لیے حفاظت کا یقینی ذریعہ ہے۔ ایسا شخص یا گروہ کسی بھی حال میں دوسرے کو مشتعل کرنے والا کام نہیں کرے گا، اِس لیے فطری طور پر وہ دوسرے کی طرف سے پیش آنے والی جوابی کارروائی سے بھی محفوظ رہے گا۔

یہ فطرت کا قانون ہے جس کو خود خالقِ فطرت نے مقرر کیا ہے۔ ایسی حالت میں سازش کے خلاف چیخ و پکار کرنا ایک بے فائدہ کام ہے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ خود اپنے آپ کو داخلی طورپر مستحکم بنایا جائے، خود اپنے اندر زیادہ سے زیادہ صبر اور تقویٰ کی اسپرٹ پیدا کی جائے۔ اِس کے بعد شکایت کے اسباب اِس طرح ختم ہوجائیں گے، جیسے کہ وہ تھے ہی نہیں۔

خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کے مطابق، زندگی میں ہمیشہ دو مختلف قسم کی چیزیں موجود رہتی ہیں— مسائل (problems) اور مواقع(opportunities) ۔ جس طرح زندگی میں ہمیشہ مسائل موجود رہتے ہیں، اسی طرح زندگی میں ہمیشہ مواقع بھی موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں دانش مندی کا طریقہ، اسلام کے مطابق، یہ ہے کہ — مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواقع کو استعمال کیا جائے۔ مسائل سے الجھنا، صرف اُس وقت کو ضائع کرنا ہے جو اِس دنیا میں ہم کو زندگی کی مثبت تعمیر کے لیے ملا ہوا ہے۔ یہی دانش مندی ہے اور یہی اسلام کا طریقہ بھی۔

غورو فکر ایک عبادت

أخرج أبونُعیم في الحِلیۃ (164/1) عن محمد بن واسع أنّ رجلاً من البصرۃ رکب إلی أمِّ ذر رضي اللہ عنہا بعد وفاۃ أبي ذر رضي اللّٰہ عنہ، یسألہا عن عبادۃ أبي ذر، فأتاہا فقال جئتکِ لتخبرینی عن عبادۃ أبي ذر، قالت کان النّہار أجمع خالیاً یتفکر (حیاۃ الصحابۃ، جلد 2، صفحہ 627 )۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ترجمہ محمد بن واسع کہتے ہیں کہ ابوذر صحابی کی وفات کے بعد ایک آدمی بصر ہ سے سفر کر کے أمِّ ذر(اہلیہ ابوذر) کے پاس آیا، تاکہ وہ ابو ذر کی عبادت کے بارے میں اُن سے معلوم کرے۔ وہاں پہنچ کر اس نے کہا کہ میںآپ کے پاس اِس لیے آیا ہوں، تاکہ آپ مجھ کو ابو ذر کی عبادت کے بارے میں بتائیں۔ امِّ ذر نے کہا کہ وہ سارے دن تنہائی میں بیٹھ کر غور وفکر کرتے تھے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اِس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ رسول کی خصوصی عبادت کیا ہوتی تھی۔ وہ وہی چیز ہوتی تھی جس کو قرآن میں ، تفکر، تذکر، تدبر، توسم اور تعقل جیسے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے، یعنی فطرت (nature) میں اور دینی امور میں غور کرتے رہنا، غور وفکر کے ذریعے ہر روز اپنے لیے ربانی غذا حاصل کرنا، متعین عبادات کے سوا، غیر متعین عبادت میں مشغول رہنا۔

انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے رُٹین(routine) کا طالب ہے۔ اُس کا ہر کام رٹین کے تحت ہوتا ہے۔ اِس لحاظ سے، پانچ وقت کی نماز گویا کہ رُٹین کی نماز ہے۔ یہ رٹین بلاشبہہ ضروری ہے، مگر عبادت اپنی حیثیت کے اعتبار سے، ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ یہی تسلسل، مومن کی زندگی میں غور وفکر کے ذریعے جاری رہتا ہے۔ آدمی ہر لمحہ مختلف قسم کے مشاہدات اور تجربات سے گزرتا ہے۔ اِس دنیا کے ہر مشاہدے اور تجربے میں خدا کی تجلی شامل رہتی ہے۔ یہی تجلیات جب زندہ احساس بن جائیں تو اُس کو ذکر و فکر کہا جاتا ہے۔یہی وہ عبادت ہے جس کو قرآن کی اِس آیت میں انسان کی تخلیق کا مقصد قرار دیا گیا ہے  وما خلقت الجنّ والإنس إلا لیعبدون (الذّاریات 56 )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ظاہری تبدیلی، حقیقی تبدیلی

ہفت روزہ امریکی میگزین ٹائم (17 نومبر 2008) کی کوراسٹوری نئے امریکی صدر بیرک اوباما (Barack H. Obama) پر ہے۔ صدارتی مہم کی تکمیل پر 5 نومبر 2008 کو یہ اعلان کیا گیا کہ بیرک اوباما، امریکا کے چوالیسویں صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انھوںنے کامیابی کے فوراً بعد شکاگو میں ایک بڑے مجمع کے سامنے اپنی پہلی پبلک تقریر کی۔ تقریر کا آغاز انھوںنے اُس مشہور جملے سے کیا جس کو ٹائم نے اپنے ٹائٹل پر بیرک اوباما کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اُن کی تقریر کا پہلا جملہ یہ تھا— تبدیلی امریکا تک پہنچ گئی

Change Has Come to America

اِس موضوع پر بات کرتے ہوئے میںنے کچھ لوگوں سے کہا کہ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ امریکا میں جو چیز بدلی ہے، وہ صرف وہاں کی صدرات ہے، نہ کہ وہاں کے حالات۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ اِس طرح کہا جائے کہ

Change has come to American presidency.

انسانی تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہی ہوا ہے۔ لوگ ظاہری تبدیلی کو حقیقی تبدیلی سمجھ لیتے ہیں۔ میںنے کہا کہ پانچ سال تک بیرک اوباما اِسی طرح پُر شور الفاظ بولتے رہیں گے، یہاں تک کہ جب پانچ سال پر اُن کا دورِ صدارت ختم ہوگا تو معلوم ہوگا کہ حقیقی معنوں میں کوئی بھی ایسا کام نہیں ہوا،جس کو تبدیلی (change) کہا جاسکے، امریکا کے اصل مسائل بدستور موجود ہیں، بلکہ اُن میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔

زندگی میں حقیقی تبدیلی عمومی حالات میں تبدیلی سے آتی ہے، نہ کہ صدر یا وزیر اعظم کے بدلنے سے۔ لوگ عام طورپر اِس فرق کو نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار ایساہوتا ہے کہ لوگ پہلے جشن ِ فتح مناتے ہیں، اور آخر میں مایوس ہو کر اگلے الیکشن میںاُسی شخص کو ہرا دیتے ہیں جس کی انتخابی جیت کو انھوں نے حقیقی تبدیلی کے ہم معنیٰ سمجھ لیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں تبدیلی، انسان میں تبدیلی سے آتی ہے، نہ کہ سیاسی عہدے داروں کی تبدیلی سے۔

مطلوب قرأت، رعایتی قرأت

حدیث کی مختلف کتابوں میںایک روایت آئی ہے۔ اِس کو قراتِ سبعہ کی روایت کہاجاتا ہے۔ اِس کا خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ مختلف عرب قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔اِن قبائل کی زبان مشترک طورپر عربی تھی، لیکن ہر ایک کا لہجہ الگ الگ تھا، جیسا کہ ہر زبان میںہوتا ہے۔ جب قرآن لوگوں کے درمیان پھیلا تو ہر ایک اپنے اپنے قبیلے کی زبان میں اُس کو پڑھنے لگا۔ اِس پر لوگوں کے درمیان اختلافات ہوئے ۔ لوگ، رسول اللہ ﷺسے ایک لہجے میں قرآن کو سنتے تھے اور صحابہ اس کو دہراتے تو وہ مختلف لہجات میں اس کو دہراتے۔ یہ اختلاف بعض اوقات شدت اختیار کرلیتے تھے، یہاں تک کہ عمر فاروق نے ایک بار ایک صحابی کو اپنے سے مختلف لہجے میں قرآن کو پڑھتے ہوئے سنا تو انھوں نے کہا کذبتَ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جب یہ اختلاف بڑھا تو لوگ اِس مسئلے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔آپ نے ہر ایک کے قرآن کو پڑھوا کر سنا اور پھر ہر ایک کے لہجے کی تصویب فرمائی (فأیّ ذلک قرأتم أصبتم، فلا تماروا فیہ) آپ نے کہا کہ تم جس طرح پڑھتے ہو، اُسی طرح پڑھو، کیوں کہ قرآن سات لہجوں میں اتارا گیا ہے (إنما أنزل القرآن علی سبعۃ أحرف) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فتح الباری لابن حجر العسقلانی، جلد 8 ، صفحہ 639۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس سلسلے کی مختلف روایات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سات قرات کا مطلب، سات مطلوب قرات نہیں ہے، بلکہ سات رعایتی قرات ہے۔ قرآن کی مطلوب قرات صرف وہی ہے جو قبیلہ قریش کے لہجے کے مطابق ہے۔ کیوں کہ عرب میں قریش کا لہجہ ہی اسٹینڈرڈ لہجہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ زبان کا لہجہ ابتدائی عمر میں بن جاتا ہے۔ کوئی آدمی بعد کی عمر میں اپنے لہجے کو بدلنے پر قادر نہیں ہوتا۔ اِس لیے یہ فیصلہ ہوا کہ جہاں تک قرآن کی کتابت کا معاملہ ہے، اُس کو قریش کے اسٹینڈرڈ لہجے کے مطابق لکھا جائے گا، البتہ رعایتی طورپر لوگوں کو اجازت ہوگی کہ لوگ اپنے اپنے قبیلے کے لہجے کے مطابق، قرآن کو پڑھیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے فاقرؤا ما تیسرمنہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’نہیں‘‘ کلچر

آج کل ایک چیز بہت عام ہے، وہ ہے— نہیں کلچر، یعنی ایک بات کے لیے پہلے نہیں کہنا، مگر جب اس کی اسکروٹنی (scrutiny) کی جائے، تو پھر ہاں کہہ دینا۔ یہ نہیں کلچر موجودہ زمانے میں بہت زیادہ عام ہے۔ وہ مذہبی لوگوں میں بھی اتنا ہی پایا جاتا ہے، جتنا کہ سیکولر لوگوں میں۔

موجودہ زمانے کا ایک فیشن ’’سفید پوشی‘‘ ہے، یعنی اپنے آپ کو خوب صاف ستھرا بنا کر رکھنا۔ یہ مزاج جسمانی آرائش سے گزر کر، باطنی آرائش تک پہنچ گیا ہے۔ ہر عورت اور مرد، شعوری یا غیر شعوری طورپر، یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان ان کی تصویر (image) اچھی بنی رہے۔ وہ سماج میں اچھے انسان سمجھے جائیں۔ اِسی ذہن نے مذکورہ کلچر پیدا کیا ہے۔

ہر آدمی سے چھوٹی یا بڑی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اِس طرح کی غلطیوں کا فطری حل یہ ہے کہ آدمی فوراً ہی اپنی غلطی مان لے۔ وہ کھلے لفظوں میںیہ کہہ دے کہ — میں غلطی پر تھا۔ لیکن لوگوں کے درمیان اپنے آپ کو اچھا بنائے رکھنے کا ذہن اتنا زیادہ چھایا ہوا ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر میں نے اپنی زبان سے اپنی غلطی کا اعتراف کیا، تو میری تصویر (image)خراب ہوجائے گی۔ اِس لیے وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔

یہ ایک مہلک قسم کی اخلاقی کم زوری ہے۔ اِس کم زوری کی قیمت یہ دینی پڑتی ہے کہ آدمی کو بار بار جھوٹ بولنا پڑتا ہے، یا تو وہ کہہ دیتا ہے کہ میں نے ایسا نہیں کیا، یا وہ بعد کو گھما پھرا کر یا توڑ مروڑ کر اس کو کہتا ہے، جس کو انگریزی میں ٹوسٹ(twist) کرنا کہتے ہیں۔

اِس عادت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی کے اندر کم زور شخصیت (weak personality) بنتی ہے۔ اِس قسم کی کم زور شخصیت آدمی کے روحانی ارتقا میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایسے عورت اور مرد اُس نعمت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاتے ہیں جس کو اعلیٰ روحانی شخصیت کہاجاتا ہے۔ اِسی اعلیٰ روحانی شخصیت کا دوسرا نام جنتی شخصیت ہے۔

اسلام کی پانچ بنیادیں

حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’بُني الإسلامُ علیٰ خمس شہادۃ أن لا إلٰہ إلاّ اللہ، وأنّ محمداً عبدہ ورسولہُ، وإقامِ الصلاۃ، وإیتاء الزّکاۃِ، والحجِّ، وصَومِ رمضانَ‘‘ (صحیح البخاری، مسلم، الترمذی، النسائی)۔

hadithQuotes a hadith

یعنی اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے— اِس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا، اورحج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔

اِس حدیثِ رسول میں جن پانچ چیزوں کا ذکر کیاگیا ہے، وہ سب عقیدے اور عبادت سے تعلق رکھتی ہیں۔ اِن میں خلافت اور حکومت کا کوئی ذکر نہیں۔ اِس سے معلوم ہوا کہ خلافت اور حکومت کی حیثیت اسلام کی عمارت کے ستون کی نہیں ہے۔ قرآن کے لفظوں میں وہ ایک ’’شییٔ آخَر‘‘ (الصّف 13 ) ہے، یعنی ثانوی چیز۔ اِس کے مطابق، مذکورہ پانچ ارکان، اسلام کی تعمیر میں ستون کی حیثیت رکھتے ہیںاور حکومت کی حیثیت صرف ثانوی (secondary) ہے، یعنی وہ حاصل ہوجائے تب بھی ٹھیک ہے اور حاصل نہ ہو تب بھی ٹھیک ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سیاسی اقتدار ہمیشہ کسی ایک گروہ کے پاس نہیں رہتا، وہ بدلتا رہتا ہے، یعنی کبھی ایک گروہ کے پاس اور کبھی دوسرے گروہ کے پاس (وتلک الأیّامُ نداولہا بین الناس، آل عمران 140 ) ۔ اِس قرآنی آیت کا تعلق، غلبہ اور اقتدار سے ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ غلبہ اور اقتدار پر کسی ایک گروہ کی اجارہ داری نہیں ہوتی، وہ لوگوں کے درمیان بدلتا رہتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس کا سبب یہ ہے کہ اِس دنیا میں جو چیزیں انسان کو ملتی ہیں، وہ بطور انعام نہیں ملتیں، بلکہ وہ پرچۂ امتحان کے طور پر ملتی ہیں۔ یہی حیثیت غلبہ واقتدار کی بھی ہے۔ قرآن کے مطابق، حضرت سلیمان کو غلبہ و اقتدار عطا ہوا تھا، مگر انھوںنے یہ نہیںکہا کہ یہ ہم کو بطور انعام ملا ہے، بلکہ انھوں نے یہ کہا کہ وہ ہم کو امتحان کے طورپر ملا ہے لیبلونی أ أشکر أم أکفر (النّمل 45 ) یعنی خدا نے جو اقتدار مجھ کو عطا فرمایا ہے، وہ اِس لیے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ اُس کو پاکر میںشکر واعتراف کا اظہار کرتاہوں یا اُس کی ناشکری کرکے سرکش اور متکبّر بن جاتا ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی سورہ نمبر 22 میں ارشاد ہوا ہے ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو اگر ہم زمین میں غلبہ دیں تو وہ نماز کا اہتمام کریں گے اور زکوٰۃ اداکریں گے اور معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے۔ اور سب کا موں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے‘‘ (الحجّ 41 )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس آیت میں ’تمکین‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اِس سے مراد سیاسی اقتدار ہے۔ سیاسی اقتدار پانے کے بعد جن کاموں کو مسلمانوں کا کام بتایا گیا ہے، وہ آیت کے الفاظ کے مطابق یہ ہیں— اقامتِ صلٰوۃ، ایتائِ زکٰوۃ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ کُل چار کام ہیں۔ یہ چاروں کام وہ ہیں جن کا کوئی براہِ راست تعلق، سیاسی اقتدار سے نہیں۔ اِن چاروں کاموں کے بارے میں یہ مطلوب ہے کہ وہ ہر مسلم معاشرے میں اور ہمیشہ جاری رہیں، پھر یہاں اِن کاموں کو سیاسی اقتدار کے ساتھ کیوں بیان کیا گیا۔

اِس کامطلب یہ ہے کہ سیاسی اقتدار پانے کے بعد بھی مسلمانوں کو وہی کام جاری رکھنا ہے جو وہ سیاسی اقتدار کے بغیر کررہے تھے، یعنی سچے اہلِ ایمان کو اگر سیاسی اقتدار مل جائے تب بھی وہ گھمنڈ میں نہیں پڑیں گے، وہ سرکشی نہیں کریں گے، وہ اقتدار کو کسی غلط کام میں استعمال نہیں کریں گے، بلکہ وہ اُنھیں دینی کاموں کو جاری رکھیں گے جو وہ اقتدار سے پہلے کررہے تھے۔

اِس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں اقتدار کی حیثیت اُس کے اضافی حصہ (relative part) کی ہے۔ جہاں تک اصل اسلام کا تعلق ہے، وہ تقویٰ اور عبادت اور اخلاقیات پر قائم ہوتا ہے۔ اِس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ— اسلام اپنی نوعیت کے لحاظ سے روحانی نظام (spiritual system) سے قریب تر ہے، نہ کہ سیاسی نظام (political system) سے۔

بادشاہی شوق

ایک بار میں پرانی دلّی میںایک صاحب کے یہاں گیا۔ ہم دونوں گھر کی چھت کے اوپر بیٹھے ہوئے تھے۔ پڑوس کے مکان کی چھت پر ایک مسلمان لڑکا کبوتر اڑا رہا تھا اور طرح طرح کی آوازیں نکال رہا تھا۔ میں نے اُس لڑکے سے پوچھا کہ یہ تم کیا کررہے ہو۔ لڑکے نے جواب دیا— باشّاہی شوق ہے۔ یہ جواب میری سمجھ میں نہیں آیا، تو صاحبِ مکان نے بتایا کہ وہ کہہ رہا ہے — بادشاہی شوق ہے، یعنی میں کبوتر اڑا رہا ہوں، اور کبوتر اڑانا، بادشاہی شوق ہے۔

میرے تجربے کے مطابق، موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمانوں کا مزاج یہی ہے۔آج کل کے مسلمان، خواہ وہ کسی بھی خطے میںہوں، وہ اپنے اندر بادشاہی مزاج لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ جو تاریخیں پڑھتے ہیں، اُن میں قدیم مسلم بادشاہوں کے کارنامے درج کیے جاتے ہیں۔ اُن کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اُن کو بادشاہی دور کی کہانیاں سناتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا پورا ماحول بادشاہی روایات کے تحت بنا ہے۔ ہر ایک اِسی انداز میں سوچتا ہے، خواہ وہ اپنی زبان سے اِس قسم کے الفاظ بولے یا نہ بولے ۔ اسلامی مزاج تواضع کا مزاج ہے۔ اِس لحاظ سے، بادشاہی مزاج سرتاسر اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔

اِس قسم کے مزاج نے مسلمانوں کو موجودہ زمانے میں بے جوڑ (unfit) بنادیا ہے۔ موجودہ زمانہ جمہوریت کا زمانہ ہے، لیکن مسلمان شہنشاہیت کے مزاج میں جی رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ امن کا زمانہ ہے، لیکن مسلمان تشدد کے مزاج میں جی رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ ایڈجسٹمینٹ کا زمانہ ہے، لیکن مسلمان اِس کے برعکس مزاج میں جی رہے ہیں۔ اِس مزاج کا نتیجہ دو برائیوں کی صورت میں نکلا ہے— کچھ مسلمان اِس مزاج کو لے کر دوسروں سے لڑ رہے ہیں، اور کچھ مسلمان اپنے اِس قومی مزاج کے باوجود مفاد پرستانہ جذبے کے تحت بظاہر دوسروں سے موافقت کیے ہوئے ہیں۔ اور یہ دونوں ہی باتیں یکساں طورپر ہلاکت خیز ہیں۔

حجر ِاسود

ایک ہندو بھائی سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے کعبہ میں بھی وہی سب کچھ ہوتا ہے جو ہمارے یہاں مندروں میں ہوتا ہے۔ مندر میں بت ہوتا ہے، کعبہ میں بھی ایک بت ہے جس کو آپ لوگ حجر اسود کہتے ہیں۔ میں نے ہندو بھائی کی بات ٹھنڈے طریقے سے سنی۔ میں نے ان کے اعتراض کا فوراً جواب نہیں دیا ،بلکہ پہلے خود انھیںسے اس کے متعلق کچھ سوالات کیے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ آئیے سب سے پہلے یہ طے کرلیں کہ بت کیا ہے اور بت پرستی کس کوکہتے ہیں۔ ان سے گفتگو کے بعد خود ان کے جوابات کی روشنی میں بت کی جو تعریف مقرر ہوئی،وہ یہ تھی

بت وہ ہے جس کو مقدس سمجھ کر اس کی پرستش کی جائے۔

بت وہ ہے جس کو عالم اسباب پر مؤثر سمجھ کر اس سے مرادیں مانگی جائیں۔

ان الفاظ کو کاغذ پر لکھ لینے کے بعد میںنے انھیں دکھایا۔ جب انھوں نے اس تعریف کی تصدیق کردی تو میں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ آپ نے کبھی کسی حاجی سے یہ پوچھا ہے کہ حجر اسود کو تم کیا سمجھتے ہو اور وہاں جاکر تم اس کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہو۔ انھوںنے کہا کہ نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا پھر میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کوئی بھی مسلمان حجر اسود کو ان دونوں حیثیتوں میں سے کوئی حیثیت نہیں دیتا۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے لے کر آج تک کبھی کسی مسلمان نے نہ اس طرح حجر اسود کی پوجا کی ہے جس طرح مندروں میں بت کی پوجا کی جاتی ہے اور نہ کبھی کسی مسلمان نے حجر اسود سے اس طرح مراد مانگی ہے جس طرح مندر میں بت سے مراد مانگی جاتی ہے۔

اس کے بعد میں نے بتایا کہ حجر اسود کی حیثیت صرف ایک نشان (symbol) کی ہے۔ حج یا عمرہ میں مسلمان کعبہ کے گرد سات بار طواف کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ ضروری ہے کہ طواف کے لیے کوئی نقطۂ آغاز (starting point) مقرر کیا جائے۔ حجر اسود یہی اسٹارٹنگ پوائنٹ ہے۔ ہرطواف حجر اسود سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوتا ہے۔

قیامت دستک دے رہی ہے

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ اپنے خاتمہ (end) پر پہنچ گئی ہے۔ اکیسویں صدی غالباً انسانی تاریخ کی آخری صدی ہے۔ اِس کے بعد انسان کے اوپر شاید بائیسویں صدی آنے والی نہیں۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ برائی اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہے، اور جب برائی اپنی آخری حد تک پہنچ جائے تو انسان، خدا کی زمین پر مزید بسنے کا جواز (justification) کھو دیتا ہے۔

اِس معاملے میں غیر مسلموں کو جانچنے کا معیار اخلاقی معیار ہے۔ اخلاقی معیار کے اعتبار سے، آخری چیز حیا ہے۔ جب لوگوں کے اندر حیا کی صفت باقی نہ رہے تو سمجھنا چاہیے کہ وہ برائی کی آخری حدپر پہنچ چکے ہیں۔ موجودہ زمانے میں یہی صورتِ حال نظرآتی ہے۔ ہم جنسی (homosexuality) کو یکساں جنس (same sex) قرار دے کر اس کو قانونی طورپر جائز بنایا جارہا ہے۔ عریانیت (nudity) اور فحّاشی (pornography) اب کلچر کا حصہ بن گئے ہیں۔ آرٹ اور آزادی کے نام پر ہر اخلاقی برائی کو جواز کا درجہ دیا جارہا ہے۔ یہ صورتِ حال، اخلاقی شناعت کی آخری حد تک پہنچ چکی ہے۔ جب انسان اخلاقی برائی کے اِس درجے تک پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے لیے خدا کی زمین پر مزید بسنے کا جواز ختم ہوجاتا ہے۔

جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، اِس معاملے میں ان کے لیے جو معیار ہے، وہ شرعی معیار ہے۔ اِس شرعی معیار کو قرآن اور حدیث میں انکارِ منکر کہاگیا ہے، یعنی جب کچھ افراد برائی میں مبتلا ہوں تو دوسرے لوگ اس کی سخت مذمت کریں۔ وہ کھلے طور پر اس کو کنڈم کریں۔ برائی کو دیکھنے یا جاننے کے بعد اُس پر خاموش رہنا اور اس کی کھلی مذمت نہ کرنا، ایک ایسا فعل ہے جو پوری قوم کو لعنت کا مستحق بنادیتا ہے۔ یہ بات قرآن اور حدیث میں واضح طورپر موجود ہے، حتی کہ یہ معاملہ اتنا سخت ہے کہ اگر دوسرے لوگ اِس طرح کی برائی کے معاملے میں اعلان کے ساتھ اُس سے اظہارِ برات (disown) نہ کریں تو نسل درنسل وہ اُس برائی میں شامل سمجھے جائیں گے، وہ اُس وقت تک بری الذمہ قرار نہیںپائیں گے، جب تک وہ اعلان کے ساتھ اُس سے اپنی بے تعلقی کا اظہار نہ کریں۔دونوں ہی طبقے کا کیس مشترک طورپر شدید بے حسی کا کیس ہے۔ ایک طبقے میں اِس بے حسی کا اظہار اخلاقی بے حیائی کی صورت میں ہورہا ہے اور دوسرے طبقے میںانکارِ منکر کے فریضے کو ترک کرنے کی صورت میں۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں انکارِ منکر نہ کرنے کی صفت آخری حد تک عام ہوچکی ہے۔ جدید میڈیا نے اس معاملے میں مسلمانوں کا عالمی ایکسپوژر(universal exposure) کردیا ہے۔ یہ بم دھماکے کے واقعات ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمان جگہ جگہ بم دھماکے کررہے ہیں۔ عرب دنیا میں فلسطین کے اِشو کو لے کر بم دھماکے کیے جارہے ہیں۔ اِسی طرح، پاکستان اور افغانستان اور کشمیرمیں بم دھماکے جاری ہیں۔ آج کل ہندستان میں بھی جگہ جگہ بم دھماکے ہورہے ہیں۔ اِن بم دھماکوں میں بے قصور لوگ مرتے ہیں، جب کہ بے قصور لوگوں کو مارنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک بے قصور کو مارنا گویا کہ تمام انسانوں کو مار ڈالنا ہے (المائدۃ 32 )۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس قسم کے بم دھماکے لمبی مدت سے جگہ جگہ ہورہے ہیں، مگر معلوم طورپر ساری دنیا میں کوئی بھی نہیں جو اِن واقعات پر حقیقی معنوں میں انکارِ منکر کا فریضہ انجام دے رہا ہو، یعنی غیر مشتبہ انداز میں اور متعین طورپر ایسے لوگوں کی مذمت کرنا۔ مسلمانوں میں جو لکھنے اور بولنے والے لوگ ہیں، وہ جب بھی لکھتے اور بولتے ہیں، وہ اِس انداز میں لکھتے اور بولتے ہیں جس سے ایسے مسلمانوں کو سند ِجواز مل جائے، یعنی ٹوسٹ (twist) کرکے بولنا، قیاس کی بنیاد پر کلام کرنا، غیر متعین اور غیر مشخص انداز میں تبصرہ کرنا، سرے سے واقعے کا انکار کرنا، ایسے واقعات کو پولس اور میڈیا کی سازش بتانا، مسلمانوں کے فعل پر اُن کی مذمت کرنے کے بجائے اس پر خاموش رہ کر اسلامی تعلیمات کا حوالہ دے کر یہ کہنا کہ اسلام میںایسا نہیں ہے، وغیرہ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مسلمان، شرعی معیار کی بنیاد پر اِس دنیا میں اپنے لیے حقِ زیست کھوچکے ہیں، اور غیر مسلم، اخلاقی معیار کی بنیاد پر یہ ثابت کررہے ہیں کہ اُنھیں اِس دنیا میں مزید مہلت ِ حیات ملنے کا کوئی جواز نہیں۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قیامت ہمیں دروازے پر پہنچ کر دستک دے رہی ہے۔ کچھ نہیں معلوم کہ کب وہ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو جائے۔

بگ بینگ، لٹل بینگ

انسان ہمیشہ یہ سوچتا رہا ہے کہ موجودہ کائنات کیسے بنی۔ وہ عقلی سطح پر اِس کا جواب پانا چاہتا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں پہلی بار انسان کواِس کا عقلی جواب ملا۔ فلکیاتی سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ تقریباً 13 بلین سال پہلے، خلا میں ایک انفجار(explosion) ہوا۔ اِس انفجار کو عام طورپر بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ فلکیاتی سائنس کے اعتبار سے، اِسی بگ بینگ کے بعد بتدریج موجودہ کائنات وجود میں آئی۔

تاہم ایک سوال کا عقلی جواب ابھی باقی تھا، وہ یہ کہ ہمارا شمسی نظام (solar system) کیسے بنا۔ شمسی نظام، ساری کائنات میںایک استثنائی نظام ہے۔ اِس نظام کے اندر سیارہ زمین ایک انتہائی استثنائی قسم کا سیارہ ہے۔ علمائِ فلکیات اِس بات کی عقلی توجیہ نہیں کرسکے تھے کہ کائنات میں استثنائی قسم کا موجودہ شمسی نظام کیسے بن گیا۔

بگ بینگ کی دریافت کے تقریباً سو سال بعد، اکیسویں صدی کے ربع اول میں، سائنس دانوں نے سوئزر لینڈ میں کچھ خصوصی تجربات کیے۔ اِن تجربات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ بگ بینگ کے واقعے کے بہت بعد خلا میں ایک چھوٹا انفجار ہوا۔ اِس کو سائنس دانوں نے لٹل بینگ (Little Bang) کا نام دیا ہے۔ اِس لٹل بینگ کے بعد شمسی نظام وجود میں آیا اور بتدریج وہ استثنائی سیارہ بنا جس کو زمین (planet earth)کہا جاتا ہے۔

بگ بینگ اور لٹل بینگ کی یہ دونوں سائنسی دریافتیں بتاتی ہیں کہ کائنات کی تخلیق ایک اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی کے ذریعے ہوئی۔ یہ کائنات کسی اتفاق (accident) کے ذریعے وجود میں نہیں آئی، بلکہ وہ ایک بالقصد منصوبے کے ذریعے وجود میں آئی۔ یہ واقعہ اپنے آپ اِس بات کا ثبوت ہے کہ اِس کائنات کی ایک منزل ہے۔ یہ کائنات پورے معنوں میں ایک با معنیٰ کائنات ہے، اور ایک بامعنیٰ کائنات کسی بے معنی انجام پر ختم نہیں ہوسکتی۔

زرعی دور، صنعتی دور

تاریخ کو اقتصادی اعتبار سے دو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جاتا ہے، زرعی دور (agricultural age) اور صنعتی دور (industrial age)۔ دونوں دوروں میں ایک بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ زرعی دور میں ، انسانی اقدار (human values) بڑے پیمانے پر پائی جاتی تھیں۔ موجودہ صنعتی دور میں انسانی اقدار کا تقریباً خاتمہ ہوگیا ہے۔ پچھلے دور میں عام طورپر لوگ دوسرے انسانوں کے لیے ہمدردی کے جذبات رکھتے تھے۔ اب ہر شخص محو بالذات (self centred) نظر آتا ہے۔

اِس فرق کا سبب بنیادی طورپر یہ ہے کہ زرعی دور میں انسان دیکھتا تھا کہ وہ تھوڑی سی محنت کرتا ہے اور اس کے بعد جو پیداوار حاصل ہوتی ہے اس میں سارا حصہ زمین کا یا نیچر کا ہوتا ہے۔ موجودہ زمانے میں بظاہر اس کے برعکس معاملہ نظر آتا ہے۔ اب انسان یہ دیکھتا ہے کہ اپنی پوری زندگی کے بڑے حصہ میں وہ اپنا کیریر بنانے کے لیے محنت کرتا ہے۔ اور پھر اس کو جو کچھ ملتا ہے وہ بظاہر اس کی اپنی محنت اور لیاقت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پہلے زمانے کا انسان شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ سمجھتا تھا کہ اس کو جو کچھ حاصل ہورہا ہے، وہ کسی اور کے دینے سے حاصل ہورہا ہے۔ اِس کے برعکس، آج کا انسان محسوس کرتا ہے کہ اے سے زیڈ تک، سب کچھ، وہ اپنی لیاقت کے ذریعے حاصل کررہا ہے۔

اِسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ پہلے زمانے میں لوگوں کے اندر خلقِ خدا کے لیے ہمدردی پائی جاتی تھی۔ مگرآج کے انسان کا حال یہ ہے کہ وہ خود غرضی کے انداز کے سوا کسی اور انداز میں سوچنا نہیں جانتا۔ پہلے زمانے کا انسان اپنی پیداوار میں خالق کا حصہ سمجھتا تھا اور اس کو نکال کر دوسرے انسانوں کو دیتا تھا۔ مگر آج کا انسان جو کچھ کماتا ہے، اس کو وہ کامل طور پر صرف اپنا کارنامہ سمجھتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر اِس احساس میں جیتا ہے کہ جو کچھ میںنے حاصل کیا ہے وہ صرف میری اپنی محنت کا نتیجہ ہے۔ اِس میں کسی دوسرے کا کوئی حق نہیں۔

سب سے بڑی محرومی

17ستمبر 2008 کو جامعہ ملیہ اسلامیہ (نئی دہلی) کے میر تقی میر ہال میں مسلم مسائل پر ایک سمینار تھا۔ اِس میں مسلمانوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد شریک ہوئے۔ اِن میں باریش مسلمان بھی تھے اور بے ریش مسلمان بھی۔ اِس کا پورا پروگرام انگریزی زبان میں ہوا۔ میں بھی اِس پروگرام میں شریک تھا۔ تمام مقررین نے بلا استثنا، ہندستانی مسلمانوں کو ایک مظلوم کمیونٹی بتایا۔ ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا کے مسلمان محاصرہ (siege) کی حالت میں ہیں۔ ہر ایک نے مختلف الفاظ میں، مسلمانوں کی نسبت سے اِسی قسم کی منفی باتیں کیں۔

میں غم کے احساس میں ڈوبا ہوا لوگوں کی باتیں سن رہا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ میں پہلی بار 1943 میں دہلی آیا تھا۔ اُس وقت میں نے پہلی بار جامعہ ملیہ اسلامیہ کو دیکھا۔ اُس وقت کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین (وفات 1969) سے بھی میری ملاقات ہوئی۔ اُس وقت جامعہ ایک معمولی کالج کی طرح تھا۔ نامنظور ادارہ ہونے کی بناپر اس کی ڈگری کی بھی جاب مارکیٹ میں کوئی ویلو نہیں تھی۔ آج 65 سال بعد یہاں جامعہ ملیہ کے نام سے ایک عالی شان یونی ورسٹی بنی ہوئی ہے۔ پہلے کے مقابلے میں آج جامعہ ملیہ اسلامیہ نے تقریباً سو گنا ترقی کی ہے۔ اس کی یہ تمام ترقیاں آزادی کے بعد نئے انڈیا میں ہوئی ہیں۔

مذکورہ سمینار جامعہ کے ایک شان دار ہال میں ہوا۔ اِس ماحول میں لوگوں کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ جامعہ ملیہ علامتی طورپر یہ بتا رہا ہے کہ اس ملک میں مسلمان مسلسل ترقی کررہے ہیں، یہ صورت ِ حال شکر کا تقاضا کرتی ہے، پھر کیوں ایسا ہوا کہ ایک ترقی یافتہ مسلم ادارے میں بیٹھ کر لوگ اس طرح ناشکری کی باتیں کررہے تھے۔ میںنے سوچا کہ لوگوں کے اندر خدا کا خوف نہیں، ورنہ حدیثِ رسول کے مطابق، اُنھیں ڈرنا چاہیے کہ اگر اُن کے اندر شکرِ انسانی نہ ہو تو وہ شکرِخداوندی کے جذبے سے محروم ہوجائیںگے۔ اور بلاشبہہ شکر خداوندی کے جذبے سے محرومی سب سے بڑی محرومی ہے۔اِس حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے  مَن لم یشکر الناس لم یشکر اللّٰہ (مسند احمد، جلد 4، صفحہ 278 ) یعنی جو آدمی انسان کا شکر گزار نہ ہو، وہ خدا کا بھی شکر گزار نہیں ہوسکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نفرت، دہشت گردی

نفرت (hate) اور دہشت گردی (terrorism) دونوں ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔ نفرت، منفی سوچ کا نتیجہ ہے، اور دہشت گردی منفی عمل کا نتیجہ۔ نفرت منفعل دہشت گردی (passive terrorism) ہے، اور دہشت گردی عملی نفرت(terrorism in action) کا نام ہے۔ منفی سوچ داخلی طورپر نفرت ہے اور خارجی اعتبار سے دہشت گردی۔ نفسیاتی اعتبار سے دیکھیے تو جو لوگ نفرت کی باتیں کرتے ہیں، وہ زیادہ بڑے مجرم ہیں۔ کیوں کہ یہ لوگ نفرت کی بولی بول کر لوگوں کو مشتعل کرتے رہتے ہیں اور یہی اشتعال مزید بھڑک کر دہشت گردی کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

منفی سوچ کیا ہے۔ منفی سوچ نفسیاتی ہلاکت کا دوسرا نام ہے۔ جو لوگ انسانوں کے اندر منفی سوچ پیدا کریں، وہ انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ کیوں کہ منفی سوچ آدمی کے اندر تعمیری سوچ کا خاتمہ کردیتی ہے۔ ایسے لوگ سماج کے اندر معتدل مزاج کے ساتھ نہیں رہ سکتے، اور جن لوگوں کے اندر تعمیری سوچ اور معتدل مزاج نہ ہو، وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتے۔ اور اگر وہ ترقی کریں گے تو منافق بن کر ترقی کریں گے، یعنی دل میں تو لوگوں کو برا سمجھنا لیکن ظاہری طورپر لوگوں کے ساتھ مفاہمت (adjustment) کرکے اُن سے مادّی فائدہ اٹھانا۔

دہشت گردی بلاشبہہ ایک بھیانک برائی ہے، لیکن دہشت گردی کو گن اور بم کی طاقت سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ دہشت گردی کو ختم کرنے کا مؤثر طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے لوگوں کی منفی سوچ کو بدلنا اور ان کے اندر مثبت سوچ پیدا کرنا۔ جب تک لوگوں کے ذہن کو نہ بدلا جائے، دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔منفی سوچ ہمیشہ شکایتوں کو لے کر پیدا ہوتی ہے۔ لوگ اِن شکایتوں کو کسی گروہ کی ’’سازش‘‘ سمجھ کر اُس گروہ کے خلاف ہو جاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ شکایت، فطرت کے نظام کا حصہ ہے، شکایت کے اسباب کبھی ختم ہونے والے نہیں۔ اِس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ شکایت سے اوپر اٹھ کر سوچا جائے، شکایت کے باوجود لوگوں سے خیر خواہی اور ہمدردی کا تعلق قائم کیا جائے۔

گھیٹو ذہنیت کا نقصان

آج کل کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ تمام مسلمان منفی سوچ (negative thinking) میں جی رہے ہیں۔ مذہبی مسلمان اور سیکولر مسلمان دونوں یکساں طورپر اِس قسم کی سوچ رکھتے ہیں، اُن کے مرد بھی اور ان کی عورتیں بھی۔ کسی مسلمان سے بات کیجیے، کسی مسلمان کے جلسے میں جائیے کسی مسلم ادارے کا معائنہ کیجیے، مسلمانوں کا کوئی اخبار یا میگزین پڑھیے، ہر جگہ آپ کو یہی منفی سوچ کھائی دے گی۔منفی سوچ ہمیشہ کسی کے خلاف ہوتی ہے، مگر یہ ایک سنگین حقیقت ہے کہ منفی سوچ کا نقصان خود منفی سوچ والوں کو ہوتا ہے، نہ کہ اُن لوگوں کو جن کے خلاف منفی انداز میں سوچا جارہا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور اِس قانون میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

منفی ذہنیت (negative mentality) کا مطلب ہے، گھیٹو ذہنیت(ghetto mentality)۔ اِس طرزِ فکر کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ دوسروں سے کٹ جاتے ہیں۔ وہ علاحدگی پسندی کے خول میں جینے لگتے ہیں۔ اِس طرح دوسروں کے ساتھ اُن کا انٹریکشن (interaction) ختم ہوجاتا ہے۔ اِس کا بھیانک نتیجہ پس ماندگی اور پچھڑے پن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

یہ صورتِ حال فریقِ ثانی کے لیے بے حد مفید ہے۔ 1947 سے پہلے اِس ملک میں انگریزوں کا اصول یہ تھا کہ لڑاؤ اور حکومت کرو(divide and rule)۔ مسلمان اپنی منفی ذہنیت کی بنا پر آج کی ’’غیر قوم ‘‘ کو یہ موقع دے رہے ہیں کہ— مسلمانوں کو منفی ذہنیت میں جینے دو، اِس طرح ہمارا دبدبہ ان کے اوپر قائم رہے گا۔

زندگی کا راز علاحدگی پسندی میں نہیں ہے، بلکہ انٹریکشن میں ہے۔ زندگی کا راز لوگوں سے قریب ہونے میں ہے، لوگوں سے دور ہونے میں نہیں ہے۔ زندگی کا راز دوسروں کا خیر خواہ بننے میں ہے، دوسروں سے نفرت کرنے میں نہیں ہے۔ زندگی کا راز مثبت طرزِ فکر میں ہے، منفی طرزِ فکر صرف ہلاکت کا ذریعہ ہے، نہ کہ زندگی کا سرچشمہ۔

سانس کا کاروبار

دہلی میں ہمارے محلے میں ایک صاحب تھے۔ لوگ ان کو ملّا جی کہتے تھے۔ وہ بھینس پالتے تھے اور دودھ کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کی دوستی ایک ہندو تاجر سے تھی۔ ان کے یہاں لوہے کا کاروبار تھا۔ایک بار ایسا ہوا کہ ملا جی کی ایک بھینس مر گئی۔ وہ اپنے ہندو دوست سے ملے۔ اس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میری ایک بھینس مر گئی۔ یہ سن کر لوہے کے ہندو تاجر نے کہا کہ ملا جی، تمھارا تو سانس کا کاروبار ہے۔ آیا آیا، نہ آیا‘ یعنی ایک بھینس صرف اُس وقت تک زندہ ہے جب تک کہ اُس کا سانس چل رہا ہے۔ سانس اگر رک جائے تو بھینس کی زندگی بھی ختم ہوجائے گی۔مذکورہ تاجر نے یہ بات ملا جی کے کاروبار کے بارے میں کہی تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر زندہ انسان کا معاملہ یہی ہے۔ مذکورہ تاجر کو کہنا چاہیے تھا کہ— ملا جی، ہمارا اور تمھارا معاملہ تو سانس کا معاملہ ہے۔ آیا آیا، نہ آیا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

جیسا کہ معلوم ہے، انسان کے جسم میں مختلف قسم کے نظام ہیں جو اس کی زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ اسی طرح انسان کے اندر ایک وہ نظام ہے جس کو نظامِ تنفس (respiratory system) کہاجاتا ہے۔ یہ نظام انسانی زندگی کے لیے لازمی طورپر ضروری ہے۔ یہ نظامِ تنفس جب تک کام کررہا ہے، انسان زندہ ہے۔ یہ نظام اپنا کام نہ کرے تو انسان چند منٹ کے اندر مرجائے گا۔

کسی آدمی پر جب موت آتی ہے تو آخر وقت میں اس کی سانس اکھڑ جاتی ہے۔ اِس حالت کو غرغرہ کہاجاتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب کہ انسان کا نظامِ تنفس معتدل حالت میں اپنا کام کرنا بند کردیتا ہے اُس وقت انسان کے گلے سے عجیب قسم کی آواز آنے لگتی ہے۔ چند منٹ تک یہ آواز آتی ہے، اس کے بعد انسان پر وہ حالت طاری ہوجاتی ہے جس کو موت کہاجاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دوسرے کی موت خود اپنی موت کی یاد دہانی ہے۔ ہر موت زندہ لوگوں کو بتاتی ہے کہ جس طرح مرنے والا مرگیا، اُسی طرح زندہ رہنے والا بھی مرے گا۔ ہرموت یاد دلاتی ہے کہ اے لوگو، مستقبل کی تیاری کرو، کیوںکہ آخرکار جو چیز تمھارے حصے میں آنے والی ہے، وہ تمھارا مستقبل ہے، نہ کہ تمھارا ماضی اور حال۔

حقیقی اِشو، غیر حقیقی اِشو

کسی سماج میں جو لکھنے اور بولنے والا طبقہ ہوتاہے، وہی سماج کا مزاج بناتا ہے۔ موجودہ زمانے میں صحافت اور میڈیا کا رول اِس مزاج سازی میںبہت اہم ہے۔ اِس طبقے کو ایک لفظ میں ذہن ساز طبقہ (opinion-maker class) کہاجاسکتاہے۔ کسی سماج میں، ذہن ساز طبقے کی ذمے داری بہت زیادہ اہم ہوتی ہے۔تجربہ بتاتا ہے کہ موجودہ زمانے میں، ذہن ساز طبقہ عام طورپر ایک خطرناک رول ادا کررہا ہے، وہ یہ کہ یہ طبقہ حقیقی اِشو اور غیر حقیقی اشو میں فرق نہیں کرتا۔ وہ ایسا کرتا ہے کہ غیر حقیقی اشو پر لوگوں کو حساس (sensitive) بنا دیتا ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ بار بار، غیرحقیقی اشو پر بھڑک اٹھتے ہیں، وہ ایسے معاملات میں ایجی ٹیشن (egitation) اور تشدد تک پہنچ جاتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ خود ذہن ساز طبقہ تو اپنے قیادتی منصب کی بنا پر اکثر محفوظ رہتا ہے، لیکن سماج کو اس کا نہایت بھیانک انجام بھگتنا پڑتا ہے۔

حقیقی اشو اور غیر حقیقی اشو کی پہچان کیا ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ حقیقی اشو ہمیشہ سنجیدہ غور وفکر کے ذریعہ متعین ہوتا ہے۔ اور غیر حقیقی اشو ہمیشہ وقتی جذبات کے تحت وجو د میںآتا ہے۔ اِس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ حقیقی اشو کی بنیاد پر سرگرمی ہمیشہ مثبت نتیجے تک پہنچاتی ہے۔ اِس کے برعکس، غیر حقیقی اشو پر جو تحریک چلائی جائے، وہ ہمیشہ مسائل میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

ذہن ساز طبقے کے لیے لازمی طورپر ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ لوگوں کو حقیقی اشو کے معاملے میں حساس بنائے، غیر حقیقی اشو کے معاملے میں حساس بنانے کو حرام کے درجے میں وہ اپنے لیے قابلِ پرہیز سمجھے۔ ذہن ساز طبقے کا یہ فرض ہے کہ وہ اِس معاملے میں آخری حد تک محتاط رہے۔

زندگی مختلف قسم کے اشوز (issues) کا جنگل ہے۔ ایسی حالت میں کچھ بولتے ہوئے یا کوئی اقدام کرتے ہوئے یہ جاننا ضروری ہے کہ کون اشو حقیقی ہے، اور کون اشو غیر حقیقی، جو آدمی اِس فرق کو نہ جانے، اُس پر لازم ہے کہ وہ چپ رہے، نہ کہ نادانی کی بات کرکے مسائل میں اور اضافہ کردے۔

فساد اور اسبابِ فساد

کوئی فساد (riot) جب ہوتا ہے تو وہ اچانک نہیں ہوتا ۔ ہر فساد سے پہلے اُس کے اسباب ظاہر ہوتے ہیں جو دھیرے دھیرے فساد بن جاتے ہیں۔ گویا کہ ہر فساد دراصل اسبابِ فساد کا نقطہ انتہا (culmination) ہوتاہے۔ اِس لیے فساد کے خلاف اصلاحی کوشش کا آغاز، ظہورِ فساد سے پہلے ہونا چاہیے نہ کہ ظہورِ فساد کے بعد۔ اسلام میں نہی عن المنکر کا مطلب یہی ہے۔ نہی عن المنکر کا حکم اِسی لیے دیا گیا ہے کہ فساد سے پہلے اسبابِ فساد کو روکا جائے، تاکہ فساد کی نوبت نہ آئے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسبابِ فساد کو ختم کرنے کی کوشش کرنا، اصلاح ہے۔ اور فساد ہوجانے کے بعد متحرک ہونا صرف لیڈری ہے۔ جو لوگ اسبابِ فساد کے ظہور کے وقت خاموش رہیں اور جب عملاً فساد ہوجائے تو وہ جوش وخروش کے ساتھ حرکت میں آجائیں، ایسے لوگ خود بھی فساد انگیزی کے مجرم ہیں۔ اِس قسم کے لوگوں کو اصلاحِ فساد کا کریڈٹ (credit) نہیں مل سکتا۔ اصلاحِ فساد کا کام، فسادسے پہلے شروع ہوتا ہے، نہ کہ عملی طور پر فساد ہوجانے کے بعد۔

اسبابِ فساد کیا ہیں۔ جب کسی سماج میں نفرت کی بولی بولی جائے، جب ایسا ہو کہ کسی گروہ کو ظالم اور دشمن بتا کر اس کے خلاف بُری خبریں پھیلائی جائیں، جب کسی سماج میں ایسے لوگ اس کے لیڈر بن جائیں جو ذاتی ذمے داریوں (duties) کی بات نہ کرتے ہوں، بلکہ وہ حقوق (rights) کو لے کر اپنی محرومی کی داستان سناتے ہوں، جب اپنے لوگوں کی برائیوں پر اُن کو نہ روکا جائے اور دوسروں کے خلاف شکایت اور احتجاج کی مہم چلائی جائے، تو سمجھ لیجیے کہ ایسے سماج میںاسبابِ فساد کی آگ بھڑکائی جارہی ہے، جو کسی نہ کسی دن بڑھ کر عملی فساد کی صورت اختیار کرلے گی۔

صحیح طریقہ یہ ہے کہ قوم کے رہ نما خود اپنی قوم کی اصلاح پر ساری توجہ لگائیں، نہ کہ دوسری قوم کے خلاف لوگوں کے اندر منفی جذبات پیدا کریں۔ جو لوگ ایسا نہ کریں، وہ مفسد ہیں، نہ کہ مُصلح۔فساد کا علاج اسبابِ فساد کی روک تھا م ہے، نہ کہ فساد کے خلاف شکایت اور احتجاج۔

قیامت کا تجربہ

نومبر 1984میں میرا ایک سفر کیسا بلانکا(مراکو) کے لیے ہوا تھا۔ 25 نومبر 1984کی شام کو جہاز نے مجھے کیسا بلانکا(Casablanca) کے ائرپورٹ پر اتاردیا۔ اُس وقت میںاکیلا تھا۔ یہاںایک عجیب تجربہ پیش آیا۔ مجھے ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے بلایا گیا۔ کانفرنس کی طرف سے مجھے ہوائی جہاز کا ٹکٹ تو بھیج دیا گیا تھا، لیکن کیسا بلانکا میں مقامِ اجتماع کاکوئی پتہ میرے پاس نہ تھا۔ میرے پاس منتظمینِ کانفرنس کا کوئی نمبر بھی نہ تھا جس کے ذریعے میں اُن سے رابطہ قائم کرسکوں۔

میں ائر پورٹ پر اترا تو وہاں کانفرنس کا کوئی آدمی مجھے رسیو (receive) کرنے کے لیے موجود نہ تھا۔ ائر پورٹ کے مختلف لوگوں سے میںنے جاننا چاہا تو معلوم ہوا کہ یہ سب لوگ فرانسیسی زبان بولتے ہیں، وہ نہ عربی زبان سمجھتے تھے اور نہ انگریزی زبان۔ کچھ دیر کے لیے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں یہاں ایک بے جگہ شخص (displaced person) بن گیا ہوں۔ یہاں نہ میرا کوئی ساتھی ہے، نہ میرے لیے قیام کی کوئی جگہ ہے، نہ میرے لیے زندگی کے دوسرے سامان ۔ محسوس ہوا کہ یہ میرے لیے ایک اجنبی جگہ ہے اور یہاں میںبالکل تنہا ہوگیا ہوں۔

پریشانی کے عالم میں میں اِدھر اُدھر دوڑتا رہا، لیکن کوئی شخص وہاں میری مدد کرنے والا نہیں ملا۔ آخر کار میں اِسی پریشانی کی حالت میں ائرپورٹ کے باہر آگیا۔ یہاں میں ایک اجنبی انسان کی طرح کھڑا ہوا تھا، اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کیا کروں اور کہاں جاؤں۔

کچھ دیر کے بعد مجھے نظر آیا کہ ایک آدمی سڑک کے دوسری طرف سے چل کر میری طرف آرہا ہے۔ وہ میرے پاس آیا اور اردو زبان میں مجھ سے بات کرنے گا۔ انھوںنے بتایا کہ وہ ایک پاکستانی مسلمان ہیں اور یہاں کسی سروس کے تحت رہتے ہیں۔ اُن کو میرے حالات سن کر مجھ سے ہمدردی ہوئی۔ وہ فرانسیسی زبان جانتے تھے۔ وہ مجھ کو لے کر ائر پورٹ میں واقع پولیس کے دفتر میں گئے۔ انھوںنے پولس والوں سے فرانسیسی زبان میں بات کی۔ پولس والوں نے کہا کہ اِس بارے میں ہمارے پاس کچھ زیادہ معلومات نہیںہیں، البتہ ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ کیسا بلانکا کے ہوٹل ’’سفیر‘‘ میں ایک کانفرنس ہورہی ہے۔ اِس کے بعد مذکورہ پاکستانی مسلمان نے کہا کہ میںصرف یہ کرسکتا ہوں کہ آپ کو اپنی گاڑی میں لے چلوں اور ہوٹل ’’سفیر ‘‘کے باہر اتار دوں۔ چناں چہ انھوں نے مجھ کو اپنی گاڑی پر بٹھایا اور ہوٹل سفیر کے گیٹ پر مجھ کو چھوڑ کر چلے گئے۔

میں ڈرتے ہوئے ہوٹل کے اندر داخل ہوا۔ اندر داخل ہوتے ہی مجھے کانفرنس کے بعض افراد مل گئے جو مجھ کو پہچانتے تھے۔ انھوںنے بتایا کہ یہاں میرے لیے ایک کمرہ رِزرو (reserve) ہے۔ اِس کے بعد انھوںنے مجھ کو ہوٹل کا کارڈ دے کر اس کے کمرہ نمبر 1207 میں پہنچادیا۔

25 نومبر 1984 کو جو مذکورہ واقعہ میرے ساتھ پیش آیا، وہ میرے لیے قیامت کا ایک محدود تجربہ تھا۔ آدمی پیدا ہونے کے بعد اپنے ماں باپ اور اپنے رشتے داروں کے درمیان رہتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے، جہاں اس کو فطرت کی طرف سے ایک مکمل قسم کا لائف سپورٹ سسٹم (life support system) ملا ہوا ہے۔ آدمی اپنا ایک گھر بناتا ہے اور اپنے لیے تمام ضروری سازوسامان کی ایک دنیا تعمیرکرتاہے۔

ہر آدمی اپنی بنائی ہوئی دنیا میںآزادی کے ساتھ ایک مطمئن زندگی گزارتا ہے۔ اچانک ایک سنگین واقعہ پیش آتا ہے۔ یہ موت کا واقعہ ہے۔ موت آدمی کو اس کی بنائی ہوئی دنیا سے مکمل طورپر جدا کرکے ایک اوردنیا میں پہنچا دیتی ہے۔ یہاں وہ اُن چیزوں سے محروم ہوجاتا ہے، جن کے درمیان وہ اپنی تمام ضروریات پوری کرتے ہوئے زندگی گزاررہا تھا۔ اس کے دوست اور رشتے دار بھی اُس سے مکمل طورپر جدا ہوجاتے ہیں۔ اِس دوسری دنیا میں آدمی تنہا بھی ہوتا ہے اور پوری طرح بے سروسامان بھی۔

25 نومبر 1984 کو میرے ساتھ جو تجربہ گزرا، وہ میرے لیے اِسی قسم کا ایک محدود تجربہ تھا۔ یہ موت کے بعد آنے والی دنیا کی ایک جُزئی تصویر تھی۔ اگلی دنیا کی اِس قسم کی جزئی تصویر کبھی نہ کبھی ہرانسان کو دکھائی جاتی ہے، تاکہ وہ موت کے بعد سامنے آنے والے حالات کا پیشگی تعارف حاصل کرلے اور اس کے لیے ضروری تیاری کرسکے۔

کامیاب زندگی کا سفر

تمام مقبول ناول وہی ہیں جو ٹریجڈی کے طور پر لکھے گئے۔ اِس کا سبب کیا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اِس دنیا میں ہر آدمی مایوسی کے احساس میں جیتا ہے، اِس لیے ٹریجک ناول اس کے مائنڈ کو زیادہ ایڈریس کرتے ہیں۔ اِس کے مقابلے میں، کامیڈی اس کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتی۔

اِس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے آئڈیل کو چاہتا ہے، لیکن ساری کوشش کے باوجود اس کو دنیا میں صرف آئڈیل سے کم (less than ideal) حاصل ہوتاہے۔ یہ محرومی اتنی زیادہ عام ہے کہ اِس میں کسی عورت، یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔

یہ بلاشبہہ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اِس مسئلے کا حل صرف اُس وقت معلوم ہوتا ہے، جب کہ اس کو خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کی روشنی میں دیکھا جائے۔ اِس کے سوا ، کوئی بھی طریقہ اِس معاملے کی توجیہہ نہیں کرتا۔

اصل یہ ہے کہ خدا نے ہر انسان کو معیار پسند (idealist)ہستی کے طورپر پیدا کیا ہے۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک متلاشی ٔ معیار حیوان (ideal-seeking animal) ہے۔ لیکن یہ معیار (ideal) موجودہ دنیا میں سرے سے قابلِ حصول نہیں۔ وہ صرف آخرت میں، جنت کی صورت میں کسی انسان کو مل سکتا ہے۔

خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God)کے مطابق، موجودہ دنیا آزمائش (test) کی دنیا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو صرف اِس لیے رکھا گیا ہے، تاکہ وہ اپنے آپ کو جنت کے لیے تیار کرے۔ موجودہ دنیا کے حالات میں جو لوگ اپنے عمل سے اِس بات کا ثبوت دیں کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسانے کے قابل ہیں، وہ موت کے بعد اس میں بسائے جائیں گے، اور بقیہ لوگوں کو چھانٹ کر الگ کردیا جائے گا۔

طلب اور مطلوب میں یہی تضاد ہے جو لوگوں کے اندر محرومی کی نفسیات پیدا کردیتا ہے۔ انسان اپنے پیدائشی مزاج کے مطابق، اپنے لیے ایک کامل دنیا چاہتا ہے، ایک ایسی دنیا جہاں ہر چیز پرفکٹ اور آئڈیل ہو۔ لیکن ساری کوشش کے باوجود اُس کو یہاں صرف ایک غیر کامل دنیا (imperfect world) ملتی ہے، ایک ایسی دنیا جہاں ہر چیز غیر کامل اور غیر معیاری ہے۔

اِس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ انسان، خدا کے تخلیقی پلان کو سمجھے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ وہ موجودہ دنیا کو تیاری کی دنیا (preparatory world)سمجھے، نہ کہ اپنے مطلوب کو پانے کی دنیا۔ جو انسان، خدا کے اِس تخلیقی پلان کو جانے اوراس کے مطابق، اپنی زندگی کا نقشہ بنائے، وہ بہ یک وقت اپنے لیے دو رحمتوں کو حاصل کرے گا— ایک یہ کہ دنیا کی زندگی میں وہ ٹنشن اورمایوسی کا شکار نہ ہوگا۔ اور دوسرے، یہ کہ موت کے بعد جب وہ اگلی دنیا (world hereafter)میں پہنچے گا، تو وہاں وہ جنت کو پالے گا، یعنی ابدیت (eternity) کی دنیا۔

ہر انسان ایک کامل زندگی کی تلاش میں ہے۔ لیکن ہر انسان اُس سے محروم ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنی مطلوب منزل کو قبل از موت کی دنیا میں تلاش کررہا ہے، جب کہ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، وہ موت کے بعد کی دنیا میں رکھ دی گئی ہے۔ یہی وہ دریافت (discovery)ہے جس سے کامیاب زندگی کا سفر شروع ہوتا ہے۔

خدا کے تخلیقی پلان کو نظر انداز کرنے سے ، انسان کی زندگی المیہ (tragedy) بن جاتی ہے۔ اگر خدا کے تخلیقی پلان کو اپنا رہ نما نہ بنایا جائے تو انسان کی زندگی ایک طربیہ (comedy) بن جائے گی۔

موت کا تصور

موت (death) کے لفظ کو اگر آپ ڈکشنری میں دیکھیں تو اس میں موت کا مطلب یہ لکھا ہوا ہوگا کہ — زندگی کا ابدی خاتمہ

Permanent cessation of life

موت کی یہ لغوی تعریف، موت کی منفی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ نکلتا ہے کہ آدمی مکمل انسان کی حیثیت سے پیدا ہو، لیکن تھوڑی مدت تک زندہ رہ کر ہمیشہ کے لیے اس کا خاتمہ ہوجائے۔ اس کی تمام آرزوئیں(desires) اور اس کی تمام صلاحتیں اِس طرح مٹ جائیں کہ دوبارہ اُن کا وجود میں آنا ممکن نہ رہے۔

اسلام اِس کے مقابلے میں، زندگی کا مثبت تصور پیش کرتا ہے۔ اسلام کے مطابق، موت زندگی کا خاتمہ نہیں، موت کا مطلب انسان کے لیے اس کے دوسرے دورِ حیات کا آغاز ہے

Death is not the end of life. Death marks the beginning of the second phase of human life.

اسلام کے مطابق، انسان کو ابدی مخلوق (eternal being) کے طور پر پیدا کیا گیا، پھر اس کے عرصۂ حیات (life span) کو دو حصوں میں بانٹ دیا گیا— قبل از موت حصہ، اور بعد از موت حصہ۔ قبل از موت عرصۂ حیات تیاری کی جگہ ہے اور بعد از موت عرصۂ حیات تیاری کے مطابق، اپنا مستقل انجام پانے کی جگہ۔

اِس تخلیقی پلان کے مطابق، آدمی کو چاہیے کہ وہ موت سے پہلے کی زندگی کو تیاری کا دور (preparatory period) سمجھے اور اس کو کامل طورپر تیاری میں گزار ے۔ کیوں کہ موت کے بعد زندگی کا جو دور آدمی کے سامنے آئے گا، اُس میں عمل کرنا نہ ہوگا، بلکہ کیے ہوئے عمل کا انجام پانا ہوگا۔

موت کا واقعہ دراصل، زندگی کا پیغام ہے۔ موت کا پیغام یہ ہے کہ —جو کرنا ہے، اُس کو آج کے دن کرلو۔ کیوں کہ کل کے دن کرنے کا وقت باقی نہیں رہے گا۔

ناقص علم کا مسئلہ

قدیم زمانے میں یونان کے بعض سیّاح جب اپنے سفر سے واپس آئے، تو انھوں نے لوگوں کو ایک پُر عجوبہ (wondrous)کہانی بتائی۔ اِس کا مقصد صرف تفنّن (humour)تھا۔ انھوںنے کہا کہ سیاحت کے دوران ہم ایک جزیرے میں پہنچے، اِس جزیرے میں ہم نے ایک عجیب مخلوق دیکھی۔ اِس مخلوق کا جسم تو بالکل گھوڑے جیسا تھا، لیکن اس کا سر انسان کے سر کی مانند تھا، یعنی وہ مخلوق اپنے جسم کے اعتبار سے گھوڑا اور اپنے سر کے اعتبار سے انسان تھی۔

لوگوں نے جب سیاحوں کی زبان سے اِس قصے کو سنا، تو انھوں نے اِس پر یقین کرلیا۔ کہانی لکھنے والوں نے اِس پُر عجوبہ مخلوق کا ذکر اپنی کہانیوں میں کیا۔ اِس طرح نسل در نسل اُس کا چرچا ہوتا رہا، یہاں تک لوگ اِس بے اصل کہانی کو ایک حقیقی واقعہ سمجھنے لگے۔

موجودہ زمانے میں ہر چیز کا سائنٹفک مطالعہ کیا گیا ہے۔ اہلِ علم نے اِس قصے کا بھی سائنٹفک تجزیہ کیا، پھر انھوں نے بتایا کہ ایسا ہونا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کسی ذی حیات مخلوق کو ہمیشہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔اِسی اعتبار سے نیچر نے ہر ایک کے نتھنے بنائے ہیں۔ انسان کا نتھنا (nostril) چھوٹا ہے اور گھوڑے کا نتھنا بڑا۔ اب اگر گھوڑے کے جسم کے ساتھ انسان کا سر جوڑ دیا جائے، تو گھوڑے کو کم آکسیجن ملے گی۔ آکسیجن کی کمی کے سبب سے وہ جلد ہی مرجائے گا

Human nostrils could not pass enough air to fill a horse’s lungs. consquently, this kind of horse will die. A head like a man’s could not exist in relation to any type of body differing from a man’s.

لوگ عام طورپر عجوبہ پسند ہوتے ہیں۔ چناں چہ آج بھی بہت سے لوگ ہیں جو اِس قسم کی فرضی کہانیوں کو واقعہ سمجھے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کواپنے اِس مزاج کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ ان کا ذہنی ارتقا (intellectual development)رک جاتاہے۔ وہ اپنی عجوبہ پسندی کی بنا پر حقیقت پسندانہ روش اختیار کرنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔

زندگی کا خاتمہ

26 ستمبر 2008 کو نئی دہلی کے پارلیامنٹ انکسی میں ایک خصوصی پروگرام تھا۔ اِس پروگرام کو نئی دہلی کے ایف اے این ایس (Foundation for Amity & National Solidarity) نے آرگنائز کیا تھا۔ اس کے صدر لوک سبھا کے اسپیکر مسٹر سوم ناتھ چٹرجی تھے۔ اِس موقع پر مشہور جنرلسٹ خشونت سنگھ (پیدائش 1915 ) کو نیشنل ایمٹی ایوارڈ دیا گیا۔اسٹیج سے مسٹر خشونت سنگھ کے تعارف میں جو تقریر ہوئی، اُس میں بتایا گیا کہ زندگی کے بارے میں مسٹر خشونت سنگھ کا نظریہ یہ ہے کہ

Enjoy good things in life.

مگر خود مسٹر خشونت سنگھ اسٹیج پر بیٹھے ہوئے اِس نظریے کی زندہ تردید بنے ہوئے تھے۔ تقریباً 95 سال کی عمر کو پہنچ کر وہ بہت کم زور ہوچکے تھے، وہ جھک کر چلتے تھے، ان کے اوپر مایوسی چھائی ہوئی تھی، چہرے سے مسکراہٹ غائب تھی۔ یہ منظر دیکھ کر میںنے سوچا کہ انسان، دنیا میں انجوائے کرنے کا نظریہ بناتا ہے، حالاں کہ اس کے لیے مقدر ہے کہ وہ بہت جلد انجوائے کرنے کے قابل ہی نہ رہے

Enjoy good things in life only to become so weak that you are unable to enjoy anything.

یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، یہی پوری تاریخ کی کہانی ہے۔ ہر زمانے میں انسان کا یہی حال ہوا ہے کہ وہ اپنے لیے خوشیوں کا ایک محل بنانا چاہتا ہے، لیکن آخر میں بڑھاپا آتا ہے اور اس کے سارے منصوبے کو ناکام کردیتا ہے۔

یہاں انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ پر نظر ثانی کرے۔ لیکن انسان اپنی سوچ پر نظر ثانی نہیں کرپاتا، یہاں تک کہ مایوسی کے ساتھ اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے، حالاں کہ اگر وہ اپنی سوچ پر نظر ثانی کرے تو عین ممکن ہے کہ اس کی زندگی ٹریجڈی (المیہ) کے بجائے، کامیڈی (طربیہ) میں بدل جائے۔ اس کا خاتمہ امید پر ہو، نہ کہ ناامیدی پر۔

ہر شخص موت کا مسافر

ایک خبر میڈیا میں آئی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (9 اکتوبر 2008) میں یہ خبر حسب ذیل الفاظ میں چھپی ہے

British reality TV star Jade Goody, who has been diagnosed with cancer, says she has started planning for her funeral, adding she wants “people to cry over me”. “Most people plan their weddings. But I am planning my funeral”, Goody told OK! Magazine. Goody was diagnosed with cervical cancer in August 2008 just as she prepared to appear in the Indian version of the British reality TV show celebrity Big Brother. (p. 21)

other sourceWords of another person or source

برطانی ٹی وی اسٹار جیڈ گوڈی اپنے پروفیشن کے اعتبار سے چوٹی (peak) پر تھیں۔ اچانک اگست 2008 کے طبی معائنے میں اُن کو بتایا گیا کہ اُن کو کینسر کی بیماری ہوچکی ہے‘ یعنی لاعلاج بیماری۔ انھوں نے اپنے مستقبل کے پروفیشنل منصوبوں کو منسوخ کردیا۔ انھوں نے کہا کہ اب مجھے موت کی تیاری کرنی ہے۔ لوگ شادی کا منصوبہ بناتے ہیں‘ مجھ کو اپنی موت کا منصوبہ بنانا ہے

Most people plan their weddings. But I am planning my funeral.

یہی ہر عوت اور ہر مرد کی کہانی ہے۔ لوگ زندگی کا جشن منانے کے لیے سرگرم رہتے ہیں‘ حالاںکہ ہر ایک کا آخری انجام یہ ہے کہ جشن کی تکمیل سے پہلے اُس پر موت آئے اور وہ موجودہ دنیا سے نکل کر اگلی دنیا میں پہنچ جائے۔ ایسی حالت میں ہر عورت اور مرد کو یہ کرنا ہے کہ وہ قبل از موت مرحلۂ حیات کو صرف ایک وقتی سفر سمجھے اور اپنی ساری توجہ بعد از موت مرحلہ حیات کی تیاری میں لگادے۔

لوگ اپنا برتھ ڈے مانتے ہیں۔ حالاں کہ ہر سال گرہ صرف اِس بات کا اعلان ہے کہ آدمی کی عمر کا ایک سال اور کم ہوگیا۔ ایسی حالت میں، ہر عورت اور مرد کو چاہیے کہ وہ ہر سال کی تکمیل پر آنے والی موت کو یاد کرے۔ کیوں کہ اگلی سال گرہ کا آنا یقینی نہیں، لیکن موت کا آنا یقینی ہے۔ عقل مند وہ ہے جو اِس سب سے بڑی حقیقت کو یاد رکھے جس کا دوسرا نام موت ہے۔

مواقع کا استعمال

مواقع (opportunities) کے استعمال کی دو صورتیں ہیں— ایک ہے اُن کا دانش مندانہ استعمال‘ اور دوسرا ہے اُن کا غیر دانش مندانہ استعمال۔ مواقع کا دانش مندانہ استعمال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مواقع آدمی کے لیے ترقی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اِس کے برعکس‘ مواقع کا غیر دانش مندانہ استعمال ہمیشہ بربادی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

اِس معاملے کی ایک مثال آزادی (freedom) ہے۔ موجودہ زمانے میں آزادی کی صورت میں ہر ایک کو عظیم مواقعِ کار حاصل ہوئے ہیں۔ مثلاً پریس کی آزادی‘ جلسہ جلوس کی آزادی‘ وغیرہ۔ لوگوں نے اِن مواقع کا بڑے پیمانے پر استعمال بھی کیا ہے‘ لیکن یہ استعمال ہر جگہ صرف نقصان میںاضافے کا ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ اِن مواقع کا جو تعمیری فائدہ ہے‘ وہ اب تک حاصل نہ کیا جاسکا۔

مثلاً پریس کو اب تک شکایت اور احتجاج (protest) کے لیے استعمال کیا گیا ہے، اُس کو تعمیر ِ خویش کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ تمام لوگ منفی سوچ کا شکار ہوگئے۔ موجودہ زمانے میں مثبت سوچ موجود نہیں۔ اِس کا سب سے بڑا سبب پریس کا یہی احتجاجی استعمال ہے۔

مواقع کا مثبت استعمال صرف وہ لوگ کر پاتے ہیں جو مواقع کے کم تر استعمال پر راضی ہوجائیں، یعنی مواقع جتنا زیادہ آگے بڑھنے کی اجازت دے رہے ہیں، اُس کے مقابلے میں پیچھے رہ کر اپنا کام کرنا۔ مواقع اگر آپ کو ہائی پروفائل (high profile) میں بولنے کی اجازت دے رہے ہیں تو آپ لو پروفائل (low profile) میں بولنے کی اجازت دے رہے ہیں توآپ لو پروفائل (low profile) میںبولنے پر اپنے آپ کو راضی کرلیں۔ مواقع اگر آپ کو دھوم مچا کر کام کرنے کی اجازت دے رہے ہیں تو آپ خاموشی کے ساتھ اپنا کام انجام دیں۔ مواقع اگر آپ کو غَوغائی سیاست کی اجازت دے رہے ہوں تو آپ چپ کی سیاست اختیار کرلیں۔ یہی اِس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

کاش ایسا ہوتا، کاش ویسا نہ ہوتا

ہیرنشا ایک برٹش رائٹر ہے۔ اُس نے اپنی ایک کتاب میں بہت سی واقعاتی مثالوں کے ذریعے بتایا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو تاریخ کچھ اورہوتی، اس کتاب کا نام یہ ہے— تاریخ کے اگر

The Ifs of History, by F. G. C. Hearenshaw

یہ عام انسانی کم زوری ہے کہ وہ گزرے ہوئے دنوں کی یاد میں جیتا ہے۔ وہ ہمیشہ یہ سوچتا رہتا ہے کہ — کاش ایسا ہوتا، کاش ویسا نہ ہوتا۔ اِس قسم کی سوچ ایک تباہ کن سوچ ہے۔ وہ آدمی کے اندر غیر ضروری قسم کا ٹنشن پیدا کردیتی ہے۔ ٹنشن ایک سخت قسم کی مہلک چیز ہے۔ ٹنشن اگر چہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے، لیکن ٹنشن آدمی کے اندر طرح طرح کی مہلک بیماریاں پیدا کردیتا ہے۔

ماضی کی تلخ یادوں میں جینا، ایک ایسی عادت ہے جس کا نقصان یقینی ہے، اور اس کا فائدہ کچھ بھی نہیں۔ ماضی کی غلطیوں کو یاد کرکے اگر ان سے سبق لیاجائے تو بلا شبہہ وہ انسان کے لیے مفید ہیں۔ لیکن اگر ماضی کی غلطیوں کو سوچ کر آدمی غم اور افسوس میں پڑا رہے تو یہ ایک سخت ناعاقبت اندیشانہ فعل ہے۔ کیوں کہ ماضی کی تاریخ کبھی کسی کے لیے واپس نہیں آتی۔ ماضی کی تلخ یادوں کو صرف بھلانا ہے، نہ کہ ان کو یاد کرکے اپنے ذہن میںان کی تلخی باقی رکھنا۔

گزرا ہوا وقت کبھی کسی کے لیے واپس نہیں آتا۔ عقل مند انسان وہ ہے جو حاصل شدہ مواقع کو بھر پور طورپر استعمال کرے، نہ کہ گزرے ہوئے مواقع کو یاد کرکے اس پر افسوس کرتا رہے۔ اِسی حقیقت کو ایک اردو شاعر نے اِس طرح بیان کیا ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

زندگی ناموافق حالات میں موافقت تلاش کرنے کا نام ہے، نہ کہ ناموافق حالات پیش آنے پر اُس کے خلاف غم اور افسوس کرنے کا۔ کامیاب انسان وہ ہے جو اپنے آپ کو منفی سوچ سے بچائے اور ہمیشہ مثبت طرزِ فکر پر قائم رہے۔

نگیٹوایڈوانٹج لینا

ہر ایڈوانٹج (advantage) کے دو پہلو ہوتے ہیں—مثبت پہلو اور منفی پہلو۔ جب کسی ایڈوانٹج کا مثبت استعمال کیا جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کو خود بھی اس کا فائدہ پہنچے گا اور وہ سماج کو بھی فائدہ پہنچانے کا سبب بن جائے گا۔ لیکن اگر کسی ایڈوانٹج کا منفی استعمال کیا جائے تو اس کا الٹا نتیجہ نکلے گا۔ ایسا آدمی خود بھی نقصان اٹھائے گا اور دوسروں کو بھی نقصان پہنچانے کا سبب بنے گا۔

اِس کی ایک مثال آزادی ہے۔ آزادی بلا شبہہ ایک اعلیٰ نوعیت کا ایڈوانٹج ہے۔ لیکن آزادی کے استعمال کے دو پہلو ہیں— مثبت استعمال اور منفی استعمال۔ آزادی کا مثبت استعمال اس کا صحیح استعمال ہے، اور آزادی کا منفی استعمال اس کا غلط استعمال۔ دونوں قسم کے استعمال کے نتائج کبھی یکساں نہیں ہوسکتے۔

اگر آپ آزادی کا اِس طرح استعمال کریں کہ قانونی حدود میںرہتے ہوئے بزنس کریں، محنت کرکے تعلیم حاصل کریں، تعمیری مقصد کے تحت آرگنائزیشن بنائیں، اِس طرح کا ہر کام آزادی کا مثبت استعمال ہے۔ آزادی کا ایسا استعمال ہمیشہ مفید ثابت ہوتا ہے، فرد کے لیے بھی اور اجتماع کے لیے بھی۔لیکن آزادی کا اگر منفی استعمال کیا جائے تو وہ فرد اور اجتماع دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ مثلاً جذباتی سیاست چلانا، اینٹی اسٹیبلش مینٹ (anti-establishment) نعروں پر لوگوں کو بھڑکانا، لوگوں کو ڈیوٹی کانشش(duty-conscious) بنانانے کے بجائے رائٹ کانشش (right-conscious) بنانا، اپنی کوتاہی کا الزام دوسروں کے اوپر ڈال کر مخالفانہ تحریک چلانا، وغیرہ۔

یہ آزادی کا نگیٹوا یڈوانٹج لینا ہے۔ اِس قسم کی پالیسی ہمیشہ اور ہر اعتبار سے تباہ کن ثابت ہوتی ہے، اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔ کسی چیز کا نگیٹو ایڈوانٹیج لینے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مواقع کے استعمال اور مواقع کی بربادی کے فرق کو نہیں سمجھتا۔ وہ نہیں جانتا کہ کوئی ایڈوانٹج اِس لیے ہوتا ہے کہ اس کا مثبت استعمال کرکے اس سے فائدہ اٹھایا جائے، نہ کہ اس کانگیٹو استعمال کرکے اپنی تباہی میں اضافہ کر لیا جائے۔

ایم فیکٹر، کیو فیکٹر

دہلی کے ایک مسلم نوجوان ایک انگریزی میگزین میں کام کرتے تھے۔ اِس میگزین کے مالکان سب ہندو تھے۔ چند سال کے بعد منتظمین کی طرف سے مذکورہ مسلم نوجوان سے کہاگیا کہ آپ استعفی دے دیں۔ چوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ اگر وہ استعفیٰ نہ دیں تو اُن کو برخاست کردیا جائے گا۔ اِس لیے انھوں نے استعفیٰ دے دیا۔

اِس کے بعد مذکورہ مسلم نوجوان سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوںنے کہا کہ میرے ساتھی کہتے ہیں کہ اِس کا سبب ایم فیکٹر (M-factor) ہے۔ میںنے کہا کہ ہر گز نہیں، اِس کا سبب صرف کیو فیکٹر(Q-factor)ہے، یعنی مسلم فیکٹر نہیں، بلکہ کوالٹی فیکٹر۔ میں نے کہا کہ آپ اپنے دل سے منفی خیال مکمل طورپر نکال دیں اور آپ صرف ایک کام کریں، وہ ہے اپنی انگلش رائٹنگ کو امپروو (improve) کرنا۔ میرے مشورے سے انھوں نے بر ٹش کاؤنسل میں داخلہ لے لیا۔ وہاں انھوں نے ایک سال اپنی زبان کو امپروو کرنے کی کوشش کی۔ برٹش کاؤنسل سے ایک سال کا کورس پورا کرنے کے بعد ان کی زبان پہلے سے بہتر ہوچکی تھی۔ اِس کے بعد انھوں نے ایک اور انگریزی میگزین میں انٹرویو دیا۔ وہاں ان کا سلیکشن ہوگیا۔ اب وہ اِس دوسرے انگریزی میگزین میں کام کررہے ہیں۔ یہاں ان کو پہلے سے تقریباً تین گنا زیادہ تنخواہ ملتی ہے، جب کہ اِس دوسرے میگزین کے مالکان بھی ہندو ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس مثال سے زندگی کی ایک حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اکثر لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ جب وہ کسی ناپسندیدہ صورت ِحال سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ یہ کرتے ہیںکہ اس کو فوراً تعصب (bias) کا معاملہ سمجھ کر اس کی ذمے داری دوسرے کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ تعصب کا لفظ صرف ڈکشنری میں پایا جاتا ہے، حقیقی زندگی میں اس کا کوئی وجود نہیں۔

جب بھی آپ کو دوسروں کی طرف سے کوئی ناخوش گوار تجربہ پیش آئے تو سمجھ لیجیے کہ وہ خود آپ کی کسی کمی کی بنا پر پیش آیا ہے۔ اپنی کمی کو دریافت کرکے اس کو دور کیجیے اور پھر آپ کی شکایت اپنے آپ ختم ہوجائے گی۔

سوال و جواب

سوال

جب ہم قرآن کو پڑھتے ہیںتو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا بیش تر حصہ ہمارے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کے بیش تر حصے کے مخاطب دوسرے لوگ ہیں، یعنی غیر مسلم اقوام۔ قرآن کہیں منکر کو خطاب کرتا ہے، کہیں اہلِ کتاب یہودی اور مسیحی لوگوں کو خطاب کرتا ہے، کہیں منافق کو خطاب کرتا ہے اور کہیں منکرینِ پیغمبر کو خطاب کرتا ہے۔ایسی حالت میں ایک مسلمان قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ ہم قرآن کے صرف جزئی مخاطب ہیں۔ براہِ کرم، اِس معاملے کی وضاحت کیجیے (ایک قاری الرسالہ، حیدرآباد)۔

جواب

یہ سوال ایک مغالطے پر مبنی ہے۔ وہ مغالطہ یہ ہے کہ —ہم مسلمان مذکورہ کردار سے پاک ہیں۔ حالاں کہ اگر محاسبہ (introspection) کا مزاج ہو تو قرآن کا مسلمان قاری ہر خطاب کو خود اپنے لیے محسوس کرے گا۔ کیوں کہ منکر، یا منافق، یا یہودی، یا مسیحی، یہ سب گروہی نام نہیں ہیں، بلکہ یہ سب کسی صفت سے متصف لوگوں کے نام ہیں۔ اگر حقیقی محاسبہ موجود ہو تو قاری محسوس کرے گا کہ یہ سب صفات تو خود میرے اندر بھی موجود ہیں، جیسا کہ اصحابِ رسول کا حال تھا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

چناں چہ ایک تابعی (حسن بصری) نے کہا کہ میں 70 صحابہ سے ملا۔ ہر ایک کو یہ احساس تھا کہ میں نفاق میں مبتلا ہوگیا۔ اِسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ مسلمان بعد کے زمانے میں، یہودو نصاریٰ کے طریقے اختیار کرلیں گے (لتتبعنّ سنن من کان قبلکم ، شبراً بشبرٍ وذراعاً بذراعٍ)، ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آپس کی لڑائی کرکے تم کافر نہ بن جانا (لاترجعوا بَعدی کُفّاراً، یضرب بعضکم رقاب بعض)، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ اگر قاری کے اندر صحیح مزاج موجود ہو تو قرآن میںمذکور ہر کردار اُس کے لیے ایک آئینہ بن جائے گا جس میں آدمی کو خود اپنی تصویر دکھائی دے گی۔

مسلمان کسی نسلی گروہ کا نام نہیںہے۔ مسلمان کی شخصیت، گروہ سے تعلق کی بنا پر نہیں، بلکہ انفرادی کردار کی بنا پر بنتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اِس دنیا میں آدمی امتحان کی حالت میں ہے۔ مسلمان بھی اسی امتحان میںہیں۔ اِس بنا پر ہر وقت یہ اندیشہ ہے کہ وہ نفس یا شیطان کی ترغیبات کی بنا پر کسی گم راہی میں مبتلا ہوجائیں۔ یہ اندیشہ ہر مسلمان کے لیے موجود رہتا ہے۔ اِسی لیے حکم دیا گیا ہے کہ ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہو۔ اگر آدمی کے اندر محاسبہ کی زندہ کیفیت موجود ہو تو وہ بار بار محسوس کرے گا کہ وہ اُس چیز کا شکار ہو رہا ہے، جس کو قرآن میں مسِّ شیطان (الأعراف 201) کہاگیا ہے۔ اِس طرح بار بار ایسا ہوگا کہ ایک مسلمان اقرار کے اعتبار سے، مسلمان ہوتے ہوئے مختلف قسم کی خفیہ یا علانیہ گم راہی کا شکار ہوجائے۔ یہ مزاج اگر مسلمان کے اندر زندہ ہو تو پورا قرآن اس کے لیے ہدایت کی کتاب بن جائے گا۔ دوسروں سے خطاب میں وہ محسوس کرے گا کہ یہاں قرآن خود مجھ کو اپنا مخاطب بنا رہا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سوال

اپنی استطاعت کے مطابق، میں Dawah work کرتا ہوں۔ پچھلے دنوں ایک شخص نے مجھ سے religion ، civilization ، culture اور tradition کے بارے میںکئی سوالات کیے۔تمام سوالات کو غور سے سننے کے بعد میں نے اُن صاحب سے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اِن باتوں کا مجھے بخوبی علم نہیں ہے۔ اُن صاحب کے مطابق، ایک مذہب لیکن دو تہذیبیں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ اُس کی مثال اُنھوں نے دو الگ تہذیبیں رکھنے والے، بنگلہ دیش اور موجودہ پاکستان کے مسلمانوں سے دی۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہولی کے تیوہار کا تعلق مذہب سے نہیں ہے، بلکہ یہ ایک culture اور tradition ہے۔ اِسے آپ لوگوں کے منانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ اِسی طرح عورتوں کا اپنے ماتھے پر بندیا لگانے کو مذہب سے نہیں بلکہ tradition سے جوڑنا چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ آپ مذہب اور culture کو الگ کرکے دیکھیں۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ اِن سوالات کی وضاحت فرمائیں۔ (منصورسردار، بھیونڈی، مہاراشٹر)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

جواب

مذکورہ سوالات سب کے سب، غیر علمی سوالات ہیں۔ مثال کے طورپر بنگلہ دیش اور پاکستان میں علاحدگی دو تہذیبوں کی بنا پر نہیں ہوئی، بلکہ یہ علاحدگی دو سیاسی مفاد (political interest) کی بنا پر ہوئی۔ بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمن کی پارٹی پورے پاکستان پر حکومت کرنا چاہتی تھی، اور پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی پورے پاکستان پر حکومت کرنا چاہتی تھی۔ دونوں میں سمجھوتہ نہ ہوسکا۔ اِس لیے دونوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا، اور اِس ٹکراؤ کے نتیجے میں دو الگ الگ ملک بن گئے۔

ہولی کا تہوار، یا ماتھے پر عورتوں کا بندیا لگانا، بلا شبہہ کلچرل چیزیں ہیں۔ لیکن یہ کلچر ہندو روایات (traditions)کے تحت بنا ہے۔ اِس طرح کی روایات ہر ملک میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن جس گروہ میں یہ روایتیں پائی جاتی ہیں، اُسی گروہ کے لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ صحیح نہیں کہ اِس طرح کی روایتوں کو ہر گروہ کے اوپر چسپاں کیا جائے۔

دو چیزیں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں— کمیونٹی کلچر، اور نیشنل کلچر۔ نیشنل کلچر صرف وہ ہے جو کانسٹی ٹیوشن آف انڈیا سے ثابت ہوتا ہو۔ جو چیز کانسٹی ٹیوشن آف انڈیا سے ثابت نہ ہوتی ہو، وہ کمیونٹی کلچر کا حصہ قرار پائے گی، نہ کہ نیشنل کلچر کا حصہ۔ کانسٹی ٹیوشن آف انڈیا کے مطابق، ہر کمیونٹی کو اپنے کلچر پر عمل کرنے کی آزادی ہے۔ لیکن کسی کمیونٹی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی خود ساختہ توجیہہ کی بنا پر، اپنے کلچر کو دوسرے گروہ کے اوپر چسپاں کرنے لگے۔

آپ دعوت الی اللہ کا کام کررہے ہیں، تو آپ کوجاننا چاہیے کہ دعوت کا ایک لازمی اصول اعراض (avoidance) ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ ایسی باتوں سے مکمل اعراض کریں جو دعوتی عمل سے براہِ راست تعلق نہ رکھتی ہوں۔ اصولِ اعراض کی کامل پیروی کے بغیر کوئی شخص دعوت الی اللہ کا کام نہیںکرسکتا۔

خبر نامہ اسلامی مرکز191—

1 - واشنگٹن (امریکا) کے ادارہ ہنری ایل اسٹمسن سنٹر(Henry L. Stimson Centre) کے اسپانسرشپ کے تحت، انڈیا کے مختلف شہروں میں سیمنار منعقد کیا گیا۔ دہلی میںاِس سیمنار کا انتظام حسب ذیل دواداروں کے ذریعے کیاگیا

1. Dr. K. R. Narayan Centre for Dalit and Minorities Studies, Jamia Millia Islamia (New Delhi)

2. Centre for Study of Society and Secularism (Bombay)

نئی دہلی میں یہ سیمنار 17 ستمبر 2008 کی شام کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’’میر تقی میر ہال‘‘ میں کیاگیا۔ اس کے آرگنائز ڈکٹر امت پانڈیا (Dr. Amit Pandya) تھے۔ اِس سیمنار کا موضوع یہ تھا

Various Issues Facing Indian Muslims, Their Worldview and Vision for the Future.

اِس سیمنار میںاعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان شریک ہوئے۔ اِس سیمنار کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر ایک تقریر کی۔ اُن کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواقع کی نشان دہی کرکے ان کو استعمال کیا جائے۔ اِس موقع پر سی پی ایس کی ٹیم کے افراد سیمنار میں موجود تھے۔ انھوں نے حاضرین کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کیا۔ سی پی ایس کے ممبران نے بھی اس موقع پر اظہار خیا ل کیا۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔

2 - سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 17 ستمبر 2008 کو ایک پروگرام ہوا۔ اِس پروگرام کاموضوع یہ تھا

Basic Human Values in Islam

اِس پروگرام میں کیندریہ ودیالیہ کے پرنسپل حضرات شریک تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت اور قرآن وحدیث کی روشنی میںموضوع ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔یہاں حاضرین کے درمیان اسلامی لٹریچر بھی تقسیم کیاگیا ۔ لوگوں نے اس کو بہت شوق سے لیا۔

3 - نئی دہلی کی تنظیم انٹرفیتھ کولیشن فارپیس (ICP) کی طرف سے 23 ستمبر 2008 کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (لودھی روڈ، نئی دہلی) میں انٹرفیتھ پریئرمیٹنگ(Interfaith Prayer Meeting) کے موضوع پر ایک سیمنار ہوا۔ اِس کا مقصد ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کے پس منظر میں مختلف مذاہب کی تعلیمات کو بتانا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی ا ور موضوع پر اظہار خیا ل کیا۔ اِس موقع پر سی پی ایس ٹیم کے ممبران نے حاضرین کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کیا۔

4 - سہارا سمے ٹی وی (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ’’ماہِ رمضان‘‘ کے پروگرام کے تحت، رمضان اور شانتی کے موضوع پر 25 ستمبر2008 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیاگیا۔ سوالات کے دوران صدر اسلامی مرکز نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں امن کی اہمیت پرروشنی ڈالی۔

5 - 26 ستمبر 2008 کو ایف اے این ایس (Foundation for Amity & National Solidarity) کے تحت، پارلیامینٹ ہاؤس انیکسی میں ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام مشہور جنرلسٹ خشونت کو نیشنل امٹی ایوارڈز دینے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز کے ساتھ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ٹیم نے اس پروگرام میں شرکت کی۔ اِس موقع پر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد موجود تھے۔ ٹیم کے لوگوں نے ان کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کیا۔ لوگوں نے اس کو بہت شوق سے لیا۔ جن لوگوں کو لٹریچر نہیں مل سکا تھا، انھوں نے پروگرام کے بعد ٹیم کے لوگوں سے اپنے شوق کا اظہار کیا اور اُن سے اسلامی لٹریچر حاصل کیا۔

6 - نئی دہلی کے سام ٹی وی(SAM TV) نے 27 ستمبر 2008 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع یہ تھا کہ آج کل بم دھماکے میں اعظم گڑھ (یوپی) کا نام کیوں آرہا ہے، جب کہ پہلے ایسا نہ تھا۔ جواب میں بتایاگیا کہ یہ اعظم گڑھ کی بات نہیں ہے، بلکہ میڈیا کی بات ہے۔ پہلے موجودہ میڈیا نہیں تھا۔ اُس وقت اعظم گڑھ جیسے علاقوں میں خبریں نہیں پہنچتی تھیں۔ اب ہر جگہ خبریں پہنچ رہی ہیں اور ہر جگہ ان کا چرچا ہوتا رہتا ہے۔ اِس بنا پر ایسے واقعات ہوتے ہیں۔

7 - نئی دہلی کے ٹونٹی فور ٹی وی (24 News) کی ٹیم نے 28 ستمبر2008 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع تھا— عید کی اہمیت کیا ہے۔ جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ عید کا مقصد خدا کی نعمتوں کو یاد کرنا اور انسانی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ انٹرویور کا نام مسٹر انکت گپتا تھا۔

8 - آل انڈیا ریڈیو (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں 29 ستمبر 2008 کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ریکارڈ کی گئی۔ اِس تقریر کا موضوع تھا— عید الفطر کا پیغام۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ عید میل ملاپ کا تیوہار ہے۔ اِس سے سماجی تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے اورانسانی اقدار کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے۔

9 - 2 اکتوبر 2008 عید الفطر (1429ہجری) کے موقع پر نماز ِ عیدکے بعد مختلف مساجد میں دعوتی لٹریچر تقسیم کیا گیا۔ یہ لٹریچر اردو اور انگریزی زبان میں تھا۔ لوگوں نے اِس کو نہایت شوق سے لیا۔ نماز کے بعد سی پی ایس کے ممبران کے سامنے صدر اسلامی مرکز نے ایک گھنٹے کا خطاب کیا ۔ یہ خطاب عید الفطر کی دعوتی اہمیت کے موضوع پر تھا۔ پروگرام کے خاتمے پر دعوہ ورک کو زیادہ منظم انداز میں انجام دینے کے لیے مشورہ کیا گیا۔ مشورہ کے بعد دعا پر مجلس ختم ہوئی۔

10 - سی پی ایس انٹرنیشنل اور آئی سی پی (نئی دہلی) کے تعاون سے ایک پروگرام ہوا۔ اِس کا عنوان یہ تھا

Perspectives on peacemaking:

A Muslim and A Christian in Dialogue

یہ پروگرام 4 اکتوبر 2008 کو وائی ایم سی اے (نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی) کے ہال میں ہوا۔ اس کے مہمانِ خصوصی ایک امریکن پروفیسر ڈاکٹر ڈیوڈ(Dr. David W. Shenk) تھے۔ اِس پروگرام کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اِس موقع پر وہاں سی پی ایس کی ٹیم کے افراد بھی موجود تھے۔ انھوںنے لوگوں سے انٹریکشن کیا اور ان کے درمیان بڑے پیمانے پر اردو اور انگریزی زبان میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچر تقسیم کیا۔

11 - فاؤنڈیشن فار یونی ورسل رسپانسبلٹی(Foundation for Universal Responsibility) کی طرف سے 11 اکتوبر 2008 کو انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (لودی روڈ، نئی دہلی) میں ایک سیمنار ہوا۔اِس کا عنوان یہ تھا

Seeking Meaning from Life in the Face of Death.

اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور قرآن وحدیث کی روشنی میںموضوع پر ایک تقریر کی۔ اِس موقع پر سی پی ایس کی ٹیم کے افراد بھی وہاں موجود تھے۔ انھوں نے لوگوں کے درمیان انگریزی میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچر تقسیم کیا۔ اسلام میں موت کا تصور (The Concept of Death in Islam) کے موضوع پر انگریزی زبان میں صدر اسلامی مرکز کا ایک لیکچر بھی ریکارڈ کرلیا گیا تھا۔ لٹریچر کے ساتھ اس کی کاپیاں بھی لوگوں کو دی گئیں۔

12 - اسپریچول میسج (The Spiritual Message) کی دعوت پر 13-14 اکتوبر 2008 کو صدراسلامی مرکز نے بمبئی کا سفر کیا۔ سی پی ایس کی ٹیم کے کچھ افراد بھی اِس سفر میںموجود تھے۔ انھوںنے بڑے پیمانے پر لوگوں سے انٹریکشن کیا اور ان کے درمیان دعوتی لٹریچر تقسیم کیا۔ اِس موقع پر بمبئی کے تقریباً ایک درجن سے زیادہ ٹی وی اوراخبار کے نمائندوں نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ گفتگو کا موضوع زیادہ تراسلام اور امن تھا۔ میڈیا کے چند نمائندہ حوالوں کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے—سہارا سمے، سی ٹی وی، آئی ٹی این نیوز، سامنا ٹی وی، 9 زی نیوز، وی ٹائمس، نو بھارت، لائیو انڈیا، آج شہر میں، وغیرہ۔

13 - اسلام اور دہشت گردی کے موضوع پر 14 اکتوبر 2008 کو شاہی جامع مسجد کامپلکس (دہلی) میںایک آل انڈیا کانفرنس ہوئی۔ اِس میں ہندستان کے مختلف مکاتبِ فکر کے علما اور دانش وروں نے شرکت کی۔ اِس موقع پر سی پی ایس انٹرنیشنل سے وابستہ بعض افراد نے مختلف دعوتی اور فکری موضوعات پر صدر اسلامی مرکز کے لٹریچر اور سی ڈیز بڑے پیمانے پر لوگوں کے درمیان تقسیم کیے۔ پہلی بار سارا لٹریچر فوراً ختم ہوگیا۔ پھر دوبارہ بڑی تعداد میںوہاں لٹریچر پہنچایا گیا۔ الرسالہ مشن کے ساتھیوں نے بتایا کہ لوگوں نے اس کو بہت شوق سے لیا۔ جب دوبارہ لٹریچر وہاں پہنچا تو پیکٹ کھولتے ہی لوگ اُس پر ٹوٹ پڑے ۔ وہاں گویاوہی منظر پیش آیا جس کو عام زبان میں لوٹ لینا کہا جاتا ہے۔ لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ دعوتی لٹریچر کو لیا۔ ہمارے ساتھیوں کو اسے تقسیم کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ خود مقررین حضرات نے سی ڈیز اور پمفلٹس کی کئی کئی کاپیاں حاصل کیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automatically