Maulana Wahiduddin Khan
17 min left
0:00

← Al-Risala January 2007
Al-Risala January 2007

مراسلت نمبر— ۱۲

Urdu · 17 min read

مولانا علی میاں کے خطوط کا ایک مجموعہ معروف عالمِ دین اور مفسّر قرآن مولانا عبد الکریم پاریکھ (ناگ پور) نے شائع کیا۔ اِس مجموعے میںایک خط مجھ سے متعلق تھا۔ اِس خط کو پڑھ کر میںنے مولانا موصوف کی خدمت میں ایک خط روانہ کیا۔ اس سلسلے کی مراسلت یہاں درج کی جاتی ہے:

مکرمی ومحترمی مولانا عبد الکریم پاریکھ صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کی صحت اور عافیت کے لیے دعا گو ہوں۔عرض یہ کہ آپ کی شائع کردہ کتاب نظر سے گذری جس کا پورا نام یہ ہے— ’’مرشد روحانی، مصلح امت حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی صاحب عُرف علی میاں صاحب کے خطوط، حضرت مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب کے نام‘‘۔

آپ کی اِس کتاب کا مکتوب نمبر ۱۱۳ میرے لیے ناقابلِ فہم ہے۔ چوں کہ کاتبِ محترم کی وفات ہوچکی ہے، اس لیے اس کی وضاحت کے لیے آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔ آپ کے نام حضرت مولانا کے مذکورہ مکتوب کے الفاظ یہ ہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

’’اپنی خیرت کی اطلاع کے علاوہ میں یہ خط اِس ضرورت سے بھی لکھ رہاہوں کہ میرے پاس حیدر آباد سے ایک فہیم وسنجیدہ دوست کا خط آیا ہے کہ ’ندوہ ایجنسی‘ کے نام سے، سید جمیل الدین صاحب کی طرف سے جو اشتہار شائع ہوا ہے اس کا تعارف کرایا گیا ہے۔ اس میں میری کتابوں کے علاوہ جہاں بعض اور دوسرے حضرات کی تصنیفات کا تذکرہ ہے، اُن میں مولوی وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں کے دستیاب ہونے کا بھی اعلان ہے۔ مَیں سید جمیل الدین صاحب کو براہِ راست نہیں لکھنا چاہتا۔آپ اشارہ کردیں کہ اُن کے بہت سے خیالات سے اتفاق نہیں۔ اور ہماری اور اُن کی کتابوں کا جوڑ نہیں۔ اِس لیے آئندہ وہ اِس کا لحاظ رکھیں۔ آپ اپنے انداز میں مناسب طریقے سے لکھ دیجئے گا۔ مجھے مولوی وحید الدین خاں صاحب سے کوئی ذاتی خصومت نہیں۔ لیکن اُن کے خیالات میں سخت ناہمواری اور بے اعتدالی ہے، اور سَلف ومجاہدین اور شہدائے اسلام سے بدعقیدگی پیدا ہوتی ہے‘‘۔ (صفحہ ۲۰۳)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

حضرت مولانا علی میاں کے اِس مکتوب کے بارے میں آپ سے دو باتیں قابلِ دریافت ہیں۔ ایک یہ کہ مکتوب کے مطابق، میرے خیالات میں سخت ناہمواری اور بے اعتدالی ہے، مگر اِس مکتوب میں، اور نہ اِس مجموعۂ خطوط میں اور نہ صاحبِ مکتوب کی دوسری کسی تحریر میں ایسی کوئی وضاحت یا حوالہ موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہو کہ وہ کیا چیز ہے جس کو اس مکتوب میں ’’سخت ناہمواری اور بے اعتدالی‘‘ قرار دیاگیا ہے۔ اپنی کتاب میں اِس مکتوب کی اشاعت اور حضرت مولانا سے خصوصی قربت کی بنا پر آپ ضرور اس بات سے واقف ہوں گے۔ براہِ کرم مطلع فرمائیں کہ وہ کیا چیز ہے جس کو اِس مکتوب میں سخت ناہمواری اور بے اعتدالی قرار دیاگیا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اِس مطبوعہ مکتوب میںدوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ راقم الحروف کی کتابوں سے اَسلاف کے بارے میں بد عقیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اِس کے بارے میںبھی اِس مکتوب میں کوئی وضاحت یا حوالہ موجود نہیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ میری کتابوں میں وہ کون سی بات ہے جو اسلاف کے بارے میں بدعقیدگی پیدا کرتی ہے۔

حضرت مولاناعلی میاں کا یہ بیان بلاشبہہ ایک بے دلیل بیان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ۱۹۵۹ء میں حضرت مولانا علی میاں کی ایک عربی کتاب چھپی۔ اس کا نام یہ تھا: ردّۃ ولا أبا بکر لہا۔ اِس کتاب میں امت کے اندر ایک خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ امت کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ ذہنی ارتداد کا شکار ہوگیاہے۔ میں نے اِس مسئلے کی تحقیق کی تو میں اِس نتیجے پر پہنچا کہ جدید تعلیم یافتہ طبقے کا کیس، ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) کا کیس نہیں ہے۔ یہ لوگ ذہنی عدم اطمینان (intellectual discontent) کا شکار ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا وہ ان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتا۔ اِس بنا پر وہ اسلام کی صداقت کے بارے میں ذہنی بے اطمینانی میں مبتلا ہوگیے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس دریافت کے بعد میں نے اِس مسئلے کو اپنا موضوع بنالیا۔ میں نے قدیم اور جدید دونوں علوم کا گہرا مطالعہ کرکے عصری اسلوب میں بہت سی اسلامی کتابیں لکھیں، اور ان کو مختلف زبانوں میںشائع کیا۔ یہ خدا کا فضل ہے کہ یہ کتابیں نہایت مفید ثابت ہوئیں۔ اور مختلف ملکوں میں لاکھوں لوگوں کو اس سے ایمان اور یقین کا سرمایہ ملا۔ اِسی بنا پر ایک عرب شیخ نے میری کتاب الاسلام یتحدّی کا سکنڈٹائٹل یہ تجویز کیا تھا— مدخل علمی إلی الإیمان۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت مولانا علی میاں کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ انھوں نے جس خطرے کی نشاندہی کی تھی، میں نے اس کو گہرائی کے ساتھ سمجھا، اور وقت کے فکری مُستوی کے مطابق، طاقت ور علمی انداز میں اس کا سدّ باب کیا۔ ایسی حالت میں میری کتابوں کے متعلق، حضرت مولانا کا مذکورہ بیان میرے لیے سخت ناقابلِ فہم ہے۔

چوں کہ آپ نے حضرت مولانا کے اِس خط کو اپنی کتاب میں شائع فرمایا ہے۔ اس لیے یقینا آپ اِس کی نوعیت کو پوری طرح سمجھتے ہوں گے۔ میری گذارش ہے کہ آپ اپنے علم کے مطابق، متعین صورت میں مذکورہ دونوں باتوں کی وضاحت فرمائیں۔

نئی دہلی، ۲۵ ؍اگست۲۰۰۶ دعاگو وحیدالدین

میرے اس خط کے بعد مولانا موصوف کا درج ذیل خط مجھے ملا:

محترم المقام، عالم ربّانی حقانی، صاحب ِ قلم، مشہور شخصیت ،حضرت مولانا وحید الدین خاںصاحب مد ظلہ العالی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

۲۵؍ اگست ۲۰۰۶ کا عنایت نامہ موصول ہوا، جزاک اللہ۔ میں پچھلے تین سالوں سے گلوکوما آپریشن ناکام ہونے کے سبب دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوں۔ صاحب فراش بھی ہوں۔ سارے کام کاج بند ہیں۔ لیکن خطوط بڑی تعداد میں آتے رہتے ہیں۔ جواب دینا مشکل پڑتا ہے۔ آپ کا خط اہم تھا، آپ کو دکھ پہنچا، اس لیے جواب کے لیے حاضر خدمت ہوں۔

میرے بزرگ، آپ نے جس خط کاحوالہ دیا ہے، وہ ۲؍ اگست ۱۹۸۷ کا ہے۔ اور حضرت مولاناسید ابوالحسن علی ندویؒ کوانتقال فرمائے ۷،۸ برس ہوگیے ہیں۔ اور اس مذکورہ خط کو ۲۰ سال کا عرصہ ہوگیا ہے۔ اس خط کے شائع ہونے کا مجھے افسوس ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو دکھ پہنچا۔ اللہ مجھے معاف فرمائے۔

میرے بزرگ، مجھ سے زیادہ دین کا فہم، علم اور گہرائی اللہ نے آپ کو دی ہے۔ یہ ۲۰ سال پہلے کی بات ہے۔ جمیل الدین صاحب سے میری ملاقات ہوئے ۱۰، ۱۵ سال ہوگئے۔ ندوہ ایجنسی ہے بھی یا نہیں، مجھے لگتا ہے شاید ختم ہو گئی ہو۔ در اصل ندوہ ایجنسی مولانا ؒ کا خود کا ادارہ تھا اور ساتھ ہی جمیل الدین صاحب کے گھر پر ہی ادارہ میںایک مدرسہ بھی چلتا تھا۔ مولاناؒ اپنی کتابیں اس میں رکھتے تھے۔

آپ کا خط سننے کے بعد تقریباً ۲۵ نسخے مجموعۂ خطوط کے میرے پاس تھے۔ اُن تمام نسخوں سے خط نمبر ۱۱۳ پھاڑ کر نکلوا دیا ہے۔ آئندہ ایڈیشن جب چھپے گا، جس کی امید تو کم ہے، کیوں کہ میں اب اس حال میںنہیںہوں، لیکن اگر چھپنے کی نوبت آئی اوراحباب کا تقاضا رہا تو اس خط کو دوبارہ شائع نہیں کیا جائے گا۔

مجھے امید ہے کہ میرے اس سہو کو میرے تعلق سے معاف فرمائیں گے۔ اب رہا مولانا ؒ کے تعلق سے، تو دیر یا سویر ہم کو بھی اللہ کے دربار میں پہنچنا ہے۔ وانما توفون اُجورکم یوم القیامۃ (آخرت میںتمہارے ’’اجور‘‘ پورے پورے دیے جائیں گے) آپ کو بھی آپ کے کاموں کا اجر اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ دے گا۔ آپ کے سامنے میری کیا ہستی ہے۔ لیکن آپ کو تکلیف پہنچی اس کے لیے معافی چاہتا ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مجھے امید ہے کہ آپ حسن ظن سے کام لیں گے۔ میری دھندلی یادداشت میںآپ کی اور حضرت مولانا ؒ کی برسہا برس پہلے مجھ سے کہیں زیادہ وابستگی رہی ہے، ایسا سنا ہے۔ واللہ اعلم۔ ہاں جو جملے مولانا نے ہم آہنگی نہ ہونے کے استعمال کیے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں نے اس خط سے متعلق جمیل الدین صاحب کو کچھ بھی ہدایت نہیں دی تھی۔ میرا یہ مزاج بھی نہیں ہے۔

ایک بات کی طرف آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جن جملوں سے آپ کو تکلیف پہنچی وہ صفحہ ۲۰۳ کے دوسری جانب صفحہ ۲۰۴ میں ہے۔ میری نظر سے نہ گذرا ہو ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ بہر حال بندہ بشر ہے۔ حضرت مولاناؒ ہوں یا میں ہوں یا کوئی اور ہو، غلطی کا امکان ہے۔

آپ کے خط سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تعلیم یافتہ طبقہ کی ذہنی بے اطمینانی پر ان کی اصلاح کو آپ نے اپنا موضوع بنا کر محنت کی اور الحمد للہ اس کا نتیجہ، بقول آپ کے ’’اس سے لاکھوں لوگوںکو ایمان اور یقین کا سرمایہ ملا‘‘۔ اسی بنا پر آپ کی تحریریں عرب دنیا میں الحمد للہ مقبول عام و خاص ہوئیں، اس پر مجھے بڑی مسرت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس محنت کو قبول فرمایا۔

آپ کے یہ جملے ’’مگر اس مکتوب میںایسی کوئی وضاحت یا حوالہ موجود نہیں ہے جس سے معلوم ہوتاہو کہ وہ کیا چیز ہے جس کو اس مکتوب میں ’’سخت ناہمواری اور بے اعتدالی‘‘ قرار دیاگیا ہے‘‘۔ صاحب مکتوب (حضرت مولانا علی میاں) کو اس کا حوالہ دینا ضروری تھا۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

ایک عرصہ پہلے میں نے الحمد للہ آپ کی کتابیں پڑھی ہیں اور خود اس ملک میں اور ملک کے باہر آپ کے قلم سے بے شمار لوگوں کو دینِ حق کی واقفیت ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں مزید اضافہ فرمائے۔ آپ کی تشریف آوری ناگپور کبھی کبھار ہوتی رہتی ہے۔ بھائی عبد السلام اکبانی جو میرے بھانجے ہیں، آپ کے بہت مدّاح ہیں، کبھی آنا ہوا تو اس نابینا کو ملاقات کا شرف عنایت فر مائیں۔ جزاک اللہ۔

آپ کے ترجمہ و تشریح قرآن (تذکیر القرآن) کا ایک نسخہ وی پی کے ذریعہ ارسال فرمائیں، عنایت ہوگی۔ مجھے امید ہے کہ اس خط کا آپ اچھا اثر لیں گے اور میرے لئے دعا کریں گے۔ ہم سب اللہ کی رضا کے لیے کام کرتے ہیں اس میںاجر کا زیادہ حصہ آپ ہی کا ہے۔ آپ کے لیے دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کی محنت کو شرف قبولیت بخشے۔ آمین۔ والسلام

۱۸؍ ستمبر ۲۰۰۶ء طالب دعا عبد الکریم پاریکھ

مولانا موصوف کے خط کو پڑھ کر میں نے ان کی خدمت میںاپنا درج ذیل خط روانہ کیا:

محترمی و مکرمی مولانا عبد الکریم پاریکھ صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آپ کا عنایت نامہ مؤرخہ ۱۸ ستمبر ۲۰۰۶ ملا۔ حالات معلوم ہوئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر طرح صحت اور عافیت میں رکھے۔ اور آپ کو شفا عطا فرمائے۔ آپ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے دین کا بہت کام لیا ہے۔ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ آئندہ بھی وہ آپ کی دینی خدمات کو جاری رکھے گا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کا یہ مکتوب بھی آپ کے مراتبِ عالیہ میں اضافے کا ذریعہ ہوگا۔ آپ نے جس طرح کھُلے دل کے ساتھ معاملے کی وضاحت فرمائی ہے، وہ آپ کی ایمانی عظمت اور اخلاقی جرأت کا ایک مزید ثبوت ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار آدمی کے پاس عیادت کے لیے گیے۔ وہ تکلیف کی حالت میں تھا۔ اس کو دیکھ کر آپ نے فرمایا: لابأس طہورإن شاء اللہ۔ اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحت جس طرح ایک نعمت ہے اسی طرح بیماری بھی ایک نعمت ہے۔ مومن جب صحت مند ہو تو صحت کی حالت اس کے لیے شکر کے جذبات پیدا کرنے میں معاون بنتی ہے، اور مومن کو جب بیماری کا تجربہ ہوتا ہے تو بیماری اس کے عجز کے جذبات میں اضافے کا سبب بن جاتی ہے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، عجز اللہ سے قربت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: أنا عند المنکسرۃ قلوبہم۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر قسم کی رحمت اور نصرت اور عافیت عطا فرمائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نئی دہلی، ۲۵ستمبر ۲۰۰۶ دعا گو وحیدالدین

میرے اِس خط کے بعد مولانا موصوف کا ایک اورخط مجھے ملا، جو یہاں نقل کیا جاتا ہے:

محترم المقام، صاحب قلم، عالمِ ربّانی، حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب مدظلہ العالی!

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کے خط کے جواب میں میرا عریضہ الحمد للہ آپ کو مل گیا۔ آپ نے اس کے جواب میں جو تحریر فرمایا اس سے مجھے بڑی تسکین، خوشی، اور راحت محسوس ہوئی۔ الحمد للہ دل پوری طرح مطمئن ہوا۔اس عاجز کے خط کا آپ نے مؤمنانہ اثر لیا۔ آپ مطمئن ہوئے۔ اس پر آپ کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اور اپنے حق میں بھی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہم کو راہِ ہدایت پر قائم رکھے۔ اور ہم سبھوں کو ایک دوسرے کا معاون بنائے۔

آپ نے جن احادیثِ مبارکہ کا تذکرہ فرمایا اسے پڑھوا کر سنا، بڑی تسلی ہوئی۔ بعض احادیث کا استحضار بھی ہوا۔ آپ کے یہ جملے— ’’مومن جب صحت مند ہو تو صحت کی حالت اس کے لیے شکر کے جذبات پیدا کرنے میں معاون بنتی ہے، اور جب مومن کو بیماری کا تجربہ ہوتا ہے تو بیماری اس کے لیے عجز کے جذبات میںاضافے کا سبب بن جاتی ہے‘‘۔الحمد للہ ان جملوں سے مزید تقویت پہنچی۔ آپ کا یہ تحریرفرمانا کہ — ’’مجھے یقین ہے کہ آپ کا یہ مکتوب بھی آپ کے مراتب عالیہ میں اضافے کا ذریعہ ہوگا۔ آپ نے جس طرح کھلے دل کے ساتھ معاملے کی وضاحت فرمائی، وہ آپ کی ایمانی عظمت کا ایک مزید ثبوت ہے‘‘۔یہ جملے آپ نے میرے لیے استعمال کئے، اس کا مستحق تو نہیں ہوں لیکن اس پر الحمدللہ آمین آمین کہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے میرے تعلق سے آپ کا ذہن حسن ظن کی طرف ڈالا۔ میںاللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس کا مستحق بنادے۔ آپ کے جملے سن کر میرا دل بھر آیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر کثیر عطا فرمائے۔جو دعائیں آپ نے میرے حق میں فرمائی ہیں، میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہی دعائیں لاکھوں گنا آپ کے حق میں بھی قبول فرمائے۔ آمین۔

آں جناب کی گراں قدر تفسیر ’’تذکیر القرآن‘‘ الحمد للہ موصول ہوئی۔ تھوڑا تھوڑا پڑھوا کر روزانہ اس کو سنتا ہوں۔ اللہ آپ کے درجات بلند فرمائے۔ اور آپ کی محنتوں کو قبول فرمائے۔ والسلام

۱۰؍ اکتوبر ۲۰۰۶ طالب دعا عبد الکریم پاریکھ،ناگ پور

خاتمۂ کلام

اِس قسم کا تجربہ مجھے بار بار ہوا ہے۔ بار بار ایسا ہوا ہے کہ ایک شخص اپنی تقریر یا تحریر میں ایک بہت بڑی بات بظاہر پورے یقین کے ساتھ کہتا ہے، لیکن جب اُس سے اس کا حوالہ دریافت کیا جائے تو وہ اس کا کوئی حوالہ نہیں دے پاتا، اور نہ وہ اس کا کھلا اعتراف کرتا ہے۔ اِس قسم کے بیانات نہایت غیر علمی ہیں۔ علمی اعتبار سے ان کا کوئی وزن نہیں۔

مگر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں۔ اس قسم کا مزاج بتاتا ہے کہ آدمی اپنے حق میں ایک بہت بڑے نقصان کو برداشت کررہا ہے۔ اس قسم کا مزاج ذہنی ترقی کے راستے میں مستقل رکاوٹ ہے۔ جو آدمی ذہنی ترقی کا حریص ہو، اس کو چاہیے کہ وہ کبھی بھی ایسی کوئی بات نہ کہے جس کے حق میں اس کے پاس ضروری دلیل موجود نہ ہو۔ اگر وہ کبھی بھول کر کوئی بے بنیاد بات کہہ دے تو وضاحت کے بعد اس کو چاہیے کہ وہ فوراً ہی اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرے۔ ان دو کے سوا کوئی تیسرا طریقہ انسان کے لیے درست نہیں۔ تیسرا طریقہ ہلاکت کا طریقہ ہے نہ کہ زندگی کا طریقہ۔

اہلِ علم کا طبقہ ذہن سازطبقہ(opinion-maker class) ہوتا ہے۔ اہلِ علم کی تقریروں اور تحریروں سے لوگ اپنا ذہن بناتے ہیں۔ یہ پہلو مزید تقاضا کرتا ہے کہ اہلِ علم مذکورہ معاملے میں بہت زیادہ محتاط ہوں۔ کیوں کہ اِس پہلو سے ان کی پکڑ دُگنا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے ساتھ عوام کی بے راہ روی کے بھی ذمے دار قرار پاتے ہیں۔ کتنازیادہ سنگین ہے یہ معاملہ۔ حقیقت یہ ہے کہ غلطی کا اعتراف ایسے لوگوں کے لیے اَہون البلیّتین (lesser evil) کی حیثیت رکھتا ہے۔

غلطی کا اعتراف سادہ معنوں میں صرف غلطی کا اعتراف نہیں ہے، وہ اس سے زیادہ ہے۔ غلطی کے اعتراف کا معاملہ آدمی کی خود اپنی علمی اور دینی شخصیت کی تعمیر سے جُڑا ہوا ہے۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنا آدمی کے اندر روحانی اور ذہنی ارتقاء کو روک دیتا ہے۔ اِس کے برعکس، غلطی کا اعتراف آدمی کے اندر روحانی اور ذہنی ارتقاء کے عمل کو بڑھاتا ہے۔غلطی کا اعتراف نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے ذہن میں صحیح اور غلط دونوں ملی جُلی حالت میں پڑے رہیں۔ اِسی کا نام کنفیوژن ہے۔ لیکن جب آدمی اپنی غلطی کو کھلے طورپرمان لے تو اس کے ذہن میں صحیح اور غلط دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں۔ اب آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ صحیح کو صحیح سمجھے، اور جو غلط ہے وہ اس کو غلط نظر آئے۔ یہ عمل آدمی کو کنفیوژن سے نکال کر فکرِ صحیح کے درجے میں پہنچا دیتا ہے۔

غلطی کا اعتراف در اصل فکری تطہیر کا عمل ہے۔ جس آدمی کے ذہن میں فکری تطہیر کا یہ عمل جاری نہ ہو وہ گویا ایک بہت بڑا خطرہ مول رہا ہے۔ یہ خطرہ کہ وہ فکری آلودگی کا شکار ہو کر رہ جائے، اس کو کبھی معرفت کا اعلیٰ درجہ حاصل نہ ہوسکے۔

مذکورہ خط و کتابت سے واضح ہوتا ہے کہ میرے حالیہ تجربے کے مطابق، اِس معاملے میں صرف دو حضرات کا استثنا ہے۔ ایک، مولانا عبد الکریم پاریکھ صاحب کا، اور دوسرے، مولانا غطریف شہباز ندوی کا۔ مولانا غطریف شہباز ندوی نے اِس معاملے میں صحیح اسلامی اسپرٹ کا ثبوت دیا ہے۔ اور مولانا عبد الکریم پاریکھ صاحب نے جس طرح کھلے دل کے ساتھ معاملے کی وضاحت فرمائی ہے، وہ بلا شبہہ ان کی ایمانی عظمت کا ثبوت ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان حضرات کی ہر طرح مدد فرمائے اور ان کو دنیا اور آخرت کی ابدی سعادتوں سے نوازے۔

اس خط و کتابت کے دَوران ایک اور نہایت اہم حقیقت واضح ہوئی۔ وہ یہ کہ ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ تقریباً بلا استثنا، شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک بہت بڑی کمزوری میں مبتلا ہے، اور وہ ہے قصیدے کی زبان میں کلام کرنا۔ قدیم زمانے میں بادشاہوں کے لیے مدحیّہ قصیدے لکھے جاتے تھے۔ ان قصیدوں میں محض خیالی اور فرضی طورپر بہت بڑی بڑی باتیں اپنے ممدوح کے ساتھ منسوب کردی جاتی تھیں۔ یہ شعراء کبھی یہ نہیں سوچتے تھے کہ اُن کی باتیں حقائق سے تعلق رکھتی ہیں یا نہیں۔ یہی اندازِ کلام بعد کو ہمارے یہاں نثر میں بھی رائج ہوگیا۔ اور عربی اور فارسی تینوں زبانوں میں قصیدے کی زبان میں مدحیہ نثر لکھی جانے لگی۔ اپنی پسندیدہ شخصیتوں کے لیے لوگ ایسے الفاظ لکھنے اور بولنے لگے جن کا حقیقتِ واقعہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔

زیر نظر خط وکتابت ایک چشم کُشا خط وکتابت ہے۔ یہ خط و کتابت لوگوں کو بتا رہی ہے کہ وہ کس طرح نثر میں مدحیہ قصائد لکھنے میں مشغول ہیں۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اسلوب پر نظر ثانی کریں، اور مدح نگاری کے بجائے حقیقت نگاری کو اپنا اسلوب بنائیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content