Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala February 2021
Al-Risala February 2021

ایک خط

Urdu · 4 min read

کل (16ستمبر 2020) کو ایک سلفی ساتھی سے فون پر گفتگو ہوئی۔ انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مولانا وحیدالدین خان صاحب سے جڑنے کے بعد آپ ایک بڑے حلقے سے کٹ گئے۔ پہلے آپ عبودیت کے داعی تھے، ایک مسلم تنظیم کا آپ کو سپورٹ حاصل تھا، آپ لوگوں کا ہر جگہ آناجانا تھا، جس سےلوگوں میں دعوتی بیداری پیدا ہوتی تھی، وغیرہ وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ بات افسوس کرنے کی یا کسی حلقے سے کٹنے کی نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ اپنی کمی کی اصلاح ہے، اور اتباعِ سُبُل کے بجائے صراطِ مستقیم (الانعام، 6:153)پر قائم رہنا ہے۔ رہا ہمارا دائرہ کار،تو وہ اپنےحقیقی مطلوب کے اعتبار سے بہت وسیع ہوگیا ہے۔ یعنی معرفت کے اعتبار سے ہمارا دائرہ کائناتی ہوگیا ہے، اور دعوت کے اعتبار سے اب وہ عالمی بن گیا ہے۔ اس حقیقت کو جدید دور کی نسبت سے مولانا نے واضح کیا ہے۔اس بات کو جاننے کے بعد ہر اعتبار سے ہمارا تعلق وسیع ہوگیا ہے۔ گویا اس وقت ہم کو مواقع کی لامحدود دنیا میسر ہے۔ یہ اللہ تعالی کا شکر ہے۔ جب کہ آپ جس حلقے کی بات کر رہے ہیں، اس میں معرفت کا عظیم تصور نہیں ہے، اور نہ ہی دعوت کی ذمےداری کا حقیقی منصوبہ ہے۔ یہی وہ کمی تھی ، جس کا ازالہ مطلوب تھا،اور یہ مطلوب ہمیں الرسالہ مشن کی شکل میں ملا ہے۔ لہٰذا ہمارا فیصلہ ہمارے ذاتی تلاش کی نسبت سے تھا، نہ کہ کسی جماعت کی نسبت سے ۔اب جس کے پاس اس بات کی اہمیت نہیں، ان کے ساتھ جڑنا گویا کائناتی معرفت اور عالمی دعوت سے کٹ جانا ہے، اورہم اس کا تحمل نہیں کرسکتے ہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انہوں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ مولانا اخوانی اور انقلابی ذہن کے نہیں ہیں ،امن کی بات کرتے ہیں۔ ہندوستان کے پس منظر کے اعتبار سے یہ بات ٹھیک ہے۔ میں نے اس بات پر کہا کہ مولانا کا ایک اور حقیقی پہلو ہے، جس کے بارےمیں آپ نہیں جانتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ سلفی حضرات خصوصی طور پر توحید کی بات کرتے ہیں، مگر ہم عرصے سے یہ جانتے ہیں کہ ان کے یہاں توحید کے نام پر صرف فنی بحثیں ہوتی ہیں۔مگر خدا کی عظمت اور اس کی ربوبیت کا اظہار ، جو اِس دور میں بڑے پیمانے پر ہوا ہے، اس کا احساس کسی سلفی کونہیں ہے ۔وہ قدیم بحثوں میں ہی مصروف ہیں، اور ان جدید استدلال اورسائنسی حقائق سے بے خبر ہیں، جن کا تعلق ازدیاد ایمان اور اثبات توحید سے ہے۔ دور جدید میں مولانا نے اللہ تعالی کی عظمت و معرفت کو بطور خاص اپنے مطالعے کا موضوع بنایا ہے،اوراپنی کتابوں اور خطابات میں اس کو واضح کیا ہے۔ مگر آپ حضرات اس بات سے بے خبر ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ایک مرتبہ ایک بڑےسلفی عالم دین نے مولانا سے اختلاف کا سبب بتاتے ہوئے کہا تھا کہ جس شخص نے مسلمانوں کو خذلان (abandoned)میں مبتلا کیا، ہم اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ مگر انھوں نے یہ نہیں جانا کہ ہم کو اس شخص کا ساتھ دینا چاہیے، جس نے دور جدید میں خدا کی عظمت کا اظہار کیا ہے ،اور اس کے اثبات کے لیے مذہب اور جدید چیلنج اور اس جیسی بہت سی تحریریں لکھی ہے، اسی طرح سیاسی منہج کی جگہ تعبدی منہج کو واضح کیا ہے،اور اس تعلق سے تعبیر کی غلطی جیسی کتاب لکھی۔انہوں نے ایسا کیوں نہیں کہا۔ کیونکہ ان کے پاس حقیقی مسئلہ عبودیت نہیں ہے، بلکہ قومیت حقیقی مسئلہ ہے۔ اصل مسئلہ عظمتِ رب کا نہیں ہے،بلکہ عظمت قوم کا ہے ۔باقی باتیں جن کے بارے میں سلفی حضرات کو اعتراض ہوسکتا ہے،وہ ذیلی باتیں ہیں، حقیقی نہیں۔اس کے بعد بات ختم ہوگئی۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس گفتگو سے میرا احساس یہ ہے کہ لوگ مولانا کے بارے میں ادھر ادھر کی بات کرتے ہیں مگر معرفت اور دعوت کو لیکر بات نہیں کرتے۔ صرف اپنے قومی مسائل کو لیکر رائے قائم کرتے ہیں۔ یہ،میرے خیال میں، پچھلی قوموں کی اتباع ہے۔ جب بھی کوئی مصلح حقیقی دین کی طرف بلاتا ہے تو لوگ اپنے قومی مفادات کی نسبت سے اس کا تجزیہ کرتے ہیں، جب قوم کی پالیسیوں پر تنقید ہوتی ہے تو لوگ اس کو قوم کی بے عزتی سمجھتے ہیں، اور اس طریقے سے توحید اور دعوت کے بجائے قوم ان کا موضوع بن جاتا ہے۔(حافظ سید اقبال احمد عمری عمرآباد، تامل ناڈو)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس مکتوب سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ الرسالہ اپنے قاری کے اندر کس قسم کا ذہن بنا تا ہے۔ قرآن میں آیا ہے :کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِی شَأْنٍ (55:29) ۔ یعنی ہر دن وہ ایک شان میں ہے ۔ اس آیت کا تقاضا ہے کہ ہر دن مومن کے لیے خدا کی عظمت کا ایک نیاپہلو دریافت ہو۔ اس وقت مومن یہ کہہ پڑے کہ یا للعجب! خدا کی عظمت کا ایک نیاپہلو جو اب تک میرے لیے نہیں کھلا تھا، آج وہ کھلا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content