Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala February 2019
Al-Risala February 2019

حق کی مخالفت

Urdu · 3 min

حق کی مخالفت اصلاً صرف ایک سبب سے ہوتی ہے، اور وہ ہے ماحول کی کنڈیشننگ۔ ہر انسان ایک ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ آدمی اپنے قریبی ماحول سے اثر قبول کرتا ہے۔ اس تاثر پذیری کو جدید نفسیاتی اصطلاح میںکنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔اسی معاملے کو حدیث میں ماں باپ کی طرف منسوب کیا گیا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر1385)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ کنڈیشننگ اگرچہ گہری ہوتی ہے، لیکن وہ انسان کی فطرت کو نہیں بدلتی۔ انسان کا حقیقی مزاج بدستور انسان کی فطرت میں موجود رہتا ہے۔ انسان کے لیے ہمیشہ یہ ممکن رہتاہے کہ وہ اپنی ضمیر کی آواز کو سنے، اور اپنی کنڈیشننگ کو ڈی کنڈیشنڈ کرسکے۔ البتہ یہ فرق ہے کہ ابتدائی فطرت میں کنڈیشننگ کا معاملہ ماحول سے اثر پذیری کی بنا پر ہوتا ہے، لیکن بعد کو اس کی ڈی کنڈیشننگ آدمی خود اپنے ارادے سے کرتا ہے۔ ہر انسان جو سچائی کا طالب ہو، اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ گہرائی کے ساتھ اپنا محاسبہ (introspection) کرے، وہ اپنے آپ کو دریافت کرے، اور پھر اپنے آپ کو دوبارہ اصل فطرت پر قائم کرے۔ یہ کام ہر آدمی کو لازماً کرنا ہے۔ اس ڈی کنڈیشننگ کے بغیر کوئی شخص دوبارہ اپنی اوریجنل فطرت پر قائم نہیں ہوسکتا۔

اس معاملے کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ ہر آدمی کو اپنا مصلح آپ بننا ہے۔ ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ بے لاگ طور پر اپنا جائزہ لے۔ وہ عذر(excuse)کو قبول نہ کرے، وہ اپنا نگراں آپ بنے۔ اس طرح وہ آسانی کے ساتھ اپنی شخصیت کی تعمیرِ نو کرسکتا ہے۔ یہاں آدمی کے لیےاس کا ضمیر (conscience) اس کا معاون ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ انسان کا ضمیر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ انسان کا ضمیر کبھی بدلتا نہیں ۔ اس لیے ہر انسان کے لیے ہمیشہ یہ موقع باقی رہتا ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کرکے خود کو دریافت کرے، اور اپنے آپ کو اصلاح یا فتہ انسان بنائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content