Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala February 2019
Al-Risala February 2019

روحِ دین

Urdu · 3 min

ایک سفر کے دوران مجھے ایک ایسے ملک میں جانا پڑا جہاں پہلے بادشاہی نظام تھا۔ اب بادشاہ کا خاتمہ ہوگیا۔ اب وہاں صدر راج قائم ہے۔ قدیم شاہی محل کی تمام شان وشوکت باقی ہے۔ البتہ اب \اس کو شاہی محل کے بجائے صدارتی محل کہاجاتاہے۔

میںاور کانفرنس کےدوسرےشرکاء صدرِ مملکت سے ملاقات کے لیے صدارتی محل میں لے جائے گئے۔ ہم لوگ جب اس پُر ہیبت عمارت میںداخل ہوئے تو میں نے دیکھا کہ ہر آدمی کا انداز اچانک بدل گیا ہے۔ لوگوں پر خاموشی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ ان کی رفتار سست پڑ گئی۔ چہرے پر سنجیدگی کے آثار ظاہر ہوگئے۔ محل کی ہر چیز کو وہ پُر رعب نظروں سے دیکھنے لگے۔

اس منظر کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہ دنیا جس میں ہم رہتـے ہیں، وہ بھی خدا کا ایک عظیم محل ہے۔ اس میں ہر طرف خدا کی عظمت وقدرت کے جلوے نمایاں ہیں۔ اس خدائی محل کے اندر چلتے ہوئے مزید اضافہ کے ساتھ آدمی پر وہ کیفیت طاری ہونا چاہیے جو کسی شاہی محل کے اندر چلتے ہوئے اس کے اندر طاری ہوتی ہے۔

مگر جب میں دنیا کے راستوں میں لوگوں کو چلتے ہوئے دیکھتا ہوں تو یہ محسوس کرکے میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتےہیں کہ یہاں لوگ اس طرح چل رہے ہیں گویا کہ انھیں اس عظیم حقیقت کی کوئی خبر ہی نہیں۔ لوگوں کے چہروں پر خشوع جھلکتا ہوا نظر نہیں آتا جو از روئے واقعہ ان کے چہروں پر جھلکنا چاہیے۔لوگوں کے چہروں پر مجھے احتیاط کے بجائے غفلت نظر آتی ہے۔ ان کی چال تواضع کے بجائے سرکشی کی چال معلوم ہوتی ہے۔ ان کے انداز پر ذمہ داری کے بجائے بے حسی کا غلبہ دکھائی دیتا ہے۔ خدا کی دنیا میں چلتے ہوئے لوگ اتنا سنجیدہ بھی نظر نہیں آتے جتنا کہ کوئی شخص کسی ایوانِ صدارت یا کسی قصر شاہی میں چلتے ہوئے نظر آتا ہے۔

جن لوگوں کاحال یہ ہوکہ انسانی محل میں چلتےہوئے ان پر ہیبت طاری ہو مگر خدائی محل میں چلتےہوئے ان پر ہیبت طاری نہ ہو وہ خدا کی رحمت سے آج ہی دور ہوگئے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.