Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Al-Risala February 2019
Al-Risala February 2019

ایک عام غلطی

Urdu · 7 min

مصر کی الاخوان المسلمون کے لیڈر ڈاکٹر محمد مرسی مصر کے پانچویں منتخب صدر تھے۔ وہ یکم جولائی2012 کو مصر کے صدر منتخب ہوئے، تاہم ایک سال مکمل ہونے سے پہلے ہی پورے ملک میں ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، جس کے بعد جولائی 2013 میں مصری افواج نے انہیں اقتدار سے بے دخل کر دیا ۔ بوقتِ تحریر (10 جولائی 2018)و ہ مصر کی جیل میں ہیں۔ بحیثیتِ صدر انھوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا: أصبت أحیانا وأخطأت أحیانا أخرى (Sky News Arabia, published on June 26, 2013) ۔یعنی میں نے کبھی درست کام کیا، اور کبھی میں نے غلطی کی۔یہ تقریر ابھی بھی یو ٹیوب پر موجود ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ غلطی کیا تھی، جو ان کے زوال کا سبب بنی ۔ یہ در اصل کچھ ایسے اقدامات تھے، جو مصری فوج کے مفاد (interest) کے خلاف تھے۔ مثلاً سوئز کنال کی توسیع کے بارے میں فوجی حکومت کے دور میں کچھ کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے تھے۔ ان ٹھیکوں کو ڈاکٹر مرسی نے قابلِ اعتراض سمجھا۔ چنانچہ انھوں نے ٹھیکوں کی منسوخی کا اعلان کردیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر مرسی اور فوجیوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا۔ جس ;کا نتیجہ یہ ہوا کہ فوج نے قبل از وقت ان کی صدارت کا خاتمہ کردیا۔

یہ غلطی کی وہ قسم ہے، جو اکثر اربابِ اقتدار کرتے ہیں۔ پولیٹکل اقتدار میں آنے سے پہلے، ان کا ایک ایجنڈا ہوتا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد وہ فوراًاپنے ایجنڈے کو عمل میں لانا شروع کردیتے ہیں۔ مگر یہ طریقہ حکمت کے خلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اس معاملے میں جلدی نہ کی جائے۔ کچھ نازک چیزوں کو ناتمام ایجنڈا (unfinished agenda) کے طور پر چھوڑ دیا جائے۔ مگر اکثر اربابِ اقتدار اس معاملے میں غلطی کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حالات خراب ہوجاتے ہیں، اور قبل از وقت ان کو اقتدار سے محروم ہوجانا پڑتا ہے، اور پھر ایک فریق دوسرے فریق کو الزام دینا شروع کردیتا ہے۔ حالاں کہ قرآن کی ایک آیت (الحج22:28) میں اس معاملے کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ وہ رہنمائی کیا ہے۔ اس کی ایک مثال پیغمبر اسلام نے عملاً پیش کی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو 8 ہجری میں مکہ کا اقتدار ملا۔ اس وقت کعبہ کی عمارت میں ایک مسئلہ موجود تھا۔ وہ یہ کہ کعبہ کاتقریبا ًدو تہائی حصہ مسقف (covered)تھا،یہ کعبہ کی موجودہ عمارت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک تہائی حصہ غیر مسقف (non-covered)پڑا ہوا تھا، جس کو حطیم کہا جاتا ہے ۔ حضرت عائشہ نے غیر مسقف حصے کو بھی مسقف بنانے کا مشورہ دیا، لیکن رسول اللہ نےایسا نہیں کیا، اور غیر مسقف حصے کو بدستور ایز اٹ از (as it is) چھوڑ دیاکیوں کہ ایسا کرنا اہل مکہ کو ناپسند ہو سکتا تھا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1584)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کعبہ کی عمارت کا یہ معاملہ رسول اللہ کی ایک حکیمانہ سنت کو بتاتاہے۔ وہ بتاتا ہے کہ زندگی میں کچھ چیزوں کو ناتمام ایجنڈے کے طور پر چھوڑنا پڑتا ہے، خواہ آدمی کو مکمل اقتدار ملا ہوا ہو۔یہ اجتماعی زندگی کی ایک اہم حکمت ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ لوگوں نے اس واقعے سے سبق نہیں لیا۔ ہر آدمی اقتدار پانے کے بعد اپنے ایجنڈے کو فوراً مکمل کرنا شروع کردیتا ہے۔ اگرچہ اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے کو مکمل تو نہیں کرپاتا، البتہ اس کے اقتدار کا قبل از وقت خاتمہ ہوجاتا ہے۔

اس کی مثالیں تاریخ میں کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ اسی نوعیت کی ایک مثال پاکستان کی تاریخ میں ہے۔ 1947 میں جب پاکستان بنا ، تو شیخ مجیب الرحمن مسلم لیگ کی جماعت میں شامل تھے۔ لیکن محمد علی جناح نے 21 مارچ 1948 کو یہ اعلان کیا کہ اردو پورے پاکستان (بشمول ایسٹ پاکستان)کی قومی زبان ہوگی۔ شیخ مجیب الرحمن اپنے بنگالی ذوق کے مطابق اس اعلان کے سخت خلاف ہوگئے، وہ مسلم لیگ سے الگ ہوگئے، اور ایک علاحدہ ملک کی تحریک چلائی، جو آخر کار اس پر منتج ہوئی کہ مشرقی پاکستان ، پاکستان سے ٹوٹ کر نیا ملک (بنگلہ دیش) بن گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ناتمام ایجنڈے پر راضی ہونا، ایک پریکٹکل وزڈم (practical wisdom)ہے۔ اجتماعی زندگی کی یہ ایک اہم حکمت ہے۔ اس حکمت کے بغیر کوئی شخص بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ جیسا کہ کعبہ میں حطیم کی مثال سے سمجھا جاسکتاہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content