Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala February 2018
Al-Risala February 2018

غصہ کا مثبت پہلو

Urdu · 2 min

غصہ کو عام طور پر ایک منفی ظاہرہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن غصہ کا ایک مثبت پہلو ہے۔ آدمی اگر غصہ کے وقت بے صبر ہوجائے تو غصہ اس کے لیے نقصان کی چیز بن جاتا ہے۔ لیکن آدمی اگر غصہ کے وقت خود کوکنٹرول کرے تو غصہ اس کے لیے ایک مثبت عمل بن جائے گا۔ غصہ اجتماعی زندگی کا ایک ظاہرہ ہے۔ آدمی اگر تنہائی کی زندگی گزاررہا ہو تو اس کو غصہ نہیں آئے گا۔ غصہ اس وقت آتا ہے جب کہ آدمی دوسروں کے درمیان ہو، اور دوسروں کی کوئی بات اس کو پسند نہ آئے ۔ اس وقت اس کے اندر غصہ بھڑکتا ہے۔ لیکن غصہ اپنی ذات میں کوئی برائی نہیں۔ غصہ اس وقت بری چیز بن جاتا ہے، جب کہ آدمی غصہ کے وقت ردعمل کا شکار ہوجائے۔ وہ غصہ کو مینج کرنے میں ناکام رہے۔

غصہ ایک فطری ظاہرہ ہے۔غصہ کسی آدمی کے لیے ایک شاکنگ تجربہ ہوتا ہے۔ جب کسی آدمی کو غصہ آتا ہے تو فطری طور پر اس کے اندر سے بڑی مقدار میں اینگر انرجی (anger energy) خارج ہوتی ہے۔ غلط یہ ہے کہ آدمی اپنی اینگر انرجی کو مینج نہ کرسکے۔ لیکن اگر آدمی اپنے اینگر انرجی کو مینج کرسکے تووہ اس کی فکری طاقت میں اضافہ کا ذریعہ بن جائے گی۔

جب کسی بات پر آدمی کو غصہ آتا ہے تو اس کے اندر سوچنے کا عمل (thinking process) بہت تیز ہوجاتا ہے۔ یہ ظاہرہ اس کی فکری طاقت کو بہت بڑھا دیتا ہے۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل ہوجاتا ہے۔اس کی قوت فیصلہ بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس کی کارکردگی کی طاقت میں بہت اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر چھپی ہوئی توانائی شدت کے ساتھ جاگ اٹھتی ہے۔ اس کے دماغ کی بند کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔ وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچنے کے قابل ہوجاتا ہے۔جب غصہ آئے تو صرف یہ کیجیے کہ چپ ہوکر سوچنا شروع کردیجیے، او ر اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوگا کہ غصہ کے وقت ریلیز ہونے والی اینگر انرجی مثبت انرجی بن جائے گی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.