Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala February 2018
Al-Risala February 2018

علمی انداز، صحافتی انداز

Urdu · 2 min

قرآن میں ایک معاملے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اللہ اس سے نہیں شرماتا کہ بیان کرے مثال مچھر کی یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی۔ پھر جو ایمان والے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ اور جو منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال کو بیان کرکے اللہ نے کیا چاہا ہے۔ اللہ اس کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوں کو اس سے راہ دکھاتا ہے۔ اور وہ گمراہ کرتا ہے ان لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیں (2:26)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن میں کسی معاملے کو واضح کرنے کے لیے مچھر اور مکڑی کی مثال دی گئی۔ اس کو دیکھ کر منکرین نے اس کا مذاق اڑایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ کیسا قرآن ہے، جس میں مچھر اور مکڑی کی مثال دی جاتی ہے۔ اس کے جواب میں کہا گیا کہ یہ مت دیکھو کہ جو مثال دی گئی ہے، وہ کس چیز کی مثال ہے،بلکہ اس میں جو سبق ہے، اس سبق کو دیکھو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ واقعہ قدیم زمانے کے منکرین کا ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی اس واقعہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں الفاظ بدل گئے ہیں۔ ذہن وہی ہے، البتہ وہ مختلف الفاظ میں ظاہر ہوتا ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں آپ کسی سے ایک سچائی کی بات کہیں گے، تو وہ کہے گا کہ آپ کا اسلوب تو صحافتی اسلوب ہے۔ آپ کو چاہیے کہ جو بات کہیں ، علمی اسلوب میں کہیں۔ تب آپ کی بات میں وزن ہوگا۔

کوئی بات خواہ وہ بظاہر مذہبی ہو یا سیکولر اس کو بیان کرنے کے لیے بیان کرنے والا ایک اسلوب اختیار کرتا ہے۔ اس اسلوب میں دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس میں کتنا وضوح (clarity) ہے، وہ کتنا زیادہ انسانی ذہن کو ایڈریس کرتا ہے، اس میں سبق کا پہلو کتنا ہے۔ کسی بات کے سلسلے میں اصل اہمیت سبق کی ہے، نہ کہ کسی دوسری چیز کی۔اسلوب ہمیشہ اضافی ہوتا ہے، اور معنویت ہمیشہ حقیقی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content