Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala February 2018
Al-Risala February 2018

بڑا فتنہ

Urdu · 2 min

پیغمبر اسلام کی طرف منسوب کرکے ایک روایت اس طرح آئی ہے: الامام الجائر خیر من الفتنۃ (ادب الدنیا و الدین للماوردی، صفحہ 219)۔ یعنی ظالم حکمراں فتنہ سے بہتر ہے۔یہاں ظالم سے مراد حقیقی ظالم نہیں ہے، بلکہ وہ حاکم ہے جس کو کچھ لوگ ظالم سمجھ لیں، اور ان کے خلاف لڑائی چھیڑ دیں۔ حکمراں سے لڑائی کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ واقعہ اس وقت ہوتا ہے، جب کہ کچھ لوگ کسی حاکم کے خلاف شکایات کو لے کر اس کو ظالم بتائیں، اور ظالم کے ظلم کو ختم کرنے کے نام پر اس سے لڑائی چھیڑ دیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ظاہر ہے کہ حاکم جب اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کرے گا تو وہ اس کو مٹانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دے گا۔ اس طرح یہ ہوگا کہ جو چیز پہلے صرف بظاہر ظلم تھی، وہ اب جنگ و قتل کی صورت اختیار کر لے گی۔ لوگ مارے جائیں گے، لوگ پکڑے جائیں گے، لوگوں کی آزادیاں چھینی جائیں گی، لوگوں کے اوپر نئی نئی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ مثلاً اگر وہ مسجد میں حاکم کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری کیےہوئے تھے، تو مسجد پر پابندی لگے گی،لوگ کتابوں میں حاکم کے خلاف باتیں چھاپ رہے تھے تو ایسی کتابیں ضبط کی جائیں گی۔ لوگ اگر جمعہ کے خطبے میں اس قسم کی باتیں کریں گے تو حکومت جمعہ کے خطبے کو اپنےچارج میں لے لے گی۔ اس طرح ظلم کے خلاف تحریک عملاً کاؤنٹر پروڈکٹو ثابت ہوگی۔ چھوٹے ظلم کے بعد بڑا ظلم پیدا ہوگا۔ لوگوں کی آزادیوں پر پابندی لگے گی۔ ظلم کے جواب میں تشدد پیدا ہوگا۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ اگر کسی کو نظر آئے کہ حاکم ظلم کر رہا ہے تو وہ اس کے مقابلے میں صبر کی پالیسی اختیار کرے۔ وہ یا تو اس معاملے میں بالکل خاموش رہے، یا اگر وہ کچھ کہنا چاہتا ہے تو وہ ہر گز جوابی تحریک نہ چلائے، بلکہ تنہائی میں حکمراں سے مل کو اس کو نصیحت کرے۔ اس سے زیادہ کچھ کرنا ظلم میں اضافہ کے ہم معنی ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content