Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala February 2018
Al-Risala February 2018

احسن العمل

Urdu · 2 min

انسان کے بارے میں تخلیقی منصوبہ کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الَّذِی خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاةَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا (67:2)۔یعنی خالق نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سب سے اچھے عمل والا کون ہے ۔اس آیت کا مطلب یہ ہےکہ پیدا ہونےوالے انسانوں میں سے احسن العمل کا انتخاب کرنا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اس آیت کا مفہوم ایک اور آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے: مَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَہُ فِی حَرْثِہِ وَمَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہِ مِنْہَا وَمَا لَہُ فِی الْآخِرَةِ مِنْ نَصِیبٍ (42:20)۔ یعنی جو شخص آخرت کی کھیتی چاہے ہم اس کو اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے۔ اور جو شخص دنیا کی کھیتی چاہے ہم اس کو اس میں سے کچھ دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا انسان کے لیے پودگاہ (nursery) کی مانند ہے۔پود گاہ میں یہ ہوتا ہے کہ پودے عمومی انداز میں پیدا کیے جاتے ہیں۔ پھر ان میں جو پودا تندرست ہوتا ہے، اس کو چھانٹ کر نکال لیا جاتا ہے تاکہ اس کو زیادہ اچھی زمین میں نصب کرکے زیادہ اچھے ماحول میں گرو (grow) کرنے کا موقع دیا جائے۔

یہی حیثیت انسان کی نسبت سے موجودہ دنیا کی ہے۔ موجودہ دنیا کی حیثیت انسان کے لیے نرسری (nursery) جیسی ہے۔ یہاں انسان کو پیدا کرکے بسایا جاتا ہے تاکہ ان میں سے جو انسان اپنے کو احسن العمل یعنی زیادہ صحت مند ثابت کرے، اس کو دنیا کی نرسری سے نکال کر آخرت کے ہیبیٹاٹ (habitat) میں نصب کردیا جائے، یعنی ابدی جنت میں۔ گویا کہ موجودہ دنیا کی زندگی نرسری کی زندگی ہے، اور آخرت کے ہیبیٹاٹ کی زندگی ابدی جنت کی زندگی ہے۔ یہ بلاشبہ حیات انسانی کے لیے بہترین اسکیم ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content