Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala february 2017
Al-Risala february 2017

غصہ کیوں آتاہے

Urdu · 2 min read

غصہ ایک عام برائی ہے۔ اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کے مزاج کے خلاف کوئی بات ہوتی ہے تو وہ غصہ ہوجاتے ہیں۔ غصہ ہمیشہ شکایت سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ نفرت کی صورت اختیار کرتا ہے۔ یہ نفرت مزید بڑھ کر عناد (enmity) کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے بعد وہ یہ کرتاہے کہ جس آدمی پر اس کوغصہ آیا اس کو ہر اعتبار سے وہ نیچا دکھانے کی کوشش کرتاہے۔ شعوری یا غیر شعوری طورپر وہ یہ چاہنے لگتا ہے کہ کسی طرح یہ ثابت ہو کہ وہ غصہ کرنے میں درست تھا۔غصہ کی اصل جڑ انانیت (ego) ہے۔ اکثر ایساہوتا ہے کہ لوگ اپنی بے شعوری کی بنا پر اپنے اندر وہ صفت پیدا نہیں کرپاتے جس کو آرٹ آف ایگو مینجمنٹ(art of ego management) کہاجاتا ہے۔ جو آدمی اس آرٹ کو جانے وہ اپنی ذہنی بیداری (intellectual awakening) کی بنا پر اس قابل ہوگا کہ وہ اپنے ایگو کو اپنے عقل کے تابع رکھے نہ کہ خود ایگو (ego)کے تابع ہوجائے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

غصہ فطرت کا ایک ظاہرہ ہے۔ ہر آدمی کے اندر فطری طور پر غصہ کے جذبات موجود ہوتے ہیں۔ لیکن غصہ کی ایک صورت محمود ہے، اور دوسری صورت غیر محمود۔آدمی کو چاہیے کہ وہ اس فرق کو سمجھے۔ کیوں کہ غصہ کی محمود صور ت جائز ہے، جب کہ غصہ کی غیر محمود صورت ایک گناہ ہے۔

غصہ کی غیر محمود صورت وہ ہے جو غرور (arrogance) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی اپنے کو بڑا، اور دوسرے کو چھوٹا سمجھنا۔ اس بنا پر اپنے خلاف بات سن کر بھڑک اٹھنا۔ اس قسم کا غصہ کبر کی علامت ہے۔ اور کبر بلاشبہ ایک گناہ ہے۔محمود غصہ وہ ہے جو اصول پسندی کی بنا پر کسی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک آدمی اصول پسند (man of principle) ہو تو وہ اصول کے معاملے میں حساس (sensitive)ہوجائے گا۔ اس بنا پر وہ خلاف اصول بات کو برداشت نہیں کرپاتا۔وہ شدید انداز میں اس کے خلاف نکیر کرنا چاہتا ہے۔ وہ بظاہر غصہ ہوتا ہے لیکن حقیقۃ وہ شدت اظہار ہوتا ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content