Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala february 2017
Al-Risala february 2017

استقامت کیاہے

Urdu · 2 min read

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے کہا:قل ربی اللہ ثم استقم (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2410)۔ یعنی کہو کہ اللہ میرا رب ہے اور اس پر جم جاؤ۔ استقامت کا مطلب ہے جم جانا (to stick) ۔ اس کا مطلب ہے ہر حال میں ربانی روش پر قائم رہنا کسی حال میں اپنے قول سے نہ ہٹنا۔ اللہ کو اس طرح رب بنانا کہ وہی انسان کا اصل کنسرن بن جائے۔اصل یہ ہے کہ اللہ کو رب بنانے کی دو صورتیں ہیں۔ایک یہ کہ زبان سے یہ کہہ دینا کہ میںنے اللہ کو اپنا رب بنایا۔ اس کے بعد اس طرح زندگی گزارنا کہ آدمی کا عمل الگ ہو اور اس کا زبانی اقرار الگ۔ ایسے آدمی کا ایمان اللہ کے یہاں معتبر نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اس طرح اپنا رب بنائے کہ وہی اس کی زندگی کا مشن بن جائے۔ وہ اس کے مطابق سوچے۔ اس کے صبح وشام اس کے مطابق گزریں۔ وہ اسی کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔ وہ اسی کا عامل اور اس کا داعی بن جائے۔ وہ اپنے آپ کو پوری طرح اس میں شامل (involve) کردے۔ یہی دوسری قسم کا انسان وہ ہے کہ جو اللہ کو اپنا رب بنانے کے بعد اس پر قائم ہوجائے۔

استقامت ایک فطری حقیقت ہے۔ ہر انسان اپنی دنیا کے معاملے میں استقامت کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ دنیا میں جو شخص اپنے معاملے میں استقامت کا طریقہ اختیار کرے، وہ کامیاب ہوتا ہے۔ اور جو شخص دنیا میں استقامت کا طریقہ اختیار نہ کرے، وہ ناکام ہوکر رہ جاتا ہے۔

استقامت کا یہی طریقہ آخرت کے معاملے میں بھی مومن کو اختیار کرنا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے ایمانی شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرےکہ اس کے ایمان کے ساتھ استقامت کا پہلو شامل ہوجائے۔ ایمان اگر شعوری اقرار ہے تو استقامت ایک شعوری عمل ہے۔ ایمان اور استقامت ، دونوں کے لیے شعوری بیداری لازمی طور پر ضروری ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content