Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala February 2016
Al-Risala February 2016

دورِ قدیم، دورِ جدید

Urdu · 2 min read

دورِ قدیم میں طاقت کو واحد معیار کا درجہ حاصل تھا۔ روایتی طور پرطاقت ور آدمی کو یہ حیثیت ملی ہوئی تھی کہ وہ طاقت کے بل پر جہاں چاہے اپنا دبدبہ قائم کرلے۔اور لوگ اس کو درست سمجھ کر قبول کرلیں۔ اس اعتبار سے گویا قدیم دور کا معاشرہ طاقت ور انسان کا معاشرہ تھا۔

موجودہ زمانے میں حقوقِ انسانی (human rights)کی تحریکیں نہایت زور و شور کے ساتھ چلیں۔ یہاں تک کہ دنیا میں عملاً ایک نیا معیار قائم ہوگیا۔ اب حقوق یافتہ طبقہ (privileged class) کا تصور ختم ہوگیا۔ اب ایک نیا دور شروع ہوا ہے جب کہ اصولی طور پر ساری اہمیت جوہرِ ذاتی (merit)کی ہے۔ آج کی دنیا میں ساری اہمیت صرف میرٹ (merit) کو حاصل ہے۔ آج کی دنیا مبنی بر میرٹ (merit-based) دنیا ہے۔ اگر آپ غلطی کرکے کسی کو جواز (justification) نہ دیں تو آپ کو یہ تجربہ پیش آنے والا نہیں کہ آپ اپنی صلاحیت کے اعتبار سے ایک چیز کے حقدار ہوں، پھر بھی وہ چیز آپ کو نہ ملے۔

زمانے کی اس تبدیلی نے آج ایک نیا امکان پیدا کردیا ہے ۔ وہ امکان یہ ہے کہ اگر آپ مکمل طور پر پر امن طریقہ (peaceful method) اختیارکریں تو کوئی آپ پر تشدد کرنے والا نہیں۔ کسی بھی مقام پر آپ کا راستہ رکنے والا نہیں۔ پر امن طریقہ کار کےذریعے آپ جومقصد چاہیں، اس کے لیے آزادانہ طور پر اپنا منصوبہ بنا سکتے ہیں، اور اس کو زیرِ عمل لاسکتے ہیں۔ مثلاً تجارت، تعلیم، دعوت الی اللہ ،وغیرہ۔

یہ امکان خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو تعلیم اور دعوت جیسے تعمیری میدان میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے زمانے میں جبر کا نظام تھا۔ اس لیے تعمیری میدان میں بھی آزادانہ کام کے مواقع حاصل نہ تھے۔ اب یہ رکاوٹ مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے۔ اب ہر انسان اور ہر گروپ کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنے تعمیری حوصلوں کو پوری طرح بر روئے کار لاسکیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.