Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala February 2016
Al-Risala February 2016

ایمان کے بعد ایمان

Urdu · 2 min read

قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئےایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا آمِنُوا (النساء136 :) یعنی اے وہ لوگو، جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ۔ اس آیت کے مطابق اہل ایمان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ایمان کے بعد دوبارہ ایمان لائیں۔ یہ ایمان کے بعد دوبارہ ایمان کیا ہے ، اس کو سمجھنے کے لیے قرآن کی ایک اور آیت کا مطالعہ کیجیے۔ اس دوسری آیت کے الفاظ یہ ہیں: قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَکِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْإِیمَانُ فِی قُلُوبِکُم (الحجرات14 :)یعنی اعراب (بدو) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، کہو کہ تم ایمان نہیں لائے۔ بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا، اور ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دونوں آیتوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کے بعد ایمان کا مطلب یہ ہے کہ قولی ایمان کو داخل القلب ایمان بنایا جائے۔ کلمۂ ایمان کے تلفظ کو ایک ایسے کلمہ کے درجے تک پہنچایا جائے جو انسان کے لیے یقین اور شعوری بیداری کے ہم معنی بن جائے۔ ایک ایسا ایمان جو انسان کی سوچ میں اس طرح شامل ہوجائے کہ وہ اپنے ہر علم اور ہر تجربے کو حقیقتِ ایمانی میں ڈھال لے۔

یہ مقصد کس طرح حاصل ہوتا ہے۔ اس کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ تدبر (ص29 :) ہے۔ یعنی ایمان باللہ اور اس کے متعلقات پر برابر سوچتے رہنا، ہرمعاملے کو اللہ کی ہدایت کی روشنی میں جانچتے رہنا، ہر صبح و شام اپنا بے لاگ محاسبہ کرتے رہنا، کائنات کی نشانیوں میں مسلسل طور پر غور کرتے رہنا، ہر مشاہدہ اور تجربہ سے رزقِ رب (طہ131:) حاصل کرتے رہنا۔ اسی کا نام تدبر ہے۔ اور یہی تدبر اس بات کا ضامن ہے کہ کسی انسان کا قولی ایمان ایک داخل القلب ایمان بن جائے۔ اقرار کے درجے کا ایمان یقین کے درجے کا ایمان بن جائے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content