خدا کے نقشہ تخلیق (creation plan) کے مطابق موجودہ دنیا انسان کے لئے دارالابتلا (67:2) ہے، یعنی مقام امتحان (testing ground) - مگر سوال یہ ہے کہ انسان کا یہ امتحان کس لئے ہے-
وہ امتحان برائے امتحان نہیں ہے بلکہ وہ اس لئے ہے کہ دنیا کے مختلف حالات سے گزرتے ہوئے ہر فرد کے رسپانس (response) کا ریکارڈ تیار کیا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ ان میں سے کون ہے جو جنت کی ابدی دنیا میں بسانے کے لئے مستحق امیدوار (deserving candidate) کی حیثیت رکھتا ہے-
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ موجودہ دنیا انسان کے لئے مواقع کی دنیا (world of opportunities) ہے- ایک اعتبار سے اس کو امتحان کی جگہ (testing ground) کہاجائے گا، لیکن دوسرے اعتبار سے بلا شبہہ اس کا نام مواقع کی جگہ (opportunity ground) ہے-
اہل جنت کی صفات کو قرآن میں اور حدیث میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے- اس کے مطابق جنتی انسان کی مطلوب صفات یہ ہیں کہ وہ حقیقت کا اعتراف کرنے والا انسان ہو، اس کے اندر کامل معنوں میں مثبت سوچ (positive thinking) پائی جاتی ہو، وہ دوسروں کے لئے مسائل (nuisance) پیدا نہ کرے، وہ معاشرے کے اندر پرامن ممبر بن کر رہنے والا ہو، اس کے دل میں ہرایک کے لئے کامل ہمدردی پائی جاتی ہو، وہ تواضع (modesty) کی صفت کا حامل ہو، وہ کامل معنوں میں ایک سچا انسان ہو، وغیرہ-
موجودہ دنیا کے مختلف حالات کے درمیان رہتے ہوئے جو یہ ثابت کرے کہ وہ ان اعلیٰ صفات کا حامل انسان ہے، اس کو منتخب کرکے جنت کی ابدی دنیا میں بسایا جائے گا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔