موجودہ زمانے میں جو نئی چیزیں پیدا ہوئیں، اُن میں سے ایک وہ ہے جس کو پروفیشنل ازم (professionalism)کہاجاتاہے، یعنی بطور پیشہ (profession)کسی کام کو کرنا- نئے حالات کے نتیجے میںجو چیزیں و جود میں آئی ہیں، اُن میں سے دو چیزیں یہ ہیں — پروفیشنل جنرل ازم اور پروفیشنل لیڈرشپ- یہ وہ لوگ ہیں جو جنرل ازم یا لیڈر شپ کو بطورپروفیشن اختیار کرتے ہیں، نہ کہ بطور مشن- یہی وہ پروفیشنل لوگ ہیں جو موجودہ زمانے کے مسائل کے اصل ذمے دار ہیں-
اپنے ذہنی افتاد کے اعتبار سے، اُن کا نشانہ یہ نہیں ہوتا کہ مسئلے کا حقیقی حل کیا ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ مسئلے کے حوالے سے وہ کون سی بات کہہ سکتے ہیں جو عوام کو زیادہ پسند آئے- پروفیشنل صحافیوں اور پروفیشنل لیڈروں کا ذہن عام طورپر یہی ہوتا ہے، خواہ وہ شعوری طور پر ہو یا غیر شعوری طورپر-
اپنے پروفیشنل مزاج کی بناپر یہ لوگ ہمیشہ آئڈیل (ideal)کی بات کرتے ہیں- اُن کو اِس سے بحث نہیں ہوتی کہ عملی طورپر کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ممکن نہیں-
ان کے پاس ہمیشہ ایک تصوراتی قسم کا معیاری پیمانہ (ideal yardstick) ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ ہر چیز کو ناپتے رہتے ہیں-مثلاً وہ کہتے ہیں کہ — یہ حقوقِ انسانی (human rights) کی خلاف ورزی ہے، یہاں انتظامیہ (administration) نے اپنی ذمے داری ادا نہیں کی، یہاں اتھارٹیز نے امتیازی سلوک (discrimination) کا معاملہ کیا، یہاں قانون کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، یہاں انصاف (justice) کا طریقہ نہیں اپنایاگیا، یہاں پولس نے اپنی ذمے داری ادا نہیں کی، یہاں سِوک سوسائٹی (civic society) کے نمائندوں کو کام کرنے کا موقع نہیں دیاگیا، یہاں لوگوں کے ساتھ دہرے معیار (double standard) کا طریقہ اختیار کیاگیا، وغیرہ- یہ وہ لوگ ہیں جو قوّال ہیں، مگر فعال نہیں اور اِسی قسم کے غیر فعّال قوالوں نے آج کی دنیا میں تمام مسائل پیدا کررکھے ہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.