Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala February 2014
Al-Risala February 2014

امت کا دورِ زوال

Urdu · 3 min read

امتِ مسلمہ کے دورِ زوال کے بارے میں حدیث کی کتابوں میں بہت سی روایتیں آئی ہیں- یہ روایتیں گویا پیشگی تنبیہ (advance warning) کی حیثیت رکھتی ہیں- اِن روایتوں کا مقصد یہ ہے کہ امت کے رہنما پیشگی طورپر زوال کی علامتوں کو جان لیں اور اُن کی اصلاح کے لیے سرگرم ہوجائیں- اگر چہ اِس معاملے میں امتِ مسلمہ کا حال بھی عملاً وہی ہوا جو پچھلی امتوں کا ہوا تھا، یعنی پیشگی تنبیہات کے باوجود اصلاحِ حال میں ناکامی-

اِس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں جو روایتیں آئی ہیں، اُن میں سے ایک روایت یہ ہے: لینقضنّ عرى الإسلام عروة عروة- فکلما انتقضت عروة، تشبّث الناس بالتی تلیہا- وأولہن نقضا الحکم، وآخرہن الصلاة (مسند أحمد: 251/5 ) یعنی اسلام کے حلقے (زنجیر) ٹوٹتے رہیں گے، ایک کے بعد دوسری کڑی- جب ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ باقی ماندہ کڑی سے جڑ جائیں گے- پہلی کڑی جو ٹوٹے گی، وہ ’الحکم‘ ہے اور آخری کڑی جو ٹوٹے گی ، وہ ’الصلاة‘ ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کے درمیان جو انقلابی رہنما پیدا ہوئے، انھوں نے دورِ زوال میں پیش آنے والی خرابی کی وہ تشخیص کی جس کو ’’دین اور سیاست کے درمیان جدائی‘‘ کہاجاتا ہے- اِس غلط تشخیص کی بناپر ساری امت بے نتیجہ طورپر سیاسی ہنگامہ آرائی میں مشغول ہوگئی- صحیح بات یہ ہے کہ دورِ زوال میں امت کے اندر جو خرابی پیدا ہوتی ہے، وہ دین اور سیاست کے درمیان جدائی نہیں ہے، بلکہ وہ دین اور مظاہرِ دین کے مابین جدائی ہے، یعنی دین کی اصل روح کا مفقود ہوجانا اور دین کی ظاہری شکلوں کا باقی رہنا- اِس تفریق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امت کے درمیان بظاہر دین کے نام پر طرح طرح کی سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں، لیکن دین اپنی حقیقت کے اعتبار سے، عملاً موجود نہیں ہوتا- اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بظاہر دین داری کے باوجود مسلمان دین کی اُن رحمتوں اور برکتوں سے  محروم ہوجاتے ہیں جو سچے اہلِ دین کے لیے مقدر کی گئی ہیں-

کسی امت کے اوپر زوال کا دور اچانک نہیں آتا، بلکہ تدریجی (gradual)طور پر آتا ہے- تدریجی زوال کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ دھیرے دھیرے اُس سے مانوس ہو جاتے ہیں، وہ زوال کی حالت ہی کو درست حالت سمجھنے لگتے ہیں- اِس زوال کو دوسرے الفاظ میں، تدریجی تحویل (gradual shift) کہا جاسکتا ہے، یعنی ایک حالت سے دوسری حالت تک پہنچ جانا- مذکورہ حدیث میں ’’عُروةً، عُروةً‘‘ تبدیلی کا لفظ آیا ہے- اِس حدیث میں دراصل تمثیل کی زبان میں اِسی تدریجی تحویل کو بتایا گیا ہے- اِس تحویل کی کچھ صورتیں یہاں درج کی جاتی ہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آئڈیالاجکل اسلام سے کلچرل اسلام کی طرف اسپرٹ سے فارم کی طرف

تدبر قرآن سے تلاوتِ قرآن کی طرف تخلیقیت سے تقلید کی طرف

مخلصانہ دین داری سے ظاہر داری کی طرف امت سے سیاست کی طرف

امن سے تشدد کی طرف جہاد سے قتال کی طرف

آخرت پسندی سے دنیا پرستی کی طرف خاموش عمل سے شور وغل کی طرف

حقیقت پسندی سے تصنع کی طرف سادگی سے تکلفات کی طرف

دورِ زوال میں اِن تبدیلیوں کی بنا پر دینِ خداوندی کا وہ حال ہوجاتا ہے جس کو ایک حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: لا یبقى من الإسلام إلا إسمہ، ولا یبقى من القرآن إلا رسمہ (البیہقی فی شعب الإیمان، رقم الحدیث: 1908) یعنی دورِ زوال میں اسلام کا صرف نام باقی رہے گا اور قرآن کا صرف رسم الخط باقی رہے گا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس حالتِ زوال کو دوسرے لفظوں میں اِس طرح کہاجاسکتا ہے کہ قِشر (shell) کا باقی رہنا اور مغز (kernel) کا عملاً باقی نہ رہنا- دورِ زوال میں امت کی اصلاح کا صحیح طریقہ صرف ایک ہے اور وہ ہے— حکیمانہ دعوت وتبلیغ کے ذریعے امت کو دوبارہ قشر کی حالت سے مغز کی حالت کی طرف لے جانا-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content