Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala February 2008
Al-Risala February 2008

عظمتِ خداوندی کا اعتراف

Urdu · 2 min read

دور ِ اول میں خلافتِ اسلامی کو غیر معمولی پھیلاؤ ہوا، اس کے باوجود بنو اُمیہ کے عہد تک خلافت کا ایک ہی مرکز (دمشق) تھا۔ عباسی انقلاب کے بعد اندلس میںعلاحدہ سلطنت قائم ہوئی، اِس طرح حکومتِ اسلامی کے دومرکز ہوگیے۔ جلد ہی بعد مراکش میںتیسرا آزاد سیاسی مرکز قائم ہوا، پھر مصر میں خود مختار حکومت قائم ہوگئی۔ اِس طرح ایک کے بعد ایک، آزاد مسلم سلطنتیں قائم ہوتی چلی گئیں۔ ایک عظیم مسلم سلطنت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہوگئی۔اِنھیں آزاد سلطنتوں میں سے ایک سلطنت وہ تھی جس کو دولتِ سامانیہ کہاجاتاہے۔ سامانی سلطنت، ایران میںابھری اور تقریباً ڈیڑھ سوسال تک قائم رہ کر ختم ہوگئی۔

سامانی سلطنت کا ایک حاکم نصر بن احمد بن سامان (وفات: 892ء) تھا۔ کہاجاتا ہے کہ جب اس نے نیشا پور کو اپنی سلطنت میںشامل کیا تو وہاں اس نے ایک جشن منعقد کیا۔ جب وہ اپنے شاہی تخت پر بیٹھا تو اس کی فرمائش کے مطابق، تخت نشینی کی افتتاحی رسم قرآن کی تلاوت سے شروع ہوئی۔ مجلس میں ایک عالم موجود تھے۔ انھوں نے قرآن کی تلاوت کی۔ انھوں نے سورہ المومن کا ایک حصہ پڑھا، جس میںیہ آیت بھی تھی: یوم ہُم بارزون لا یخفیٰ علی اللہ منھم شیٔ۔ لِمَن الملک الیوم، للہ الواحد القہار (المؤمن : 16 )۔ یعنی جس دن کہ وہ ظاہر ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی چیز چھپی نہ ہوگی۔ آج بادشاہی کس کے لیے ہے، اللہ واحد وقہار کے لیے۔ مذکورہ عالم تلاوت کرتے ہوئے جب اِس آیت پر پہنچے تو سلطان نصربن احمد پر لرزہ طاری ہوگیا۔ وہ ہیبت زدہ ہوکر تخت سے اُتر پڑا۔ تاج کو اپنے سر سے اتارا اور سجدے میںگر گیا۔ اس نے کہا: اے میرے رب، بلا شبہہ بادشاہی تیری ہے، نہ کہ میری۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اعلی دعا اور اعلیٰ ذکر ِخداوندی کا تعلق الفاظ سے نہیں ہے، بلکہ انسان کی اپنی نفسیات سے ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ: مَن تَواضع للہ رفعہ اللہ (مشکاۃ المصابیح، رقم الحدیث: 5119 )۔ اِس حدیث کا ایک مطلب یہ ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے سامنے جھکا دے، وہی وہ شخص ہے جس کو خدا اِس طرح عزت دیتا ہے کہ اُس کو اسمِ اعظم کے ساتھ ذکر اور دعا کی توفیق ملتی ہے، اور جس شخص کو اسمِ اعظم کے ساتھ ذکر اور دعا کی توفیق ملے، اس کو بلا شبہہ دنیا ہی میں خدا کی جنت حاصل ہوگئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content