Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala February 2008
Al-Risala February 2008

حد سے تجاوز نہ کرنا

Urdu · 2 min read

فطرت کا ایک قانون یہ ہے کہ ہر چیز اپنے دائرے میں حرکت کرے، وہ اپنی فطری حد سے تجاوز نہ کرے۔ یہی اصول انسان سے بھی مطلوب ہے، اِس فرق کے ساتھ کہ بقیہ کائنات میں یہ اصول جبری طورپر نافذ ہے اور انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی مرضی کے تحت اس اصول کو اختیار کرے۔ گویا بقیہ دنیا فطری کنٹرول کے تحت چل رہی ہے اور انسان کو سیلف کنٹرول کا کلچر اپنانا ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا نے ہر معاملے کی ایک حد مقرر کردی ہے، تم اُس سے تجاوز نہ کرو (وحدّ حدوداً، فلا تعتدوہا) حدود کی پابندی کا یہی اصول انسان کے ٹسٹ کا بنیادی اصول ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مثلاً انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ دوسروں کا خیر خواہ بنے، وہ ان کا بد خواہ نہ بنے۔ وہ مثبت طرزِ فکر کو اپنائے اور منفی طرزِ فکر سے پوری طرح دور رہے۔ وہ غصے کو پی جائے، وہ غصے کو انتقام تک نہ جانے دے۔ وہ معاملے کے وقت انصاف پر قائم رہے، وہ بے انصافی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ وہ اپنے وعدے کو پورا کرے اور وعدہ خلافی سے مکمل طورپر بچے۔ وہ لوگوں کے سلوک کا اعتراف کرے، اس کی روش بے اعترافی کی روش نہ ہو۔ اس کا کردار تواضع کا کردار ہو، نہ کہ تکبر اور سرکشی کا کردار۔

اِسی طرح وہ ہمیشہ پر امن رہے، وہ تشدد کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ وہ دشمنی کا مقابلہ دوستانہ سلوک سے کرے، نہ کہ جنگ جویانہ کارروائی سے۔ وہ انسانی سماج کا بے مسئلہ ممبر(no-problem member) ہو، نہ کہ مسئلہ پیدا کرنے والا ممبر(problem-member)۔ وہ دوسروں کو دینے والا ہو، نہ کہ دوسروں سے صرف لینے والا۔

موجودہ دنیا انتخاب کی جگہ ہے۔ یہاںہر ایک کے ریکارڈ کے مطابق، اس کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ کسی کے لیے اس کی حسن کرداری کی بنا پر ابدی جنت کا فیصلہ کیا جارہا ہے، اور کسی کے لیے اس کی بدکرداری کی بنا پر ابدی جہنم کا فیصلہ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content