Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala February 2004
Al-Risala February 2004

اتحاد میں خدا کی مدد

Urdu · 3 min read

ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اللہ عزوجل: انا ثالث الشریکین مالم یخن احدہما صاحبہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں دو شریکوں کے ساتھ تیسرا ہوتا ہوں، جب تک ان میں کا کوئی ایک ساتھی اپنے دوسرے ساتھ کے ساتھ خیانت نہ کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حدیث کو لفظی طورپر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دوآدمی اگر خدا کے لیے آپس میں متحد ہوجائیں تو ان کے ساتھ خدا خود ایک تیسرے رکن کی حیثیت سے شریک ہوجاتا ہے اور جس اتحادی مجموعہ میں خود خدا شریک ہوجائے اس کی طاقت بلا شبہہ بے پناہ حد تک بڑھ جاتی ہے۔ ان کا اتحاد ناقابل تسخیر حد تک مضبوط ہوجاتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ یہ ایک سادہ فطری حقیقت ہے ۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جب کچھ لوگ صرف اللہ کی خاطر متحد ہوں تو ان کی نفسیاتی حالت عام لوگوں سے مختلف ہوجاتی ہے۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر معاملے کو اپنی ذات کی نظر سے دیکھنے کے بجائے خدا کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ انہیں اگر اپنے ساتھی سے کوئی شکایت ہو تو وہ یہ سوچ کر اسے بھلا دیتے ہیں کہ میں تو خدا کے لیے متحد ہوا ہوں نہ کہ کسی انسان کے لیے۔ کسی موقع پر اگر ان کی انا کو چوٹ لگتی ہے تو وہ اس کا اثر نہیں لیتے کیوں کہ وہ پہلے ہی اپنی اَنا کو خدا کے لیے چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ اجتماعی زندگی میں انہیں کوئی نقصان پہنچاتا ہے تو وہ اس کی پروا نہیں کرتے۔ کیوں کہ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ میںنے آخرت کا فائدہ لینے کے لیے اس اتحاد میں شرکت کی ہے نہ کہ دنیا کا فائدہ لینے کے لیے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

حقیقت یہ ہے کہ خدا کے لیے متحد ہونا اپنے آپ میںایک طاقت ہے۔ خدا کے لیے متحد ہونے والے لوگوں میں وہ مزاج بن جاتا ہے جو اختلاف کا قاتل ہے۔ یہ رباّنی مزاج اس بات کی ضمانت بن جاتا ہے کہ کوئی بھی اختلافی سبب ان کے اتحاد کو نہ توڑے۔ وہ تمام اختلافات کو بھلا کر پوری مضبوطی سے اتّحاد کی رسّی کے ساتھ بندھے ہوئے رہیں۔

اتحاد کی یہ برکت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک اتّحادیوں میں خیانت کی ذہنیت نہ پیدا ہو۔ خیانت کیا ہے۔ خیانت یہ ہے کہ ایک شریکِ اتّحاد دوسرے شریکِ اتّحاد کا خیر خواہ نہ رہے، ایک شریکِ اتّحاد، دوسرے شریک اتّحاد کو غیر سمجھ لے۔ جب لوگوں میں یہ نفسیاتی برائی آجائے تو لوگوں کے دل ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ ان میں ایک دوسرے کو اپنا سمجھنے کا مزاج باقی نہیں رہتا۔ وہ ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ جب ایسا ہو جائے تو ان کے اتحاد کی تمام اینٹیں ہل جاتی ہیں۔ ان کا آپس کا جوڑ ختم ہوجاتا ہے۔ اتّحاد کے افراد پہلے اگر جمی ہوئی اینٹوں کے مانند تھے تو اب وہ بکھری ہوئی اینٹوں کے مانند ہوجاتے ہیں۔ اب ان کا اتحاد بھی ختم ہوجاتا ہے اور ان کی طاقت بھی۔

اتحاد پیدا ہونا نہایت آسان ہے، مگر اتحاد کو باقی رکھنا اتنا ہی مشکل ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اتحاد کے بعد لازماً آپس میں شکایتیں پیدا ہوجاتیں ہیں۔ ایک کو دوسرے سے نقصان پہنچتا ہے۔ اب لوگوں کے لیے دو راستے ہوتے ہیں۔ ایک خیانت کا اور دوسرا اخلاص کا۔ اتحادی افراد میں جب خیانت کامزاج آجائے تو ان کی شکایتیں بڑھتی رہیں گی۔یہاں تک کہ ان کا اتّحاد ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوجائے گا۔ اس کے برعکس جب لوگوں میںاخلاص کا مزاج ہو تو ہر شکایت پیدا ہوتے ہی ختم ہوجائے گی۔ کوئی بھی شکایت اختلاف کے درجے تک نہ پہنچے گی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content