نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (5 اگست2010 ) میں ایک خبر اِس عنوان کے تحت چھپی ہے۔ پاکستان کے ایک ہندو نوجوان کے تابوت پر ’’کافر‘‘ کا ٹیگ لگایا گیا :
Pak Hindu youth’s coffine tagged 'Kafir'.
خبر میں بتایا گیا ہے کہ 28 جولائی 2010 کو پاکستان کا ایک ہوائی جہاز گر کر تباہ ہوگیا۔ اِس جہاز میں کُل 152 مسافر تھے، جو سب کے سب مر گئے۔ اِن مسافروں میں پاکستان کا ایک ہندو نوجوان پریم چند (25سال) تھا۔ وہ بھی اِس حادثے میں ختم ہوگیا۔ مردہ لاشوں کا جب تابوت تیار کیاگیا تو اُن میں سے ایک تابوت مذکورہ ہندو نوجوان کا بھی تھا۔ عام اصول کے مطابق، اِس تابوت پر ہندو نوجوان کا صرف نام لکھنا چاہیے تھا، لیکن پیک کرنے والوں نے اس کے تابوت پر نمایاں حروف میں ’’کافر‘‘ لکھ دیا:
The coffin of a promising young Pakistani Hindu social worker, killed in the recent airliner crash here, has been marked as 'kafir' or infidel, causing anguish and revulsion among his friends and netizens. Prem Chand, 25, a bright spark from the minority Hindu community, was a member of the National Youth Parliament and was heading to Islamabad from Karachi to attend the organisation's last session when the Airblue flight crashed into the Margallah Hills on July 28, killing all 152 people on board. Ehsan Naveed Irfan, a youth parliamentarian who identified Prem Chand's body, said the coffin was first marked in black with the word 'kafir' and this was then highlighted in red. (p. 13)
پاکستانی فضائیہ کے ذمے داروں کے اندراگر انسانی ہمدردی کا جذبہ ہوتا تو وہ تابوت پر صرف ہندو نوجوان کا نام لکھتے۔ اور اگر ان کے اندر دعوتی جذبہ ہوتا تو وہ درد مندی کے ساتھ یہ سوچتے کہ ہمارے ملک کا ایک شخص کم عمر ی میں اس دنیا سے چلا گیا اور ہم یہ نہ کرسکے کہ اپنی ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے اُس کو خدا کا پیغام پہنچا دیں — کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جن کے اندر نہ انسانی ہمدردی ہے اور نہ دعوتی تڑپ۔ اِس کے باوجود وہ اپنے آپ کو اسلام کا سب سے بڑا نمائندہ سمجھتے ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔