سعودی عرب (مدینہ) میں قرآن کی اشاعت کے لیے ایک بڑا ادارہ قائم ہے۔ اس کا نام یہ ہے: مجمع الملک فہد لطباعۃ المصحف الشریف۔ اِس ادارے کے تحت 2007 میں انگریزی زبان میں ایک کتاب چھاپی گئی ہے۔اِس کتاب میں قرآن کے انگریزی تراجم وتفاسیر کا تعارف اور تجزیہ کیا گیا ہے۔ یہ کتاب 474 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کے مصنف پروفیسر عبد الرحیم قدوائی ( مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ) ہیں۔ اس کتاب کا پورانام یہ ہے:
Bibliography of the Translations of the Meanings of the Glorious Quran into English: (1649-2002) A Critical Study
اِس کتاب میں قرآن کے 47 انگریزی تراجم وتفاسیر کا ذکر ہے۔ یہ تراجم پچھلے ساڑھے تین سو سال کے درمیان کئے گئے ۔ اِن کے مترجمین میں مسلم نام بھی ہیں اور غیر مسلم نام بھی۔ کتاب میں درست طورپر یہ اعتراف کیاگیا ہے کہ یہ انگریزی تراجم مغربی دنیا میں یا انگلش اسپیکنگ دنیامیں مقبول نہ ہوسکے۔ یہ ترجمے اگر چہ لوگوں کے درمیان تقسم کئے گئے، لیکن مطالعے کے اعتبار سے وہ عملاً مقبول نہ ہوسکے۔ یہ بات بجائے خود واقعہ ہے، لیکن کتاب میں اِس کی نشان دہی موجود نہیںکہ اِس غیرمقبولیت کا اصل سبب کیا تھا۔
انگریزی ترجموں کی اِس غیر مقبولیت کا اصل سبب یہ تھا کہ یہ ترجمے قرآنی اسلوب کی اصل خصوصیت سے محروم تھے، وہ خصوصیت قرآن کی اِس آیت میں بتائی گئی ہے: ولقد یسَّرنا القرآن للذکر (54: 17) یعنی ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے۔ اس آیت میں آسانی سے مراد وضوح ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کے اسلوب میں سادگی اور وضوح بدرجۂ اتم (par excellence) پایا جاتا ہے۔ اِسی امتیازی خصوصیت کی بنا پر قرآن نے عربوں کے ذہن کو مسخر کرلیا۔ مگر عجیب بات ہے قرآن کے انگریزی ترجموں میں قرآنی اسلوب کی یہی امتیازی خصوصیت موجود نہیں۔ یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر قرآن کے انگریزی تراجم، انگریزی دانوں کے درمیان زیادہ مقبول نہ ہوسکے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔