خباب بن الاَرتّ ایک مشہور صحابی ہیں۔ 37 ہجری میں 73 سال کی عمر میں کوفہ (عراق) میںان کا انتقال ہوا۔ مکی دور کے آخر کا واقعہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت کعبہ کے سائے میں ایک کمبل کے تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے آپ سے کہا: اے خدا کے رسول، کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے۔ آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔ آپ نے فرمایا: تم سے پہلے کی امتوں کا یہ حال تھا کہ ان کے اوپر لوہے کی کنگھی کی جاتی تھی جو اُن کے گوشت سے گزر کر ان کی ہڈیوں تک پہنچ جاتی تھی، مگر یہ چیز ان کو ان کے دین سے پھیرتی نہیں تھی۔ اِسی طرح اُن کے سر پر آرا چلایا جاتا تھا جو اُن کے جسم کے دو ٹکڑے کردیتا تھا، مگر یہ چیز ان کو ان کے دین سے پھیرتی نہیں تھی۔ اور اللہ اس امر کو ضرورپورا کرے گا، یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا اور اس کو اللہ کے سوا کسی اور چیز کا خوف نہ ہوگا (لیتمّنّ اللہ ہذا الأمر حتی یسیر الراکب من صَنعاء إلی حضر موت، ما یخاف إلاّ اللہ) صحیح البخاری، کتاب مناقب الانصار۔
اِس حدیث میں در اصل تاریخِ دعوت کے دو دور کو بتایا گیا ہے، پہلا دور وہ ہے جب کہ دعوت الی اللہ کا کام مذہبی تعذیب (religious persecution) کے حالات میں ہوتا تھا۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ یہ ممکن ہوجائے گا کہ دعوت الی اللہ کا کام مذہبی آزادی (religious freedom) کے حالات میں انجام دیا جانے لگے۔ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ ساتویں صدی عیسوی میں جو انقلابی عمل شروع ہوا، وہ دونوں کے درمیان حد فاصل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ انقلابی عمل (revolutionary process) اب اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے۔ اب پوری طرح یہ ممکن ہوگیا ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام پوری آزادی کے ساتھ کسی روک ٹوک کے بغیر انجام دیا جاسکے، صرف اِس واحد شرط کے ساتھ کہ داعی، تشدد (violence) سے مکمل طورپر پرہیز کرے، وہ کامل طورپر پر امن طریقِ کار پر قائم رہے۔ یہ تبدیلی اب پیشین گوئی نہیں ہے، بلکہ وہ اب پوری طرح واقعہ بن چکی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔