Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala December 2020
Al-Risala December 2020

سوال و جواب

Urdu · 5 min read

9 اکتوبر 2010 کو نئی دہلی کے اردو اخبار ’’راشٹریہ سہارا‘‘ میں بابری مسجد کے موضوع پر آپ کا ایک مضمون شائع ہوا۔ اِس مضمون کو دیکھنے کے بعد دو مسلمانوں کے درمیان جوگفتگو ہوئی، وہ اِس طرح تھی۔ ایک نے کہا: کیا مولانا نے بابری مسجدہندوؤں کو دے دی ۔ دوسرے مسلمان نے جواب دیا: وہ تو بہت پہلے دے چکے ہیں۔ براہِ کرم، اِس تبصرہ پر روشنی ڈالیے۔ (محمد شارق ، نئی دہلی)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ تبصرہ محض بے شعوری کا ثبوت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ تمام مسلمان بابری مسجد کو عملاً چھوڑچکے ہیں، بابری مسجد اب اُن کا حقیقی کنسرن (concern) نہیں۔ اب ہر مسلمان، بشمول مذکورہ تبصرہ نگار، مکمل طورپر مادّی ترقی کو حاصل کرنے میں مشغول ہے۔ وہ اگر بابری مسجد کا ذکر کرتا ہے تو وہ صرف لپ سروس(lip service) کے طور پر ہوتا ہے۔

اِس حقیقت پر غور کیجئے تو راقم الحروف اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان جو فرق ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ میںنے بابری مسجد کو دے دیا اور بقیہ مسلمانوں نے نہیں دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’دینے‘‘ کے واقعے کا تعلق دونوں طرف سے ہے، فرق صرف یہ ہے کہ میںنے اِس معاملے میں جو رویہ اختیار کیا ہے، وہ شعوری طور پر ایک اصول کے تحت اختیار کیا ہے، جب کہ دوسرے مسلمانوں نے اپنا رویہ ذاتی انٹرسٹ (مفاد) کے تحت بنایا ہے، یعنی زبانی طورپر بابری مسجد کا نام لینا اور عملاً اُس سے پوری طرح غیر متعلق ہو کر اپنے دنیوی بہبود کے لیے مصروف رہنا۔

مزید یہ کہ راقم الحروف نے کبھی وہ لفظ استعمال نہیں کیا جو مذکورہ تبصرہ میں میری طرف منسوب کیاگیا ہے۔ اگر کسی کو اِس معاملے میں میرا نقطہ نظر بتانا ہے تو اس کو خود میرا لفظ استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ اپنا لفظ۔ 6 دسمبر 1992کو میں نے جو کچھ کہا تھا، وہ یہ تھا — ایک مسجد پر مسلمان چپ ہوجائیں، اور ایک کے بعد دوسری مسجدوں پر ہندو چپ ہوجائیں۔ اُس وقت تمام مسلمان اِس پر غصہ ہوگئے تھے، لیکن آج حالات کے دباؤ کے تحت، تمام مسلمان اس کو عملاً اختیار کرچکے ہیں۔ اِ س دنیا کا قانون یہ ہے کہ اگر آپ ایک بات کو اصول کے تحت نہ مانیں تو آپ کو اُسے دباؤ کے تحت ماننا پڑے گا، اور اِسی کا دوسرا نام منافقت ہے۔

بابری مسجد کے معاملے میں دوسرے لوگ جو رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے صرف منافقت ہے، نہ کہ اصول پسندی۔ جو آدمی بابری مسجد کے منہدم کئے جانے کے واقعے کو ظلم کا معاملہ سمجھتا ہے، اُس کو جاننا چاہیے کہ اِس معاملے میں صرف الفاظ بولنا کافی نہیں ہے، بلکہ اُس کو ’’مجاہد‘‘ بن کر اجودھیا پہنچ جانا چاہیے۔ اپنے کاروبار میںمشغول رہتے ہوئے صرف زبان سے مذکورہ قسم کے الفاظ بولنا، واضح طور پر منافقانہ رویہ ہے اور منافقت سے زیادہ بُری کوئی چیز اسلام میں نہیں (4: 145)۔ اِس قسم کی بولی بلا شبہہ منافقانہ بولی ہے، نہ کہ مومنانہ بولی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آج ساری دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے جذبات ابھارے جارہے ہیں۔ کہیں کارٹون بنانے کے واقعات پیش آرہے ہیں تو کہیں قرآن کریم کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔ایسی صورت میں امتِ مسلمہ کا کیا رول ہونا چاہیے (جیسا کہ ظلم وستم کو روکنے کا حکم ہے اور نہ روک سکیں تو دعا کرنے کا حکم) برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میںجواب دیں، جیسا کہ آپ کرتے ہیں۔ یہ بتائیں کہ مسلمان روکنے کی پوزیشن میں ہیں یا صرف دعا کرنے کی پوزیشن میں۔آپ کی بات اور آپ کا انداز سب سے جدا ہے اور مجھے مطمئن کرنے والا ہوتا ہے۔ (حماد احمد، نئی دہلی)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ کہنا درست نہیں کہ مسلمانوں کے جذبات ابھارے جارہے ہیں، یا اُن کو مشتعل کیا جارہا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمان بعض واقعات پر غیر ضروری طورپر مشتعل ہو رہے ہیں، وہ غیر ضروری طور پر ان واقعات پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ قرآن اور حدیث میں صبر وتحمل پر بہت زیادہ زور دیاگیا ہے، حتی کہ نماز سے پہلے صبر کا حکم ہے: استعینوا بالصبر والصلاۃ (2: 45) ۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ نماز تو دھوم سے پڑھتے ہیں، لیکن وہ صبر کو پوری طرح چھوڑے ہوئے ہیں۔ اِس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ مسلمان خود اپنے رویے کو بدلیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ نے لکھا ہے کہ اِس معاملے میں مسلمان کیا کریں، وہ اِن واقعات کو روکیں یا وہ اُس کے لیے دعا کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس معاملے میں مسلمانوں کو خود اپنے آپ کو روکنا ہے اور خود اپنے لیے دعا کرنا ہے۔ کارٹون کا واقعہ یا قرآن کی بے حرمتی جیسی خبریں سن کر بھڑک اٹھنا، یہی مسلمانوں کی اصل غلطی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ جب وہ ایسی کوئی خبر سنیں تو وہ فوراً متعلق افراد سے ملیں اور اُن کو اسلامی لٹریچر پڑھنے کے لیے دیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا میں ہر انسان کو مصلحتِ امتحان کی بنا پر آزادی دی ہے۔ مذکورہ قسم کا کوئی واقعہ خدا کی دی ہوئی آزادی کا صرف ایک غلط استعمال ہوتا ہے۔ چوں کہ آپ آزادی کو ختم نہیں کرسکتے، اس لیے اُس کے خلاف لڑنا بھی آپ کے لیے درست نہیں۔ آپ صرف یہ کرسکتے ہیں کہ تبلیغ ونصیحت کے ذریعے اُس آدمی کی سوچ کو بدلیں، اسلام کے صحیح تعارف کے ذریعے اُس کے ذہن کو درست کریں اور اس کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا کریں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content