ایک پاکستانی مسلمان جو پروفیشن کے اعتبار سے ڈپلومیٹ (diplomate)تھے، انھوں نے ایک امریکن لڑکی سے شادی کی جو کہ کرسچن تھی۔ اس سے ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام داؤد (David Coleman Headley) تھا۔
جیسا کہ اس کے چچا نے بتایا، نوجوانی کی عمر تک ہیڈلی ایک معتدل اور امن پسند مسلمان تھا،لیکن بعد کو وہ بہت بڑا ملٹنٹ بن گیا۔ 26 نومبر 2008 کو بمبئی پر حملے کا وہی ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس نے ڈنمارک کے کارٹونسٹ کے خلاف قاتلانہ حملے کا منصوبہ بنایا۔ اس کی اِن متشددانہ کارروائیوں میں سیکڑوں آدمی ہلاک ہوگئے، وغیرہ۔
داؤد ہیڈلی کس طرح ایک ملٹنٹ مسلمان بن گیا، اِس کاراز اُس نے خود اپنے اُس بیان میں بتایا جو اُس نے شکاگو کی امریکی عدالت میں دیا تھا۔ اِس بیان میںاُس نے کہا کہ — پاکستان کے شعلہ بار مقرر جو انڈیا کے خلاف نفرت سے بھری ہوئی تقریریں کرنے کے لیے مشہور ہیں، ان کی تقریریں سن کر میں ملٹنٹ بن گیا۔ اس نے خود یہ اعتراف کیا کہ وہ حافظ سعید کی تقریروں سے متاثر ہوا:
Hafiz Mohammad Saeed the hate-spewing jihadi ideologue. But given that Headly has already acknowledged having been inspired by Saeed’s anti-India rehetoric and his testimony about the involvement of Lashkar commanders in the Mumbai plot. (The Times of India, March 20, 2010)
یہ مثال موجودہ زمانے میں پوری امتِ مسلمہ کی تصویر ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر ایسے جذباتی رہنما پیدا ہوئے جن کی پر شور خطابت (rhetoric) نے مسلمانوں کو دیوانہ بنادیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو حدیث میں الثرثارون (الترمذی، رقم الحدیث:2018 )کہاگیا ہے۔ یہی رہنما موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تباہی کے اصل ذمے دار ہیں۔رہنمائی کا کام صرف اُس شخص کو کرنا چاہیے جو غیرجذباتی انداز میں سوچے اور غیر جذباتی بنیادوں پر فیصلے لے سکے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔